پانامہ کیس نظر ثانی اپیل: سپریم کورٹ کا5رکنی لارجر بینچ آج سماعت کرے گا

  • سپریم کورٹ نے پاناما لیکس میں نااہل قرار دیے گئے وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کے بچوں کی عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں یکجا کرکے 5 رکنی بنچ تشکیل دینے کی استدعا منظور کرلی
  • میرا اور نوازشریف کے وکیل کا ایک ہی موقف ہے ¾ پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو بھی اسی درخواست کےساتھ سنا جائے ¾ سلما ن اکرم راجہ اصل فیصلہ تین رکنی بینچ کا ہی تھا ¾ آپ تین رکنی بینچ کے فیصلے پر دلائل دے کر ہمارا ذہن تبدیل کریں ¾جسٹس اعجاز افضل
  • نظر ثانی کیس ہم نے نہیں آپ نے تیار کیا‘ جسٹس عظمت سعید، سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس اعجازافضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے

سپریم کورٹاسلام آباد(اسلام آباد) پاناما کیس کے خلاف نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کے خلاف نظرثانی درخواست پرسماعت کے لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا جبکہ سماعت کل ہوگی۔سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس اعجازافضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج پاناما کیس کے خلاف نظرثانی کی اپیل کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی سفارش کی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ روزسابق وزیراعظم نوازشریف کے بعد ان کے بچوں نے بھی سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پرنظرثانی کی درخواست پرسماعت مو¿خر کرنے کی اپیل کی تھی اورسماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دینےکی استدعا کی تھی۔واضح رہے کہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا تھا اور وزیرخزانہ سمیت شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس دائر کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے پاناما لیکس میں نااہل قرار دیے گئے وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کے بچوں کی عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں یکجا کرکے پانچ رکنی بنچ تشکیل دینے کی استدعا منظور کرلی۔منگل کو پاناما لیکس فیصلے کے خلاف وزیراعظم اور ان کے بچوں کی نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ کے فیصلے کے خلاف علیحدہ درخواست دائر کی گئی ہے جبکہ پہلی نظر ثانی پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف دائر کی گئی تھی آج میرا اور نوازشریف کے وکیل کا ایک ہی موقف ہے اس لیے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کو بھی اسی درخواست کے ساتھ سنا جائے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ تین رکنی بینچ کے فیصلے پر دلائل دے کر ہمارا ذہن تبدیل کریں اگر نظر ثانی درخواست سن کر ہم نے ذہن تبدیل کیا تو پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ بھی تبدیل ہو جائے گا، اصل فیصلہ تین رکنی بینچ کا ہی تھا جو کیس ہم نے سنا ہے اس میں مزید دو ججز کا بیٹھنا فائدہ مند نہیں ہوگا، جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ نظر ثانی کیس ہم نے نہیں آپ نے تیار کیا، پہلے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی پھر اپیل میں سے ایک حصہ نکال کر تین رکنی بینچ کیخلاف نظر ثانی دائر کر دی۔عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد نظر ثانی درخواستوں کو پانچ رکنی بنچ کے سامنے لگانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوادیا، اپیلوں کی سماعت بدھ کو سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ کرےگا۔

Scroll To Top