تاریخ اسلام

عبدالملک بن مہلب نے اپنے ہمراہی سواروں کو لے کر اچانک عبدالرحمن پر حملہ کیا جب کہ وہ حجاج کے کیمپ کو لوت کر اور میدان سے بھگا کر اپنے لشکر گاہ مین مظفر و فتح مند واپس آیا تھا۔ اس اچانک حملہ نے عبدالرحمن کے ہمراہیوں کو سراسیمہ کر دیا اور وہ بھاگ پرے بہت سے خندقوں میں گر کر ہلاک ہوے بہت سے مارے گئے بہت سے اپنی جان سلامت لے گئے۔
حجاج جو شکست پاچکا تھا واپس آکر عبدالرحمن بن محمد کے لشکر گاہ پر قابض ہوا۔ اس شکست کے بعد عبدالرحمن بن محمد بصرہ سے سوس سابور۔ کرمان، زرنج، بست ہواتا ہوا رتبیل شاہ ترکستان کے پاس چلا گیا۔ عبدالرحمن بن محمد کے ہمراہیوں نے سجستان کے قریب جمع ہو کر عبدارلرحمن بن عباس بن ربیعہ بن حرث بن عبدالمطلب کو اپنی نمازوں کا امام بنایا اور اپنے ساتھیوں کو ہر طرف سے بلایا اور عبدالرحمن بن محمد کے اس پیغام بھیجا کہ تم واپس چلے آو¿ اور خراسان پر قبضہ کر لو۔ عبدالرحمن بن محمد نے کہا کہ خراسان پر یزید بن مہلب حکمران ہے خراسان کا اس سے چھین لینا آسان کام نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے باصرار عبدالرحمن بن محمد کو بلوایا وہ رتبیل کے پاس سے رخصت ہو کر آیا۔ان لوگوں کی تعداد بیس ہزار تھی ان کو لے کر ہرات کی طرف گیا ہرات پر قبضہ کیا۔ یزید بن مہلب فوج لے کر مقابلہ پر آیا جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو لڑائی شروع ہونے سے پیشتر ہی عبدالرحمن بن محمد کے لشکری میدان سے بھاگنے لگے۔ مجبوراً عبدالرحمن بن محمد نے اپنے چند ہمراہیوں سے مقابلہ کیا بہت سے مقتول و گرفتار ہوئے۔ عبدالرحمن بن محمد وہاں سے سندھ کی طرف بھاگا۔ یزیز نے اپنی فوج کو تعاقب کرنے سے روک دیا۔ عبدالرحمن بن محمد سند ھ پہنچ گیا۔ یزید نے جنگ ہرات میں جن لوگوں کو قید کیا تھا انہیں مرولے جا کر وہاں سے حجاج کے پاس بھیج دیا۔ انہیں قیدیوں میں محمد بن سعد بن ابی وقاص بھی تھے جو حجاج کے حکم سے قتل ہوئے۔ عبدالرحمن بن محمد بن اشعت سندھ سے رتبیل کے پاس چلا گیا اور وہاں جا کر سل کے عارضہ میں بیمار ہو گیا۔ حجاج نے رتبیل کو لکھا کہ عبدالرحمن بن محمد کا سرکاٹ کر بھیج دو تو دس برس کا خراج تم کو معاف کر دیا جائے گا۔ رتبیل نے اس بیمار کا سرکاٹ کر حجاج کے پاس بھیج دیا۔ یہ واقعہ سن ۴۸ ہجری کا ہے۔
شہر واسط کی آبادی
اوپر پڑھ چکے ہو کہ عبدالرحمن بن محمد کے مقابلہ کی غرض سے حجاج کو عبدالملک کے پاس سے بار بار فوجی امداد طلب کرنی پڑی تھی۔ جب عبدالرحمن بن محمد عراق سے بے دخل ہو کر سجستان کی طرف واپس آیا ہے تو حجاج کے پاس شامی لشکر بہت زیادہ تعداد میں موجود تھا۔ اہل کوفہ و بصرہ کی طرف سے حجاج کو اطمینان نہ تھا کیونکہ عبدالرحمن بن محمد کے ساتھ شریک ہو کر لڑنے والے اہل کوفہ و اہل بصرہ ہی تھے۔لہٰذا شامی لشکر کو ایک عرصہ تک کوفہ میں اپنے پاس رکھنا نہایت ضروری تھا۔ اول حجاج نے حکم دیا کہ شامی لوگ کوفیوں کے گھروں میں قیام کریں لیکن چند ہی روز کے بعد شامی لوگوں نے کوفی عورتوں کے ساتھ بد عنوانیاں شروع کر دیں اس کا حال حجاج کو معلوم ہوا تو اس نے اس شامی لشکر کے لئے ایک الگ چھاو¿نی قائم کرنی ضروری سمجھی۔ چنانچہ اس نے تجربہ کار لوگوں کی ایک جماعت کو مامور کیا کہ وہ چھاو¿نی کے لئے کوئی مناسب مقام تجویز کریں۔ ان لوگوں نے ایک راہب کو دیکھا کہ وہ ایک مقام کو نجاست پاک و صاف کر رہا ہے۔ راہب سے جب اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے جواب دیا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ اس مقام پر عبادت کے لئے ایک مسجد بنائی جائے گی جہاں خدائے تعالیٰ کی عبادت کی جائے گی۔
(جاری ہے)

Scroll To Top