دانشوروں کی ایک بہت بڑی کھیپ پروپیگنڈے کی اس مہم میں ” امریکیوں اور بھارتیوں “ کی آلہ کار بن چکی ہے 11-02-2012

امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرنے کے لئے کیا کیا اور کیسے کیسے ہتھکنڈے آزما رہا ہے اس کا اندازہ بلوچستان کے متعلق امریکی کانگریس میں ہونے والی بحث سے لگایا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر شیری رحمان نے امریکی کانگریس کے اس غیر دوستانہ اور افسوسناک اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اپنی حکومت کا شدید احتجاج تو ریکارڈ کرا دیا ہے مگر یہ معاملہ محض زبانی احتجاج تک محدود رکھا جانے والا نہیں۔ اس ضمن میں پاکستان کو موثر اور آ ہنی قسم کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ وہ دور تو شاید اب گزر چکا جب امریکہ پورے پاکستان کو اپنی ایک طفیلی ریاست سمجھا کرتا تھا اور ہمارے حکمران اپنے رویوں سے امریکہ کے اس تاثر کو پوری تقویت دیا کرتے تھے۔ اب اگرچہ حکومت اسلام آباد میںوہی قائم ہے جس کا انتخاب 2008ءمیں واشنگٹن نے کیا تھا لیکن چونکہ ” جی ایچ کیو “ کی سوچ میں تبدیلی رونما ہوچکی ہے ` اس لئے امریکہ نے اپنے ” دائرہءاختیار “ کے لئے بلوچستان کا انتخاب کرلیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پہلے بلوچ قوم پرستوں کو صرف بھارت کی سرپرستی حاصل تھی اور امریکہ درپردہ ان کی مدد نہیں کررہا تھا۔ امریکہ کے حکمت ساز مستقبل قریب کے علاوہ مستقبل بعید کی بھی منصوبہ بندی کیا کرتے ہیں۔ جب سے بھارت ” سوویت بلاک “ سے نکل کر ایشیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مضبوط قلعہ بنا ہے امریکیوں کو ایک ” مضبوط اور متحدپاکستان “ کی ضرورت نہیں رہی اور اس خطے میں وہ اپنی ” فیصلہ کُن “ موجودگی بلوچستان میں قلعہ بند ہو کر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
اپنے اِن عزائم کی تکمیل کے لئے انہیں سہولت یہ حاصل ہے کہ ان کا سرمایہ تمام ایسے لوگوں کی دسترس میں ہے جو معقول معاوضے کی خاطر اپنا ایمان اور اپنی خدمات فروخت کرنے کے لئے تیارر ہتے ہیں۔
” بلوچ حقوق کی پامالی “ سے زیادہ موثر نعرہ اس مکروہ مقصد کی تکمیل کے لئے کون سامل سکتا ہے۔؟
دانشوروں کی ایک بہت بڑی کھیپ پروپیگنڈے کی اس مہم میں ” امریکیوں اور بھارتیوں “ کی آلہ کار بن چکی ہے ۔۔۔
اور ان میں اکثریت ایسے دانشوروں کی ہے جنہیں امریکہ بہادر سے یہ پوچھنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ ” کیا اُن بے بس شہریوں کے حقوق نہیں ہوتے جنہیں ڈرون حملوں میں نشانہ باندھ کر مارا جاتا ہے ؟“

Scroll To Top