بھارت جموں و کشمیر میں پیلیٹ گنز کا استعمال بند کرے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

بھارتی فورسز کی جانب سے پیلیٹ گنز کے استعمال کی وجہ سے سیکڑوں کشمیری جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ فوٹو : فائل

بھارتی فورسز کی جانب سے پیلیٹ گنز کے استعمال کی وجہ سے سیکڑوں کشمیری جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ فوٹو : فائل

سری نگر: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں فوری طور پر پیلیٹ گنز (چھرے والی بندوقوں) کا استعمال بند کرے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں حکومت کو طاقت کے بے دریغ استعمال پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں 88 کشمیری شہریوں کے انٹرویو بھی شامل کیے جو انڈین فوج کے پیلیٹ گنز کی وجہ سے جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے پیلیٹ گن کی فائرنگ سے کئی کشمیری نوجوان مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوئے۔

View image on Twitter

آکارپٹیل کا کہنا تھا کہ  مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلیٹ گنز کا استعمال درست نہیں اور یہ جانتے ہوئے کہ ان کے استعمال سے جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے بھارتی فورسز کی جانب سے اسے مظاہرین کے خلاف استعمال کرنا انتہائی غیرذمہ داری کا مظاہرہ ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں 2010 سے پیلیٹ گنز کا استعمال کررہی ہے اور اسے بے ضرر قرار دیتی ہے تاہم گزشتہ برس حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد اٹھنے والی احتجاج کی نئی لہر کے دوران پیلیٹ گنز کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں کشمیری جزوی طور پر بینائی سے محروم ہوگئے۔

Scroll To Top