دلوں کا وزیراعظم اور اللہ کے باغی

ahmed-salman-anwer-izhar-khiyalاللہ کے نبی آخر الزماںﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جب کوئی برائی دیکھو تو اس کو ہاتھ سے روکو، اور اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو، اور اگر زبان سے بھی نہیں روک سکتے تو کم ازکم اس کو دل میں برا جانو، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“۔
پانامہ کیس میں ناجائز ذرائع یعنی کرپشن کے ذریعے اثاثہ جات بنانے پر میاں نوا ز شریف کی نااہلی اس وقت ملکی سیاست کا محور بنی ہوئی ہے۔مبینہ طور پر کرپشن ، کک بیکس اور کالے دھن سے بنائے ہوئے ارب ہا روپے کے اثاثہ جات میاں نواز شریف ہی نہیں بلکہ پورے شریف خاندان کے سر پر تلوار کی مانند لٹک رہے ہیں، جن ذرائع بتانے سے پورا خاندان قاصر ہے۔ اس معاملہ کو حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو پانامہ کیس میں عمران خان، سراج الحق ، شیخ رشید وغیرہ کا کردار اس حد تک قابل تحسین ہے کہ وہ حصول انصاف کے لیے اس کیس کے پیچھے ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں لیکن پانامہ کیس کو منظر عام پر لانے میں ان کا کوئی کردار نہیں یہ بلاشبہ رب العزت کی طرف سے ان کرپٹ اور بے ایمان حکمرانوں کی دنیا بھر میں پکڑ ہے جو اپنے منصب کا فائدہ اٹھا کر غریب اور محکموم عوام کا مال اورحق لوٹتے آئے ہیں۔ اس کیس کی شنوائی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں ہوئی اور نواز شریف نااہلی ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن کے ملزم قرار پائے ہیں۔ جس بنا پر اب احتساب عدالت میں پورے شریف خاندان کے خلاف بدعنوانی کے کیس دائر ہو چکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے اوپر تنقید کرنے والے نافہموں کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ؓ ایک یہودی کی طرف سے زرہ کی ملکیت کے کیس میں قاضی کی عدالت میں پیش ہونے اعلیٰ ترین مثال ہے۔ وہ بھی کیس اثاثہ کے متعلق ہی تھا۔ جس پر قاضی الوقت نے فیصلہ یہ سنایا کہ حضرت علیؓ چونکہ زرہ کی ملکیت ثابت نہ کر پائے اس لیے یہ یہودی کو لوٹا دی جائے۔ خلیفہ الوقت ، داماد رسولﷺ نے بنا کسی حیل وحجت کے فیصلہ کو قبول کر کے رہتی دنیا تک ایک واضح اصول قائم کر دیا۔
اب بات ہے میاں نواز شریف اور ان کے حواریوں کی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد میاں نواز شریف اس بات کے ملزم ہیں کہ وہ کرپشن جیسی بھیانک برائی میں ملوث ہیں۔ لیکن ان کے حواری اور پیروکار کھلے بندوں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کرپشن کے ذریعے ناجائز اثاثے بنانے میں ملوث قراردیئے جانے والے میاں نواز شریف ”ہمارے دلوں کے وزیراعظم ہیں“۔ یعنی وہ اللہ کے نبی ﷺکے فرمان سے باغی ہیں کہ برائی کو دیکھو تو کم ازکم اس کو دل میں برا جانو، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“۔ بلکہ و ہ حدیبیہ کیس سے لے کر پانامہ کیس تک کرپشن میں ڈوبے اس شخص کو دلوں کا راجا قرار دیے جا رہے ہیں،یہ صریحاً اللہ رب العزت سے جنگ کے مترادف ہے کیوں اللہ کے نبیﷺنے جو فرمایا وہ عین اللہ رب العزت کی رضا اور احکامات کے مطابق ہے یعنی ہمارا ایمان ہے اور اسلام کی روح بھی۔
یقیناً ایسا کرنے والوں کو دنیا میں ملنے والے چند مفادات اور مال و زر کے بجائے اللہ اور اس کے پیارے نبیﷺ کے فرموادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اس عمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تاریخ انسانی شاہد ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ? سے بغاوت ، ہلاکت و تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

Scroll To Top