1973ءکی کشتی ڈوب رہی ہے اور پاکستان کا مستقبل قومی شعور رکھنے والی اجتماعی قیادت کے ہاتھوں میں جارہا ہے۔۔

میاں محمد نوازشریف ` جناب آصف علی زرداری ` خان اسفند یار ولی خان ` جناب الطاف حسین اور مولانا فضل الرحمان کے پسندیدہ آئین کی کشتی بپھرے ہوئے سمندر کی طوفانی موجوں میں ہچکولے کھارہی ہے۔۔۔ اگر یہ کشتی نہ ڈوبی تو وہ نظام پھر پاکستان کے مقدر پر حاوی ہوجائے گا جس نے کرپشن ` لاقانونیت ` اقربا پروری ` بدقماشی ` طالع آزمائی ` خود غرضی` قومی بے حسی ` مفاد پرستی ` ملکی مفاد سے بے نیازی اور دہشت گردی جیسے عفریتوں کو جنم دے کر معاشرے میں کھلا چھوڑ دیا ہے۔۔۔ مگر اس ڈوبتی کشتی کو نہ تو جناب آصف علی زرداری کی عیارانہ سیاست ` نہ ہی مولانافضل الرحمان کا جوڑ توڑ اور نہ مریم نواز کی آہ و بکا بچا سکے گی۔۔۔ یہ کشتی ڈوب رہی ہے۔۔۔ اور جیسے ہی یہ کشتی ڈوبے گی ` بپھرے ہوئے سمندر کا جوش بھی تھم جائے گا اور طوفانی موجیں بھی پرُسکون ہوجائیں گی۔۔۔
یہ قوم مجھے یقین سا ہے کہ اپنے حصے کی سزا کاٹ چکی ہے۔۔۔ اس نے جو بھی اجتماعی گناہ کئے ان کی سزا اسے میاں نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری کی قیادت کی صورت میں مل گئی۔۔۔ اِس سزا کا آغاز ایک تہائی صدی قبل ہوگیا تھا۔۔۔
اِس کشتی کے ڈوبتے ہی قوم کا اپنے حقیقی آئین کی طرف واپسی کا سفر شروع ہوجائے گا۔۔۔ اُس حقیقی آئین کے دو مرکزی نکات یہ ہیں۔۔۔ حاکمیت خدا کی اور آئین ہمارا قرآن۔۔۔ قراردادمقاصد میں قوم کو اس آئین کا پابند بنا دیا گیا تھا۔۔۔ اور قائداعظم ؒ نے برطانوی طرز کی پارلیمانی جمہوریت کے دائرے میں پوری زندگی گزارنے کے باوجود اس رائے کا اظہار کردیا تھا کہ جونظام اب تک صرف برطانیہ میں کامیاب رہا ہے وہ پاکستان کے لئے موزوں نہیں رہے گا۔۔۔ پاکستان کے لئے صدارتی نظام ہی مناسب ہے کیوں کہ اس میں قیادت کے انتخاب میں براہ راست عوام کا دخل ہوگا او ر امراءکو جوڑ توڑ کرکے کاروبار مملکت پر قبضہ جمانے کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔
صدارتی نظام کے خلاف گمراہ کن دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھے گا۔۔۔ یہ دلیل اس لئے بے بنیاد ہے کہ چھوٹے صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور خود پنجاب بھی چھوٹے صوبوں میں تقسیم ہوجائے گا۔۔۔ بالآخر جتنے بھی صوبوں کا معرض وجود میں آنا مناسب سمجھا جائے گا وہاں کی حکومتیں بھی برا ہ راست عوام ہی منتخب کریں گے۔۔۔
اگر احساس محرومیت پیدا ہوگا تو قبضہ گروپوں کی صفوں میں ہوگا جن کے ہاتھوں سے اقتدار نکل جائے گا۔۔۔
یہ ایک نئے انداز کا انقلاب ہے جو پاکستان میں آہستہ آہستہ اپنے قدم جما رہا ہے۔۔۔ اس انقلاب کے معماروں میں تین نام بڑی مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔۔۔ عمران خان `چیف جسٹس ثاقب نثار اور جنرل قمر جاوید باجوہ ۔۔۔ لیکن اس انقلاب نے اگر اپنے قدم جمالئے اور مورخین نے اس کی داستان لکھی تو پاناما کیس کا فیصلہ کرنے والے پانچوں جج اور ان کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے چھ کے چھ ارکان بڑے فیاضانہ خراج تحسین و عقیدت کے مستحق ہوں گے ۔۔۔
ایک بات طے ہے کہ اور وہ یہ کہ پاکستان کا مستقبل اب قومی شعور رکھنے والی اجتماعی قیادت کے ہاتھوں میں جارہا ہے۔۔۔

Scroll To Top