تاریخ اسلام

12300965386_2a143d63b4_bیہ لڑائی عرصہ تک جاری رہی ہر روز دونوں طرف کی فوجیں میدان میں نکلتیں اور ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتیں لیکن کو ئی فیصلہ جنگ کا نہ ہوتا تھا۔ آخر عبدالملک نے اپنے بیٹے عبداللہ اور اپنے بھائی میں بن مروان کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ کو فہ کی طرف روانہ کیا اور اہلِ عراق کی طرف ان دونوں کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ
” ہم حجاج کو معزول کئے دیتے ہیں۔ اہل عراق کے وظائف مثل اہلِ شام کے مقرر کردیں گے۔ عبدالرحمن بن محمد جس صوبہ کی حکومت پسند کرے اُس کو دے دی جائے گی۔“
حجاج کو اس پیغام کا حال معلوم ہو کر سخت صدمہ ہوا اُس نے عبداللہ و محمد کو اس پیغام کے پہنچائے سے روک کر عبدالملک کو خط لکھا کہ اس طرزِ عمل سے اہلِ عراق کبھی آپ کے مغلوب و محکوم نہ ہوں گے اور اُن کی سرکشی ترقی کرے گی۔ لیکن عبدالملک نے حجاج کی بات کو نا پسند کیا اور عبداللہ و محمد نے عبدالملک کا پیغام اہلِ عراق تک پہنچا دیا۔
اہلِ عراق کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی تھی اور عبدالرحمن بن محمد اس کے تسلیم کرنے پر آمادہ تھا لیکن لشکریوں نے اس بات کو نہیں مانا اور سب نے مخالفت میں آواز بلند کر کے عبدالملک کے خلعِ خلافت کے لئے تجدید بیعت کی۔ عبداللہ و محمدیہ صورت دیکھ کر اپنی فوج حجاج کے پاس چھوڑ کر خود عبدالملک کے پاس واپس چلے گئے۔ اب طرفین میں تازہ جوش اور تازہ تیاریوں کے ساتھ بھی برے زور کی لڑائی شروع ہوئی اور ایک سال تک برابر لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ طرفین ہر روز اپنے اپنے مورچوں سے نکل کر نبرد آزما ہوتے اور شام کو اپنے مورچوں میں واپس چلے جاتے ان لڑائیوں میں عبدالرحمن بن محمد کا پلہ بھاری نظر آتا تھا اور حجاج کا نقصان زیادہ ہوتا تھا۔ لیکن حجاج کے پاس شام سے برابر امداد پہنچ رہی تھی۔ آخر۵۱ جمادی الثانی سن ۳۸ ہجری کو ایک بہت بڑی فیصلہ کن جنگ ہوئی ۔ اس لڑائی میں بعض اتفاقی و اقعات کی بنا پر حجاج کو فتح ہوئی اور وہ فوراً کوفہ میں داخل ہو کر قابض ہو گیا۔ عبدالرحمن بن محمد نے وہاں سے بصرہ کا رخ ہو گیا اور حجاج کے عامل کو نکال کر فوراً بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج نے کوفہ والوں سے بیعت لینی شروع کی اور جس نے تاتل کیا اُس کو بلادریغ قتل کیا گیا۔
عبدالرحمن بن محمد کے پاس بصرہ میں ایک بڑا لشکر مجتمع ہو گیا اور اُس نے حجاج پر حملہ کرنے کا قصد کیا۔ حجاج یہ خبر سن کر کوفہ سے ایک زبردست شامی لشکر لے کر بصرہ کی طرف چلا۔ یکم شعبان سن ۳۸ ہجری سے لڑائی شروع ہوئی ۵۱ شعبان تک نہایت زور شور کے ساتھ جاری رہی۔ حجاج کو کئی مرتبہ شکست ہوئی لیکن وہ سنبھل گیا۔ حجا ج کے لشکر میں عبدالملک بن صلب بھی موجود تھا۔ ۵۱ شعبان کو جب کہ عبدالرحمن بن محمد نے حجاج کو شکست فاش دے دی تھی۔
(جاری ہے)

Scroll To Top