نہ بے نظیر کا باپ چور تھا اور نہ ہی حسینہ واجد کا ` مگر۔۔۔۔

” شروع شروع میں مجھے یہ لگتا تھا کہ مسلم لیگ (ن)کا ہر ووٹر نوازشریف ہے۔۔۔ اب مجھے یہ بھی لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ( ن)کا ہر ووٹر مریم نواز شریف بھی ہے۔۔۔“
یہ راجکماری کے الفاظ ہیں جو انہوں نے مسلم لیگ (ن)کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ادا کئے۔۔۔ اِن الفاظ میں راجکماری کے سارے خواب سموئے ہوئے ہیں۔۔۔ اپنے ہر خواب میں وہ خود کو پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز دیکھتی ہیں۔۔۔ کبھی اُن کا ذہن بے نظیر بھٹو کی طرف جاتا ہے اور کبھی حسینہ واجد کی طرف۔۔۔ اپنا موازنہ اِن دو شخصیات کے ساتھ کرتے وقت وہ ایک بات بھول جاتی ہیں کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا تو ان کے پیچھے ان کے باپ کی ” قبر“ تھی۔۔۔ اور جب حسینہ واجد میدان ِ سیاست میں اتریں تو اُ ن کے پیچھے بھی ان کے باپ کی ” قبر “ تھی۔۔۔
محترمہ مریم نواز کے پیچھے کوئی قبر نہیں۔۔۔ پانامہ ہے۔۔۔ صرف پانامہ نہیں ایک اقامہ بھی ہے۔۔۔ عرفان صدیقی قسم کے لوگوں نے مریم نواز کو پانامہ ` اقامہ` ہنگامہ `بہانہ اور نشانہ کے چکر میں ڈال دیا ہے۔۔۔ وہ قافیہ ردیف کے اِس چکر میں ایسی پھنسی ہیں کہ انہیں اپنے باپ کے ” پانامہ زدہ “ ہونے پر بھی ناز ہے اور ” اقامہ زدہ “ ہونے پر بھی۔۔۔ اقامہ کے بارے میں موصوفہ کا کہنا ہے کہ ان کے ابا حضور کا مقصد صرف شوقیہ ملازمت کرنا تھا ` تنخواہ لینا نہیں۔۔۔ بڑی معصومیت سے وہ یہ شکوہ کرتی ہیں کہ میرے ابا کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی پاداش میں نکال دیا گیا ۔۔۔ حالانکہ وہ جانتی ہیں کہ اِس ”اقامہ “ کے پیچھے اُن کے ابا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر کیا گُل کھلا رہے تھے۔۔۔
بہرحال جو بات میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ بڑی سیدھی سادی اور آسان ہے۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو پر آپ اور کوئی بھی الزام لگالیں ` انہیں آپ ” چور “ ہر گز نہیں کہہ سکتے۔۔۔ یہی بات شیخ مجیب الرحمان پر بھی صادق آتی ہے۔۔۔ مریم نواز کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے حصے میں ایک ایسا باپ آیا ہے جسے چوری کے الزام میں نکالا گیا ہے۔۔۔ بات شاید پھر بھی بن جاتی لیکن محترمہ نے ایک ” نادان“ لمحے میں ہوشیار بننے کی کوشش کی اور ” جعل سازی “ کا ارتکاب کربیٹھیں۔۔۔
اب انہیں وزیراعظم بننے کے لئے جعل سازوں کا کوئی جزیرہ تلاش کرنا ہوگا۔۔۔

Scroll To Top