محض طاقت کا استعمال کافی نہیں

zaheer-babar-logoبالا آخر حکومت نے انصار الشریعہ پاکستان پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا ۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بتایا کہ انصار الشریعہ پاکستان کے سربراہ اور اس کے چار کارندوں کو گرفتارکرلیا ہے جلد پورے نیٹ ورک کو ختم کردیا جائیگا۔“
ملک بھر میں انہتاپسندی کے خاتمہ کے لیے حکومت کی کوشیش اپنی جگہ مگر انصار الشریعہ جیسی تنظیموں کا بننا اور پھر فعال ہونا بطورقوم ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہےے۔ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ پر مامور اداروں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ آخر کہاں ایسی کمی رہ گی جس کے نتیجے میں ایک اسلامی ملک کے پڑھے لکھے نوجوان تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہورہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ مملکت خداداد پاکستان میں بہت سارے معاملات ہیں جن پر اختلاف کرنے کی گنجائش موجود ہے مگر دین کے نام پر عام وخاص کو قتل کرنا کسی طور پر پسندیدہ نہیں۔ اسلام دین فطرت ہے لہذا اس میں انسانی جذبوں کو اس انداز میں خیال رکھا گیا کہ معاشرے میں انتشار وفساد کی کوئی صورت نہ پیدا ہونے دی جائے۔ انسانی جان کی حرمت کی جو تاکید اللہ تعالی کی آخری کتاب میں ہے اس کی مثال نہیںملتی ۔ مثلا کہا گیا کہ ایک انسان کی زندگی کو بچانا یوں ہے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا گیا اور ایک بے گناہ شخص کا قتل ایسا ہے کہ گویا پوری انسانیت کو قتل کردیا گیا۔
ایک خیال یہ ہے کہ انصار الشریعہ پاکستان نامی گروہ کا سامنے بتارہا کہ مملکت خداداد پاکستان میں تاحال بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ بادی النظر میں نئی نسل کو ان سوالوں کے جوابات نہیں مل رہے جوان کے دل وماغ میں اٹھ رہے ہیں۔ شائد ایک طرف اہل مذہب اپنا فرض پورے جانفشانی سے ادا نہیں کر پارہے تو دوسری جانب سکولوں اور کالجوں میں درس وتدریس میں مشغول استادوں میں سے بھی کئی اپنی زمہ داریوں سے غافل ہیں۔
ہمارے ہاں انتہاپسندانہ رویوں کی پوری تاریخ ہے۔ گذشتہ دہائیوں کے واقعات سے آگاہ حضرات باخوبی جانتے ہیں کہ کب اور کیسے یہاں مخصوص خیالات اور بندوق کے استمال کو فروغ دیا گیا۔ اس ضمن میں سابق صدر ضیاءالحق کے دور کو انتہائی ناپسندیدہ خیال کیا جاتا ہے۔ روس کی افغانستان آمد کے بعد امریکی ایماءپر جو کردار اس وقت کی حکومت نے ادا کیا اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ضیاءالحق کے قومی منظر نامے سے ہٹنے کے باوجود سیاسی حکومتیں اپنی زمہ داریاںاس انداز میں ادا نہ کرسکیں جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ حد تو یہ ہوئی کہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں بھی ریاست اور سماج کو طاقت کے زریعہ بدلنے کے حامی گروہ متحرک رہے۔
نائن الیون کے بعد ملکی پالسیوں میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئیں مگر افسوس کہ ارباب اختیار مسلہ کو گہرائی میں جاکر حل کرنے کی اہلیت اور اخلاص دونوں سے تہی دامن نظر آئے۔ اب تک ہزاروں پاکستانی ایسی جنگ کا ایدھن بن چکے جس کے خاتمہ کی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی۔ اربوں روپے کا نقصان ہونے کے باوصف حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا قیام امن کے لیے دور رس اقدمات نہ اٹھانا لمحہ فکریہ ہے۔ سانحہ صفور اور سانحہ پشاور کے علاوہ بھی ایسے ان گنت دلخراش واقعات رونما ہوچکے جو قومی سطح پر ردعمل کے متقاضی تھے مگر باجوہ کچھ نہ ہوا۔
ایک خیال یہ ہے کہ بطور قوم ہم انسانی جان کی حرمت کے قائل ہی نہیں۔ اسلامی جمہوری ریاست کہلانے کے باوجود انسانی زندگی کی اہمیت سے تاحال ہم واقف نہیں ہوسکے۔ دہشت گردی ہی کیا آئے روز ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہارنے والے درجنوں پاکستانی بھی سرکاری محکموں کی جاری روش کو تبدیل نہیںکرسکے۔ ماضی کے برعکس اب ایسا ضرور ہے کہ کہیں نہ کہیں اس خرابی کا تذکرہ کیا جارہا۔ پرنٹ والیکڑانک کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا میں ریاست کی نمائندہ حکومت کو اپنی زمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش جاری ہے۔ ایسے بولنے اور لکھنے والے سامنے آرہے جو بڑے بڑے عہدوں پر براجمان افراد کو ان کے فرائض منصبی یاد دلارہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے انفرادی اور گروہی مفادات کے حصول کے لیے سرگرداں طاقتور لوگوں کو مسلسل باور کروایا جارہا کہ وہ حاکم نہیں بلکہ خادم ہیں، وہ بادشاہ نہیں بلکہ عوام کے ایسے ملازم ہیں جن کی تنخواہیں اور مراعات عام آدمی کے خون پیسنے سے پورے کیے جارہے۔
وطن عزیز میں قیام امن تاحال بڑا چیلنج ہے۔ آج پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام ایسے پرتشد نظریہ کا سامنا کررہا جو غیر مسلموں کو نہیںکلمہ گو افراد کی زندگیوں سے کھیل رہا۔ لاکھ انکار کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ درجنوںاسلامی ممالک اس چیلنج کا جواب تاحال کامیابی سے نہیں دے پارہے۔ بظاہر مسلم ممالک کے نسل درنسل چلے آنے والے حکمران یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ ان کے اپنے ہی شہری اپنی ہی حکومت کے خلاف کیونکر مورچہ زن ہیں۔
درجنوں اسلامی ملکوں میں پاکستان کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، اظہار خیال کی آزادی ہے۔ ہر اس نظریہ کو بیان کیا جاسکتا ہے جو نفرت، انتشار یا کشت وخون کا باعث نہ بنے ۔آج معاشرے میں پرامن انداز میں تبدیلی لانے والوں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں لہذاحکومت کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ ان مثبت قوتوں کی حوصلہ افزائی کرے جو فساد کی بجائے امن کی حامی ہیں۔ طاقت کا استمال درست مگر ساتھ ساتھ قومی ایکشن پلان جیسے منصوبوں پر عمل کیے بغیر حقیقی کامیابی ممکن نہیں۔

Scroll To Top