ایسے والدین کو تاریخ کی عدالت میں مجرموں کا کٹہرہ آبادکرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے ! 16-02-2012

کراچی میں کُوڑے کے ایک ڈھیر سے پانچ ایسے ” آدم زادوں “ کی لاشوں کا برآمد ہونا جو پیدا ہونے سے پہلے موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے کوئی معمولی واقعہ نہیں کہ اسے ویسی ہی لاپروائی اور بے فکری سے نظرانداز کردیا جائے جیسی لاپروائی اور بے فکری کے ساتھ ہماری زرداری حکومت عدلیہ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی عادی ہے۔
انسانیت کے منہ پر ایک بھرپور طمانچہ بن کر پڑنے والا یہ شرمناک واقعہ ہمارے اُن طبقوں اور حلقوں کے ” ضمیروں “ کے سامنے جھنجھوڑ دینے والا ایک سوال کھڑا کرتا ہے جو ” لگے رہو “ ”سب کچھ کہہ د و “ اور” رات بھر کہتے رہو “ والے کلچر کو اشتہارات کی دنیا سے نکال کر عملی دنیاکا حصہ بنانے کے عزم سے سرشار ہیں۔
سوال جو اس خبر کی وجہ سے کھڑا ہوتا ہے یہ ہے کہ” ہم نے قانون ِقدرت کی طرف سے قائم کی جانے والی حدود و قیود کو بالائے طاق رکھ کر اپنی حیوانی فطرت کے بے دریغ اظہار کا جو راستہ اختیار کرلیا ہے ` وہ ہمیں کہاں تک لے جائے گا ؟“
آج اس ” مادر پدر آزاد “ روش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پیدائش کے ساتھ ہی یا پیدائش سے بھی پہلے کُوڑے کے ڈھیروں میں برآمد ہورہے ہیں ` کل ہوسکتا ہے کہ معاشرہ انہیں انسانی ہمدردی کے تحت شرفِ قبولیت عطا کردے اور انہیں یہ اجازت مل جائے کہ وہ سکول میں داخلے کے وقت اپنی ولدیت بیان کرنے کے پابند نہ ہوں۔
وہ معاشرہ کیسا ہوگا جس میں مائیں اپنی اولاد کی ولدیت نہ بتا سکیں اور کسی باپ کو یہ یقین نہ ہو کہ اس کی ولدیت کے دعویدار بچے درحقیقت اُسی کے ہیں ۔ ؟
المیہ یہ ہے کہ ہمارے وہ گھرانے بھی جو کل تک اپنی ” نو خیز اولاد “ پر اخلاقی روایات کے پہرے بٹھانا اپنا فرض سمجھتے تھے ` آج اپنے بیٹوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کے ” شب و روز “ سے بھی بے نیاز رہنے پر مجبور ہیں۔ہمارے دین میں ” حرام “ اور ” حلال“ کاامتیاز بے وجہ نہیں رکھا گیا ۔ جو والدین اپنی اگلی نسل سے ” حرام “ اور ” حلال“ کی تمیز نہیں کراسکتے ` اور جو اپنے بچوں کو یہ نہیں بتا سکتے کہ بجلی کے کرنٹ اور آگ کی لپک سے دور رہنا چاہئے انہیں تاریخ کی عدالت میں مجرموں کا کٹہرہ آباد کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے !

Scroll To Top