کوئی اتھارٹی یا ریاستی ادارہ آئین کیخلاف کام کرے ؛ تو عدالت کو نظر ثانی کا اختیار ہے، چیف جسٹس

  • تمام ریاستی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں آئین کے مطابق ادا کرنی چاہئیں ،آئین سب سے بالاتر ہے، عدلیہ انصاف فراہم ، بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے ، چیف جسٹس ثاقب نثار
  • انصاف کا مقصد آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے ،ججز کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے ، فل کورٹ ریفرنس سے خطاب
  • انصاف کا مقصد آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے لہذا انصاف کےلئے ضروری ہے جمہوریت کا تحفظ اور بچاو¿ کیا جائے، فراہمی انصاف کےلئے باراوربینچ کومتحد ہونا ہوگا

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاست کے تمام اداروں کو اپنی زمہ داریاں آئین کے مطابق ادا کرنی چاہئیں اور ججز کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے۔نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لیے گئے ،گزشتہ ایک سال کے دوران انسانی حقوق سیل کے ذریعے 29 ہزار 657 شکایات کو نمٹایا گیا ،ججز نے چھٹیوں کا بیشتر وقت بھی کام میں گزارا، چھٹیاں قربان کرنے کے باوجود زیرالتواءکیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا، 31اگست 2016 کو زیر التواءمقدمات کی تعداد 30 ہزار 871 تھی، ایک سال کے دوران 13 ہزار 667 مقدمات نمٹائے گئے تاہم اس دوران لاہور رجسٹری میں 5 ہزار 611 ، کراچی میں ایک ہزار 292، پشاور رجسٹری میں 595 جبکہ کوئٹہ میں 518 نئے مقدمات دائر ہوئے، 31 اگست 2017 تک زیرالتواءمقدمات کی تعداد 36 ہزار 692 ہوگئی۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انصاف کا مقصد آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے لہذا انصاف کےلئے ضروری ہے جمہوریت کا تحفظ اور بچاو¿ کیا جائے، فراہمی انصاف کےلئے باراوربینچ کومتحد ہونا ہوگا۔ آئین سب سے بالاتر ہے، عدلیہ انصاف فراہم ، بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے ، ججز کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام اداروں کو اپنی ذمہ داریاں آئین کے مطابق ادا کرنی چاہئیں،کوئی اتھارٹی یا ریاستی ادارہ آئین کے خلاف کام کرے تو عدلیہ کو جوڈیشل ریویو کا اختیار ہے ، ناانصافی سے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور قوموں کو ناانصافی افراتفری اور انارکی کی طرف لے جاتی ہے۔

Scroll To Top