بنگہ دیش حکومت کا قابل تحسین اقدام

zaheer-babar-logoیہ اعلان یقینا خوش آئند ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے میانمار سے آنے والے چار لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے کے لیے جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے، ادھر تاحال یہ واضح نہیں کہ بنگہ دیشی حکومت کے رویہ میںں روہنگیا مسلمانوں بارے یہ تبدیلی کیونکر رونما ہوئی ۔ بعض حلقوں کے مطابق حسینہ واجد کی جانب سے یہ پیش رفت دکھانے میں ترکی اور چند عالمی امدادی اداروں کا عمل دخل ہے۔ بنگلہ دیش حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امدادی ادارے فوج کے تعاون سے آئندہ دس روز میں نیا کیمپ بنائیں گے، جس میں 14 ہزار عارضی پناہ گاہیں تعمیر کی جائیں گی۔
اس میں شبہ نہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کا درد ایک طرف دنیا بھر کے مسلمان محسوس کررہے وہی غیر مسلم ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر غم زدہ ہیں۔ نہتے روہنگیا مسلمانوں کی جس منعظم انداز میں نسل کشی کی جارہی وہ حالیہ انسانی تاریخ میں بدترین اقدام کہا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر روہنگیا مسلمان جائیں تو جائیں کہاں؟۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ مہاجرین کی بڑی تعداد بے بنگہ دیش کا رخ کیا ہے چنانچہ روہنگیا کے پرانے کیمپ کے ساتھ بننے والے اس بنگہ دیش حکومت کی جانب سے بنائے گے نئے کیمپ میں 14 ہزار رہائش گاہوں کا بندوست کیا جارہا ہے جس میں سے ہر ایک یونٹ میں چھ خاندان رہائش پذیر ہوں گے۔
ماہ میانمار کی حکومت تاحال اپنے ہاں جاری مظام سے انکاری ہے۔ صوبے رخائن میں ہونے والے پر تشدد فسادات کے سبب اب تک روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد زندگی اورموت کی کشمکش میں ہے مگر نام نہاد جمہوریت کی خاطر جدوجہد کرنے والے آن سوچی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ تازہ پیش رفت میں
میانمار اور بنگلہ دیش کی حکومت کے درمیان روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر حالات کشیدہ ہوچکے۔
بنگہ دیش نے نے میانمار پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔اس کے بعقول میانمار کے فوجی ہیلی کاپٹر وں نے گذشتہ تین دن میں کئی بار بنگلہ دیش کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ۔ اس ضمن میں حکام میانمار کے ایلچی کو طلب کر کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر احتجاج ریکارڈ کروایا اور اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی وزیر اعظم حسینہ واجد ایک سے زائد مرتبہ کہہ چکیں کہ میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کا مسلہ حل کرے اور اور بنگہ دیش میں آنے کی حوصلہ شکنی کرے۔ میانمار حکومت ککی سفاکیت کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ نے روہنگیا اقلیت کے خلاف کارروائیوں کو نسل کشی قرار دے چکا۔صورت حال کا جائزہ لینے والے انسانی حقوق کی عالمی تنظمیں کہ چکیں کہ میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کے مکانات کو نذرِ آتش کیا ہے مذید یہ کئی جہگوں پر بدھ مت کے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کی مرتکب ہوئی ۔
اقوام متحدہ کے مطابق میانمار میں پر تشدد واقعات کے بعد چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کی اقلیت نے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ۔ بنگلہ دیش حکومت نے پناہ گزینوں کی رہائش کے لیے زمین کا بڑا خطہ خالی کروا یا ہے جہاں 80 ہزار خاندانوں کو رہائش دی جائے گی۔ بتایاگیا ہے کہ پناہ گزینوں کا نیا کیمپ آٹھ کلو میٹر کے رقبے پر بنایا جائے گا اور یہ روہنگیا اقلیت کے پہلے سے آباد کیمپ کے قریب ہے۔
مذکورہ کیمپ میں 8500 عارضی بیت الخلا اور عارضی مکان بنائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق نئے کیمپ میں چار لاکھ افراد پناہ لے سکتے ہیں اور اس کی تعمیر دس روز میں مکمل ہو جائے گی۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کو روبیلا اور پولیو ویکسین پلانے کی مہم شروع کی جائے گی۔ میانمار میں کم وبیش دس لاکھ روہنگیا مسلمان بستے تھے. میانمار حکام کے بعقول یہ مسلمان بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ نیا نہیں ۔ دراصل رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے جس میں بڑی تعداد میں مسلمان قتل وغارت گری کا نشانہ بن چکے ہیں۔
غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ مارے جانے والے لوگوں میں قابل زکر تعداد مسلمانوں کی ہے ان دنوں بھی فسادات کے نتیجے میں کم وبیش ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ۔ روہنگیا مسلمانوںکی حالت زار اب پوشیدہ نہیں رہی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ معاملہ کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں سے کہیں بڑھ کر انسانی المیہ ہے۔ نہتے مردوں ، عورتوں ، بچوں اور بزرگوں کا قتل عام کرنے والوں کی محض مذمت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ عالمی برداری کو ان کے خلاف بھرپور اقدمات اٹھانے چاہیں۔ روہنگیا مسلمان خستہ کیمپوں میں رہ رہے ۔ آج روہنگیا وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑرہا ۔ اکسیوں صدی میں بھی اگر ان لاکھوں مظلوموں کی داد رسی نہیں کی جائیں گی تو انسانی حقوق کی دہائی دینے والوں پر کوئی یقین نہیں کریں گا۔جاری صورت حال میں بیشتر مسلم ممالک کا کردار شرمناک ہے۔ اوآئی سی کا روہنگیا مسلمانوں بارے اجلاس تو ضرور ہوا مگر ایسے ٹھوس اقدمات تاحال نہیں اٹھائے جاسکے جو مظلوموں کی مشکلات کم کرنے کی فوری امید دلا دیں۔ دراصل ایک خدا ایک رسول ﷺ اور ایک قرآن کو ماننے والوں کے برعکس روہنگیا خاندانوں کے لیے غیر مسلموں کا متحرک ہونا مسلم دنیا کی حالت زار بیان کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔

Scroll To Top