تاریخ اسلام

تاریخ اسلامجب اس لشکر کے واپس آنے کا حال حجاج کو معلوم ہوا تو اس نے عبدالملک کو لکھا کہ یہ صورت پیش آئی ہے اب میری مدد کے لئے فوج روانہ کرو۔ عبدالملک نے فوج روانہ کی ۔ مہلب کی جب اس حادثہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے حجاج کو ہمدرانہ لکھا کہ تم اہل عراق کو واپس آکر اپنے اپنے گھروں میں پہنچ لینے دو۔ اور ان سے بالکل متعارض نہ ہو۔
حجاج نے اس مشورے کی کوئی پرواہ نہیں کہ بلکہ وہ عراقیوں سے بد ظن ہو گیا۔ اس نے مہلب کی نسبت بھی اپنے دل میں بد گمانی کو راہ دی اور یہ خیال کیا کہ مہلب گورنر خراسان بھی ضرور ان لوگوں کا ہم خیال و مشیر ہوگا۔ عبدالملک کی فرستادہ فوجیں جب آگئیں تو حجاج ان کو لے کر بصرہ سے اس طرف آگے بڑھا اور مقام تشتر میں پہنچ کر سواروں کے دستے کو بطور مقدمتہ الجیش آگے بڑھایا عبدالرحمن بن محمد بھی قریب پہنچ چکا تھا ۔ عبدالرحمن کے سواروں نے حجاج کے سواروں کو شکست دے کر بھگا دیا اور ایک بڑے حصے کو قتل کر ڈالا۔
اب حجاج تشتر سے مجبوراً بصرہ کی طرف لوٹا اور مقام زاویہ کی طرف مڑگیا عبدالرحمن سیدھا بصرہ میں داخل ہوا اہل بصرہ نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی۔حجاج کو مہلب کی نصیحت یاد آئی کہ اس نے جو کچھ لکھا تھا درست لکھا تھا۔ اہل بصرہ حجاج کی سخت گیری سے نالاں تھے سب کے سب عبدالملک بن مروان کے خلع خلافت اور حجاج سے جنگ کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
یہ اقعہ آخر ذالحجہ سن ۱۸ ہجری کا ہے شروع محرم سن ۶۸ ہجری سے حجاج اور عبدالرحمن بن محمد کے درمیان لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ کبھی حجاج غالب ہوتا کبھی عبدالرحمن لیکن ۹۲ /محرم سن ۲۸ ہجری کو جو لڑائی ہوئی اس میں عبدالرحمن بن محمد کو شکست فاش حاصل ہوئی عبدالرحمن بن عباس بن ربیعہ بن حرث بن عبدالمطلب کے ہاتھ پر بیعت کی اور حجاج کے ساتھ مقابلہ و مقاتلہ کا سلسلہ جاری رکھا۔ پانچ چھ روز تک عبدالرحمن بن عباس نے حجاج کا خوب سختی سے مقابلہ کیا اس فرصت سے عبدالرحمن بن محمد کوفہ پر با آسانی قابض و متصرف ہو گیا۔ آخر عبدالرحمن بن عباس بھی معہ بہت سے بصریوں کے بصرہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔ اور عبدالرحمن بن محمد سے کوفہ میں جا ملا۔ حجاج بصرہ میں داخل ہوااور حکیمبن ایوب ثقفی کو بصرہ میں حاکم مقرر کر کے خود کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔ مقام دیر قرہ میں ڈیرے ڈالے اُدھر کوفہ سے عبدالرحمن بن محمد نکلا اور دیر جم پر مورچے باندھے۔ طرفین سے خندقیں، مورچے، باندھے گئے اور لڑائی شروع ہوئی۔(جاری ہے)
یہ لڑائی عرصہ تک جاری رہی ہر روز دونوں طرف کی فوجیں میدان میں نکلتیں اور ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتیں لیکن کو ئی فیصلہ جنگ کا نہ ہوتا تھا۔ آخر عبدالملک نے اپنے بیٹے عبداللہ اور اپنے بھائی میں بن مروان کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ کو فہ کی طرف روانہ کیا اور اہلِ عراق کی طرف ان دونوں کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ
” ہم حجاج کو معزول کئے دیتے ہیں۔ اہل عراق کے وظائف مثل اہلِ شام کے مقرر کردیں گے۔ عبدالرحمن بن محمد جس صوبہ کی حکومت پسند کرے اُس کو دے دی جائے گی۔“
حجاج کو اس پیغام کا حال معلوم ہو کر سخت صدمہ ہوا اُس نے عبداللہ و محمد کو اس پیغام کے پہنچائے سے روک کر عبدالملک کو خط لکھا کہ اس طرزِ عمل سے اہلِ عراق کبھی آپ کے مغلوب و محکوم نہ ہوں گے اور اُن کی سرکشی ترقی کرے گی۔ لیکن عبدالملک نے حجاج کی بات کو نا پسند کیا اور عبداللہ و محمد نے عبدالملک کا پیغام اہلِ عراق تک پہنچا دیا۔
اہلِ عراق کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی تھی اور عبدالرحمن بن محمد اس کے تسلیم کرنے پر آمادہ تھا لیکن لشکریوں نے اس بات کو نہیں مانا اور سب نے مخالفت میں آواز بلند کر کے عبدالملک کے خلعِ خلافت کے لئے تجدید بیعت کی۔ عبداللہ و محمدیہ صورت دیکھ کر اپنی فوج حجاج کے پاس چھوڑ کر خود عبدالملک کے پاس واپس چلے گئے۔ اب طرفین میں تازہ جوش اور تازہ تیاریوں کے ساتھ بھی برے زور کی لڑائی شروع ہوئی اور ایک سال تک برابر لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ طرفین ہر روز اپنے اپنے مورچوں سے نکل کر نبرد آزما ہوتے اور شام کو اپنے مورچوں میں واپس چلے جاتے ان لڑائیوں میں عبدالرحمن بن محمد کا پلہ بھاری نظر آتا تھا اور حجاج کا نقصان زیادہ ہوتا تھا۔ لیکن حجاج کے پاس شام سے برابر امداد پہنچ رہی تھی۔ آخر۵۱ جمادی الثانی سن ۳۸ ہجری کو ایک بہت بڑی فیصلہ کن جنگ ہوئی ۔ اس لڑائی میں بعض اتفاقی و اقعات کی بنا پر حجاج کو فتح ہوئی اور وہ فوراً کوفہ میں داخل ہو کر قابض ہو گیا۔ عبدالرحمن بن محمد نے وہاں سے بصرہ کا رخ ہو گیا اور حجاج کے عامل کو نکال کر فوراً بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج نے کوفہ والوں سے بیعت لینی شروع کی اور جس نے تاتل کیا اُس کو بلادریغ قتل کیا گیا۔
عبدالرحمن بن محمد کے پاس بصرہ میں ایک بڑا لشکر مجتمع ہو گیا اور اُس نے حجاج پر حملہ کرنے کا قصد کیا۔ حجاج یہ خبر سن کر کوفہ سے ایک زبردست شامی لشکر لے کر بصرہ کی طرف چلا۔ یکم شعبان سن ۳۸ ہجری سے لڑائی شروع ہوئی ۵۱ شعبان تک نہایت زور شور کے ساتھ جاری رہی۔ حجاج کو کئی مرتبہ شکست ہوئی لیکن وہ سنبھل گیا۔ حجا ج کے لشکر میں عبدالملک بن صلب بھی موجود تھا۔ ۵۱ شعبان کو جب کہ عبدالرحمن بن محمد نے حجاج کو شکست فاش دے دی تھی۔ عبدالملک بن مہلب نے اپنے ہمراہی سواروں کو لے کر اچانک عبدالرحمن پر حملہ کیا جب کہ وہ حجاج کے کیمپ کو لوت کر اور میدان سے بھگا کر اپنے لشکر گاہ مین مظفر و فتح مند واپس آیا تھا۔ اس اچانک حملہ نے عبدالرحمن کے ہمراہیوں کو سراسیمہ کر دیا اور وہ بھاگ پرے بہت سے خندقوں میں گر کر ہلاک ہوے بہت سے مارے گئے بہت سے اپنی جان سلامت لے گئے۔
حجاج جو شکست پاچکا تھا واپس آکر عبدالرحمن بن محمد کے لشکر گاہ پر قابض ہوا۔ اس شکست کے بعد عبدالرحمن بن محمد بصرہ سے سوس سابور۔ کرمان، زرنج، بست ہواتا ہوا رتبیل شاہ ترکستان کے پاس چلا گیا۔ عبدالرحمن بن محمد کے ہمراہیوں نے سجستان کے قریب جمع ہو کر عبدارلرحمن بن عباس بن ربیعہ بن حرث بن عبدالمطلب کو اپنی نمازوں کا امام بنایا اور اپنے ساتھیوں کو ہر طرف سے بلایا اور عبدالرحمن بن محمد کے اس پیغام بھیجا کہ تم واپس چلے آو¿ اور خراسان پر قبضہ کر لو۔ عبدالرحمن بن محمد نے کہا کہ خراسان پر یزید بن مہلب حکمران ہے خراسان کا اس سے چھین لینا آسان کام نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے باصرار عبدالرحمن بن محمد کو بلوایا وہ رتبیل کے پاس سے رخصت ہو کر آیا۔ان لوگوں کی تعداد بیس ہزار تھی ان کو لے کر ہرات کی طرف گیا ہرات پر قبضہ کیا۔ یزید بن مہلب فوج لے کر مقابلہ پر آیا جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو لڑائی شروع ہونے سے پیشتر ہی عبدالرحمن بن محمد کے لشکری میدان سے بھاگنے لگے۔ مجبوراً عبدالرحمن بن محمد نے اپنے چند ہمراہیوں سے مقابلہ کیا بہت سے مقتول و گرفتار ہوئے۔ عبدالرحمن بن محمد وہاں سے سندھ کی طرف بھاگا۔ یزیز نے اپنی فوج کو تعاقب کرنے سے روک دیا۔ عبدالرحمن بن محمد سند ھ پہنچ گیا۔ یزید نے جنگ ہرات میں جن لوگوں کو قید کیا تھا انہیں مرولے جا کر وہاں سے حجاج کے پاس بھیج دیا۔ انہیں قیدیوں میں محمد بن سعد بن ابی وقاص بھی تھے جو حجاج کے حکم سے قتل ہوئے۔ عبدالرحمن بن محمد بن اشعت سندھ سے رتبیل کے پاس چلا گیا اور وہاں جا کر سل کے عارضہ میں بیمار ہو گیا۔ حجاج نے رتبیل کو لکھا کہ عبدالرحمن بن محمد کا سرکاٹ کر بھیج دو تو دس برس کا خراج تم کو معاف کر دیا جائے گا۔ رتبیل نے اس بیمار کا سرکاٹ کر حجاج کے پاس بھیج دیا۔ یہ واقعہ سن ۴۸ ہجری کا ہے۔
شہر واسط کی آبادی
اوپر پڑھ چکے ہو کہ عبدالرحمن بن محمد کے مقابلہ کی غرض سے حجاج کو عبدالملک کے پاس سے بار بار فوجی امداد طلب کرنی پڑی تھی۔ جب عبدالرحمن بن محمد عراق سے بے دخل ہو کر سجستان کی طرف واپس آیا ہے تو حجاج کے پاس شامی لشکر بہت زیادہ تعداد میں موجود تھا۔ اہل کوفہ و بصرہ کی طرف سے حجاج کو اطمینان نہ تھا کیونکہ عبدالرحمن بن محمد کے ساتھ شریک ہو کر لڑنے والے اہل کوفہ و اہل بصرہ ہی تھے۔لہٰذا شامی لشکر کو ایک عرصہ تک کوفہ میں اپنے پاس رکھنا نہایت ضروری تھا۔ اول حجاج نے حکم دیا کہ شامی لوگ کوفیوں کے گھروں میں قیام کریں لیکن چند ہی روز کے بعد شامی لوگوں نے کوفی عورتوں کے ساتھ بد عنوانیاں شروع کر دیں اس کا حال حجاج کو معلوم ہوا تو اس نے اس شامی لشکر کے لئے ایک الگ چھاو¿نی قائم کرنی ضروری سمجھی۔ چنانچہ اس نے تجربہ کار لوگوں کی ایک جماعت کو مامور کیا کہ وہ چھاو¿نی کے لئے کوئی مناسب مقام تجویز کریں۔ ان لوگوں نے ایک راہب کو دیکھا کہ وہ ایک مقام کو نجاست پاک و صاف کر رہا ہے۔ راہب سے جب اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے جواب دیا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ اس مقام پر عبادت کے لئے ایک مسجد بنائی جائے گی جہاں خدائے تعالیٰ کی عبادت کی جائے گی۔ لہٰذا میں اس جگہ کو پاک و صاف کر رہا ہوں اُن لوگوں نے حجاج سے آکر یہ کیفیت بیان کی حجاج نے اس خاص مقام پر ایک مسجد بنا کر اسی کے ارد گرد فوجی چھاو¿نی قائم کر دی اور شامیوں کو وہاں چلے جانے کا حکم دیا۔ یہی شہر واسط کی ابتدا تھی۔ یہ واقعہ سن ۳۸ ہجری کا ہے۔
یزید بن مہلب کی معزولی
حجاج نے عبدالرحمن بن محمد بن اشعت سے فارغ ہو کر اہلِ عراق پر نہایت سختی روا رکھی اور چُن چُن کر اُن کے سرداروں کو قتل کرنا شروع کیا۔ عراقی یعنی کوفہ و بصرہ کا کوئی بھی نامور گھرانا ایسا نہ تھا جس میں سے کوئی نہ کوئی شخص حجاج کے حکم سے قتل نہ ہوا ہو اوراُس کو ذلت و سختی برداشت نہ کرنی پڑی ہو۔ صرف ایک مہلب کا گھرانا ایسا تھا جو باوفا رہنے کے سبب محفوظ رہا تھا۔ یزید بن مہلب خراسان کا گورنر اور حجاج و عبدالملک کا فرماں بردار تھا ۔ حجاج نے کئی مرتبہ یزید کو اپنے پاس کوفہ میں طلب کیا لیکن ہر مرتبہ خراسان میں ایسی مصروفیتیں یزید کے لئے موجود تھیں کہ اُس نے عذر کیا اور کوفہ نہ آسکا۔ حجاج شکی مزاج بھی تھا اُس نے یزید بن مہلب کی نسبت بد گمانی کو دل میں جگہ دی اور اس امر کے درپے ہوا کہ اُس کو خراسان کی حکومت سے بے دخل کیا جائے۔ چنانچہ اُس نے عبدالملک کو یزید کی شکایتیں لکھنی شروع کیں۔ عبدالملک نے ہر مرتبہ حجاج کو لکھا کہ مہلب اور اُس کے بیٹے ہمیشہ ہمارے خیر خواہ اور نمک حلال رہے ہیں وہ مستحق رعایت ہیں لیکن حجاج بار بار اور با صرار شکایتیں لکھتا رہا۔ عبدالملک نے مجبور ہو کر حجاج کو لکھا کہ تم کو چونکہ اپنی تجویز پر اصرار ہے لہٰذا میں تم کو اجازت دیتا ہوں کہ جس کو مناسب سمجھو خراسان کا حاکم مقرر کردو، حجاج نے اس اندیشہ سے کہ کہیں خراسان کا مسئلہ پیچیدگی اختیار نہ کرے اور اُس پر دوسرے عامل کا قبضہ نہ ہو سکے، اول یہ حکم یزید کے پاس بھیجا کہ تم اپنے بھائی مفضل بن مہلب کو خراسان کا ملک سپرد کر کے میرے پاس آو¿۔ یزید ابھی سامان سفر ہی درست کر رہا تھا کہ حجاج کا دوسر احکم اور مفضل کے نام خراسان کی سند گورنری پہنچی۔ یزید نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم اس سند گورنری سے دھوکہ نہ کھا جانا حجاج نے صرف میری وجہ سے کہ کہیں خراسان کی حکومت چھوڑنے سے انکار نہ کرے تم کو خراسان کا گورنر بنایا ہے ۔ وہ چند رو ز کے بعد تم کو بھی معزول کر دے گا یہ کہکر یزید مرو سے ربیع الثانی سن ۸۵ ہجری کو روانہ ہو گیا۔ یزید کا خیال بالکل صحیح ثابت ہوا اور حجاج نے نو مہینے کے بعد مفضل بن مہلب کو خراسان کی گورنری سے معزول کر کے قتبیہ بن مسلم کو خراسان کی گورنری پر مامور کیا۔
موسیٰ بن حازم
موسیٰ بن عبداللہ بن حازم کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ اس نے ترمذ میں اپنی ایک خود مختار حکومت قائم کر لی تھی۔ یہ بھی ذکر آچکا ہے کہ حریث و ثابت پسران ِ قطنہ خزاعی مہلب کے پاس سے فرار ہو کر موسیٰ بن عبداللہ کے پاس ترمذ میں چلے گئے تھے۔ مہلب جب خراسان کا گورنر ہوا تو اس نے اپنے عہد حکومت میں موسیٰ بن عبداللہ سے مطلق چھیڑ چھاڑ نہیں کی اور اپنے بیٹون کو بھی نصیحت کی کہ تم لوگ موسیٰ سے ہمیشہ درگذر کا برتاو¿ کرنا کیونکہ اگر موسی بن عبداللہ نہ ہوا تو پھر خراسان کی گورنری پر کوئی شخص بنو قیس سے آئے گا ہرات کے قریب جب عبداللہ بن محمد کو یزید بن مہلب کے مقابلہ میں یزیمت ہوئی تو عبدالرحمن بن محمد اور عبدالرحمن بن عباس کے ہمراہی لوگ جو اس جگہ سے فرار ہوئے وہ بھی سیدھے ترمذ میں موسیٰ بن عبداللہ کے پاس پہنچے۔ جب عبدالرحمن بن محمد کا سرکاٹ کر رتبیل نے حجاج کے پاس بھیجاتو عبدالرحمن کے ہمراہی رتبیل کے پاس بھاگ کر موسیٰ بن عبداللہ کے پاس آئے اور ترمذ میں پناہ گزین ہوئے۔ اسی طرح موسیٰ بن عبداللہ کے پاس ترمذ میں آٹھ ہزار عربوں کی جمعیت فراہم ہوگئی۔حریث و ثابت دونوں بھائی وزارت و سپہ سالاری کی خدمات انجام دیتے تھے اور موسیٰ بن عبداللہ خود مختار بادشاہ تھا۔ حریث و ثابت نے موسیٰ سے کہا کہ اہلِ بخارا اور تمام ترک سردار یزید بن مہلب سے ناراض ہیں آوان سب کو اپنے ساتھ ملا کر یزیدبن مہلب کو خراسان سے بے دخل کر کے ملک خراسان پر قبضہ کر لیں۔ موسیٰ نے کہا کہ اگر یزید کو خراسان سے نکال دیا تو عبدالملک کا کوئی دوسرا گورنر آکر قابض ہو جائے گا۔ او ر ہم خراسان کو بچا نہ سکیں گے۔ اس سے تو بہتر یہ ہے کہ ہمر ماورا ءالنہر یعنی تُرکستان کے علاقوں سے عبدالملک کے عالموں کو نکال دیں۔ اس ملک پر ہم بہ آسانی اپنا قبضہ قائم رکھ سکیں گے کیونکہ ادھر ہر طرف سے عبدالملک کی فوجیں نہیں آسکتیں اور تمام سرحدوں پر ترک و مغل موجود ہیں جو ہماری مدد کریں گے۔ چنانچہ مواراءالنہر کے علاقے سے تمام عاملوں کو نکال دیا گیا اور موسیٰ بن عبداللہ کی حکومت ترمذ میں خوب مضبوط و مستقل ہو گئی۔
چند روز کے بعد ترکوں ، مغلوں اور تبتیوں نے مل کر موسیٰ کے ملک پر حملہ کیا۔ ترکوں کا سردار دس ہزار فوج لئے ہوئے ایک ٹیلہ پر کھڑا تھا۔ حریث بن قطنہ نے اُس پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس شدت و سختی کے ساتھ کیا گیا کہ ترکوں کو ٹیلہ کے پیچھے پناہ لینی پڑی ۔ اسی ہنگامہ واروگہر میں ایک تیر حریث بن قطنہ کی پیشانی پر آلگا۔ زخم ایسا کاری تھا کہ دو دن کے بعد حریث فوت ہوگیا۔ اُس روز چونکہ شام ہوگئی تھی لڑائی ملتوی کر دی گئی۔ اگلے دن موسیٰ نے حملہ کرکے ترکوں وغیرہ کو شکست فاش دی اور بہت سامال غنیمت لے کر ترمذ کے قلعہ میں واپس آیا۔ حریث کے مرنے کے بعد اُس کا بھائی ثابت بن قطنہ موسیٰ کی طرف سے متوہم ہو کر موسیٰ سے جدا ہوا اور ترمذ سے بھاگ کر مقام حوشہرا میں آکر قیام کیا اور اپنے پاس اہلِ عرب و عجم کی جمعیت فراہم کرنے لگا۔
موسیٰ بن عبداللہ اُس کے مقابلے کوفوج لے کر ترمذ سے چلا تو اہلِ بخارا ، اہل کش ، اہل نسف وغیرہ سب ثابت کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے موسیٰ کو مجوراً ترمذ میں واپس آنا پڑا۔ چند روز کے بعد تمام اتراک جمع ہوئے ثابت بن قطنہ کو اپنے ہمراہ لیا اور اسی ہزار کی جمعیت عظیم نے ترمذ کا محاصرہ کر لیا۔ موسیٰ نے بڑے عزم و ہمت کے ساتھ مدافعت کی۔ ثابت بن قطنہ مارا گیا اور اتراک بھی آوارہ وپریشان ہو کر محاصرہ اٹھا کر چل دیئے۔
اس ہنگامے سے فارغ ہوئے صرف چند ہی روز گذرے تھے کہ یزید بن مہلب خراسان کی گورنری سے معزول ہو کر کوفہ سے روانہ ہوا اور اُس کی جگہ مفضل بن مہلب اس کا بھائی خراسان کا گورنر مقرر ہوا۔ مفضل نے خراسان کی حکومت اپنے ہاتھ میں لیتے ہی عثمان بن مسعود کو ایک لشکر دے کر موسیٰ بن عبداللہ بن حازم پر حملہ کرنے کے لئے مروے روانہ کیا اور اپنے بھائی مدرک بن مہلب کو جو بلخ میں تھا لکھا کہ تم بھی اپنی جمعیت لے کر ترمذ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہو جاو¿۔ اس کے علاوہ رتبیل اور طرخون ترکی بادشاہوں کو لکھا کہ تم بھی اپنی اپنی فوجیں لے کر عثمان بن مسعود کی امداد کے لئے پہنچو۔ یہ ترک سردار پہلے ہی سے موسیٰ بن عبداللہ پر خار کھائے بیٹھے تھے اور بارہا اس کے ہاتھ سے شکستیں کھا چکے تھے فوراً اپنی اپنی فوجیں لے کر ترمذ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس طرح موسیٰ بن عبداللہ کے علاقے میں چار طرف سے دشمن فوجیں داخل ہوئیں اور موسیٰ بن عبداللہ بن حازم نے مجبور ہو کر قعلہ ترمذ میں محصور ہو کر مقابلہ کرنا شرور کیا۔ ان افواج کثیر کا محاصرہ دو مہینے تک مسلسل جاری رہا اور کوئی امید فتح کی نظر نہ آئی۔ آخر موسیٰ بن عبداللہ نے اپنے ہمراہیوں سے کہا کہ اب زیادہ صبر نہیں ہو سکتا۔ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم دفعتہ دشمنوں پر جا پڑیں۔ سب نے اس تجویز کو منظور کیا۔
موسیٰ نے اپنے بھتیجے نضر بن سلیمان کو شہرو قلعہ ترمذ میں اپنا قائم مقام بنا کر وصیت کی کہ اگر میں لڑائی میں مارا جاو¿ں تو شہرو قلعہ عثمان بن مسعود کے سپرد نہ کرنا بلکہ مدرک بن مہلب کے حوالے کرنا۔ موسیٰ نے اپنے ہمراہیوں میں سے ایک تہائی آدمیوں کو عثمان بن مسعود کے مقابلہ کے لئے مامور کر کے حکم دیا کہ تم اول حملہ نہ کرنا بلکہ عثمان حملہ کر ے تو اُس کے جواب میں حملہ آور ہونا اور دو تہائی آدمیوں کو خود لے کر رتبیل و ترخون کی طرف حملہ آور ہوا یہ موسیٰ کے مقابلے کی تاب نہ لا کر بھاگے اور موسیٰ دُور تک ان کے تعاقب میں نکل گیا۔ جب موسیٰ واپس لوٹا تو اہل ضعد اور دوسرے ترک قلعہ ترمذ کے درمیان حائل ہوگئے۔ لڑائی ہونے لگی۔ موسیٰ کو ہر چہار طرف سے ترکوں نے گھیر لیا۔ عثمان بن مسعود بھی اسی طرف متوجہ ہوگیا۔اول موسیٰ کا گھوڑا مارا گیا پھر اُس کے بعد موسیٰ بھی وادِ شجاعت دیتا ہوا مقتول ہوا۔ اس طرح پندرہ سال تک ترمذ میں خود مختارا نہ حکومت کرنے کے بعد سن ۵۸ ہجری میں موسیٰ بن عبداللہ بن حازم جو قبیلہ قیس سے تعلق رکھتا تھا اس جہان سے رخصت ہوا۔ مفضل نے قتلِ موسیٰ کی بشارت حجاج کو لکھی۔ لیکن وہ کچھ خوش نہیں ہوا نضر بن سلیمان نے ترمذ مدرک کے سپرد کیا اور مدرک نے عثمان کے سپرد کیا۔
سکہ اسلامیہ کی ابتدا
عبدالملک بن مروان کی اولیات میں ایک یہ بات بھی ہے کہ اس کے زمانے میں پہلی مرتبہ مسلمانوں نے اپنا سکہ بنایا اور جاری کای۔ اب تک شام و عرب و مسر و غیرہ میں رومیوں کے سکے رائج تھے۔ عراق میں عموماً ایرانیوں کے سکے جاری تھے۔ ملک عرب میں نہ کوئی عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی تھی نہ عربی سکے موجود تھے۔ انہیں رومی سکوں کا رواج قدیم سے تمام ملک میں موجود تھا۔ اب جب کہ اسلامی سلطنت قائم ہو کر بلخ و جیحون سے بحر اطلانطک تک پھیل گئی تو کسی کی توجہ اس طرف مبذول نہ ہوئی کہ اپنا سکہ الگ جاری رکیں اتفاقاً عبدالملک بن مروان کو بادشاہ روم کے پاس چند خطوط بھیجنے کا اتفاق ہوا۔ عبدالملک نے اسلامی دستور کے موافق خطوط کی پیشانی پر کلمہ تو حید اور درود شریف لکھا۔
شاہِ روم نے عبدالملک کو لکھا کہ تم اپنے خطوط کی پیشانی پر توحید ِ باری تعالیٰ اور رسول کا ذکر نہ لکھا کرو، یہ ہم کو ناگوار معلوم ہوتا ہے۔ اگر تم اس حرکت سے باز نہ آئے تو ہم اپنی ٹکسال میں ایسے درہم و دینا رمضروب کراکر رائج کریں گے جن پر تمہارے بنی کا نام توہیں کے ساتھ لکھا ہوا ہوگا اور تم کو بے حد ناگوار گذرے گا۔
عبدالملک کو اس خط کے پڑھنے سے تردد پیدا ہوا اور اُس نے خالد بن یزید بن معاویہؓ سے مشور طلب کیا۔ خالد نے کہا کہ تم رومی سکوں کا رواج اپنے ملک میں قطعاً ترک کر دو اور اپنے سکے مضروب کراکر رائج کرو۔ عبدالملک نے اس رائے کو پسند کیا اور دارالضرب قائم کر کے چودہ قیراط وزن کے درم مضروب کرائے جو پانچ ماشے کے قریب وزنی ہوتے تھے۔ اس کے بعد حجاج نے درم و دینار پر ایک طرف قل ہواللہ احد مضروب کرایا۔ غرض عبدالملک نے فرمان جاری کر دیا کہ خراج میں سوائے عربی سکوں کے کوئی دوسرا سکہ قبول نہ کیا جائے گا۔ اس طرح فوراً تمام ممالک میں عربی دینار ودرم مروج ہو گئے۔
اہم واقعات کے سلسلہ میں بعض باتیں درج ہونے سے بھی رہ گئیں۔ مثلاً عبدالملک بن مروان نے خلیفہ ہونے کے بعد ۵۷ ہجری میں پہلی مرتبہ حج کیا۔ سن ۷ ۷ ہجری میں ہر قلہ فتح ہوا۔ اور اسی سال عبدالعزیز بن مروان برادر عبدالملک نے جو مصر کا گورنر تھا جامعِ مسجد مصر کو گرا کراز سرِ نوتعمیر کرایا اور ہر چہار سمت سے اس کو وسیع کیا۔ سن ۱۸ ہجری میں قالیقلا رومیوں سے فتح کیا۔ سن ۲۸ ہجری میں قلعہ سنان فتح ہوا۔ مفضل بن مہلب گورنر خراسان نے موسیٰ بن عبداللہ کے قتل سے فارغ ہو کر باد فیس کو فتح کیا۔ سن ۴۸ ہجری میں عبداللہ بن عبدالملک نے مصیصہ رومیوں سے فتح کیا۔ سن ۸۵ ہجری میں عبدالعزیز بن ابو حاتم بن لغمان باہلی نے شہر اردبیل بسایا۔ ماہ جمادی الاول سن ۵۸ ہجری میں عبدالملک کے بھائی عبدالعزیز بن مروان نے مصر میں انتقال کیا اور عبدالملک نے اپنے بیٹے عبداللہ کو اس کی جگہ مصر کا گورنر مقرر کیا۔

Scroll To Top