پاک افغان تعلقات بہتر بنانا ہونگے

افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو بگاڑنے میں کردار ادا کیا ۔ پاک افغانستان کشیدہ تعلقات کو بہتر کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے ٹریک ٹو مذاکرت کے موقعے پر عمر زا خیلوال کا کہنا تھا کہ افغانستان نے خراب تعلقات میں یوں کردار ادا کیا کہ اس نے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن نہیں رکھا جو غلط تھا۔ بعقول ان کے افغانستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو یقین دلائے کہ اس کے بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔“
(ڈیک)پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ کشدیگی سرحد کے آرپار رہنے والے ہر اس شخص کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو امن کی اہمیت سے نہ صرف آشنا ہے بلکہ دونوں ملکوںکے تعلقات میں باہم تعاون کی اہمیت سے بھی آگاہ ہے۔ جان لینا چاہے کہ افغان حکومت کی جانب سے بار بار پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرنے کا الزام کسی طور پر حقیقت پسندانہ نہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کس قدر وسیع پیمانے پر جانی ومالی نقصان برداشت کیا۔(ڈیک) کم وبیش ستر ہزار سے زائد شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار قربان کرنے والے ملک سے زیادہ کون جانتا ہے کہ دہشت گردی کتنی بڑی عفریت ہے۔ ضرب عضب ہو یا ردالفساد پاکستان نے ہمیشہ آگے بڑھ کر افغانستان کو دوطرفہ تعاون کی پیشکش کی۔ بلاشبہ یہ ممکن ہے کہ ملک کے بعض علاقوں میں ایسے عناصر اکادکا موجود ہوںجو قیام امن کو خراب کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر مجموعی طور پر ایسا نہیں ۔ ایسی صورت حال سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے اففانستان اور پاکستان کو باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
(ڈیک)اس پر حیرت کا اظہار ہی کیا جاسکتا کہ سابق صدر حامد کرزئی ہوں یا موجودہ اشرف غنی ہر کوئی نئی دہلی کے نقطہ نظر کو اس انداز میں پیش کررہا کہ اس کی اپنی حثیثت مجروع ہوکر رہ گی۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے بھارت کے تعلقات پر اعتراض نہیں تشویش کا پہلویہ ہے کہ کابل میں براجمان اعلی حکومتی عہدیدار پاکستان کے جائز خدشات کو اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ افغان حکومت کو ایک سے زائد بار ایسے شوائد پیش کیے جاچکے جن میں بھارت پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرنے کا مرتکب ٹھرا۔(ڈیک)
باخبر حلقوں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں موجودہ تناو بتدریج بڑھ رہا جس کی بنیادی وجہ حال ہی میں صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی ہے۔ امریکی صدر نے جس انداز میں پاکستان پر الزامات کی بارش کی اس کے بعد یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ افغانستان کسی حد تک ہوشمندی کا مظاہرہ کرے۔
ایک طرف پاکستان ، امریکہ اور افغانستان کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے آگے نہیں بڑھ رہے تو وہی دہشت گرد گروہ اپنی کاروائیاںجاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں قتل وغارت گری کے ایسے کئی واقعات رونما ہوئے جنھیں کم سے کم الفاظ میں بھی تشویشناک کہا جاسکتا ہے۔ کابل حکومت کی مشکل یہ ہے کہ ایک طرف اس کی ملک کے بیشتر حصہ میں رٹ نہیں تو دوسری جانب وہ اپنی ان کمزوریوںکا ادراک کرنے کو بھی تیار نہیں جس اس کی اہلیت پر براہ راست اثر انداز ہورہیں۔
امریکہ کی جانب سے بار بار اس جملے کی تکرار شائد اپنی اہمیت کھو چکی کہ افغانستان کا امن کا پاکستان سے مشروط ہے۔ امریکہ بہادر سے زیادہ کون جانتا ہے کہ یہ پاکستان ہی ہے جس نے افغانوں کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ روس افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان مہاجرین کی شکل میں پاکستان میں یوں آبسے کہ ان کی اکثریت اب پاکستانی شناختی کارڈ رکھتی ہے۔ درجنوں نہیں ہزاروںافغان شہری پاکستان پاسپورٹ پر کئی ملکوں میں مقیم ہیں ۔یہ اعتراف کرنا غلط نہیں کہ لاکھوں افغانوں کی پاکستان آمد نے دراصل معاشرے پر منفی اثرات مرتب کیے،ناجائز اسحلہ ، منشیات اور سمگلینگ دراصل اسی دور کی دین ہیں۔
درست ہے کہ مسائل کی زمہ دار محض امریکہ ، افغانستان اور بھارت پر عائد کرنے کی بجائے پاکستان کو خود احستابی سے بھی کام لینا ہوگا۔ ان کمزوریوں اور خامیوںکو دور کرنا ہوگا جس کے باعث دونوں ملکوںکے تعلقات بہتر نہیں رہے۔ بلاشبہ افغانستان میں کسی مخصوص گروہ کی بجائے تمام دھڑوں اور گروہوں پر مشتمل حکومت ہی سیاسی استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ طالبان کو بھی یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ تشدد کسی مسلہ کا حل نہیں، کچھ لو اور کچھ دو کے تحت ہی جنگ سے تباہ حال ملک میں امن لایا جاسکتا ہے۔ افغانستان میں اسی دن بہتر ی کا آغاز ہوسکتا ہے جب افغان قیادت دوسروں کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنے مسائل خود حل کرنے کی اہلیت پیدا کرلے۔
افغان سفیر کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی حکومت کو پاکستان پر الزام تراشی سے باز رکھنے کی مخلصانہ کوشش کرے۔ پڑوسی ملک کو یہ اعتراف بھی کرلینا چاہے کہ بھارت کی حکومت دونوں ملکوں میں تجارت اور سرحد کی بندش وغیرہ میں مداخلت کر رہی۔ جان لینا چاہے کہ پاکستان کسی طور پر کسی بھی منفی کھیل میں ملوث نہیں ۔کابل حکومت کو کسی نہ کسی شکل میں اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی تاکہ بھارت سمیت کوئی بھی دوسرا ملک اس کی سرزمین کو استمال نہ کرسکے۔ یقینا دو طرفہ تعلقات سدھارنے کے لیے چین اور امریکہ پر بھروسہ کرنے پاکستان اور افغانستان کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا۔

Scroll To Top