اقوام متحدہ نے میانمار میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیدیا

  • روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام ، خواتین کی بے حرمتی، گھروں کو جلانے جیسے واقعات انسانیت کےخلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں ¾ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسنین
  • برما میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے،میانمار حکومت قوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کو فوری طور پر متاثر ہ علاقے میںجانے کی اجازت دے، پاکستان
حیدر آباد: ڈیلرز ایسوسی اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

حیدر آباد: ڈیلرز ایسوسی اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جنیوا (این این آئی)اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسنین نے میانمار میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کونسل کشی قرارد یتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ہائی کمشنر زیدرعدالحسین نے میانمار میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کونسل کشی قراردیا۔ اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میانمر کے ریاستی اداروں کو روہنگیا مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کے باعث انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام ، خواتین کی بے حرمتی، گھروں کو جلانے جیسے واقعات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو بھی میانمر حکومت کی طرف سے متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی مطالبہ کرتی ہے کہ میانمر کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کے مظالم کو روکنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کےلئے فوری طور پر اقدامات کرے۔میانمر حکومت اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو متاثرہ علاقوں تک رسائی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے میانمر کی حکومت پر زور دیا کہ روہنگیا مسلمانوں کےخلاف ہونے والے مظالم اور موجودہ بحران کی اصل جڑ کا خاتمہ کرے جس میں عدم مساوات، انصاف کی فراہمی اور دیگر مسائل شامل ہیں۔ میانمر کی حکومت روہنگیا ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کےلئے انسانی بنیادوں پر رسائی کی اجازت دے۔ فرخ عامل نے بتایا کہ او آئی سی عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کےلئے انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرے۔ پاکستانی نمائندہ فرخ عامل نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔پاکستان نے برما میں جاری ظلم و ستم کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کو فوری طور پر متاثر ہ علاقے میںجانے کی اجازت دے جبکہ عالمی برادری برما میں مسلمانوں کی خونریزی رکوانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب ایمبیسڈر فرخ عامل نے اقوام متحدہ کی ہیومین رائٹس کونسل کی 36ویں اجلاس کے دوران اپنے ایک بیان میں کہا کہ برما میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے ۔ جس پر امت مسلمہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ عالمی برادری برما میں مسلمانوں کی خونریزی رکوانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت اقوام متحدہ کی تحقیقاتی جائزہ مشن کو فوری طور پر متاثرہ علاقے میں جانے کی اجازت دے تاکہ اصل حقائق کا ادراک کیا جاسکے ۔ انہوںنے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ میانمار میں موجود متاثرہ مسلمان کمیونیٹی اور وہاں سے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے والے لوگوں کیلئے زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کریں ۔ جا ئے گا۔

Scroll To Top