شریف خاندان کی شوگر ملز کی جنوبی پنجاب منتقلی غیر قانونی قرار

  • عدالتی حکم کی8مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ،لاہور ہائی کورٹ نے بھی سابق وزیراعظم کےخلاف آبزرویشن دے دی
  • وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے شوگر ملز کی منتقلی کےلئے استثنیٰ دینے کا جاری نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کالعدم

شریف خاندان کی شوگر ملز کی جنوبی پنجاب منتقلی غیر قانونی قرار

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے شریف خاندان کی 3 شوگر ملز کی جنوبی پنجاب منتقلی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں 3ماہ کے اندر آبائی اضلاع میں واپس منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس شجاعت علی خان پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے شریف خاندان کی ملکیت حسیب وقاص شوگر ملز، اتفاق شوگر ملزاور چودھری شوگر ملز کی طرف سے دائر انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردی ہیں۔فاضل بنچ نے 38صفحافت پر مشتمل محفوظ فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے تحت 3 ماہ میں حسیب وقاص کو مظفر گڑھ سے واپس ننکانہ صاحب، چودھری شوگر ملزم کو رحیم یار خان سے واپس ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اتفاق شوگر ملز کو بہاولپور سے واپس ساہیوال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو تو رجسٹرار آفس اس کیس کو دوبارہ سماعت کے لئے پیش کرے، فیصلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے شوگر ملز کی منتقلی کے لئے استثنیٰ دینے کا جاری نوٹیفکیشن بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا گیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب انڈسٹریز آرڈیننس کی دفعہ 3کے تحت پابندی کی موجودگی میں شوگر ملز کی دوسرے اضلاع منتقلی یا نئی ملز کی اجازت غیرقانونی ہے جبکہ سپریم کورٹ بھی طارق مزاری کیس میں دفعہ 3 کو موثر قرار دے چکی ہے، فیصلے میں آرڈیننس کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انڈسٹری کی توسیع یا نئی انڈسٹری کے قیام کے ساتھ ساتھ عوام کے سماجی، معاشی، معاشرتی، ماحولیاتی اور دیگر مفادات کو تحفظ فراہم کرنا لازمی ہے، آئین پاکستان بھی شہریوں کے انہیں بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے جس کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی، قانون میں منتقلی کے معنی بھی نئی شوگر ملز کے قیام کے ہیں، تینوں شوگر ملز کو جنوبی پنجاب منتقلی کیلئے آرڈیننس کی دفعہ تین کے تحت پیشگی اجازت لینا لازمی تھا لیکن اجازت لئے بغیر اور عدالتی حکم امتناعی کے باوجود ان شوگر ملز کو جنوب پنجاب منتقل کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرڈیننس کی دفعہ 11کے تحت شوگر ملز کی منتقلی کے لئے استثنیٰ دینے کاکوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا بلکہ یہ حکومت کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے تاہم کسی بھی اتھارٹی کو لامحدود صوابدیدی اختیار ات آئین کی بنیادی روح کے منافی ہے، عدالت نے قرار دیا کہ استثنیٰ دینا ضروری بھی ہو تو اس کے لئے آرڈیننس کے اندر سے ہی رہنمائی لی جائے ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صوابدیدی اختیارات صرف وہاں استعمال کئے جا سکتے ہیں جہاں بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ تحریری فیصلے میں شریف خاندان کے شوگر ملز کیس میں عدالتی حکم امتناعی کو مسلسل نظرانداز کرنے پر سخت ریمارکس بھی شامل ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تینوں شوگر ملز کی انتظامیہ نے 8مئی 2015ئ سے لے کر فروری 2017ئ تک 8سے زائد مرتبہ عدالتی حکم امتناعی کی خلاف ورزی کی اور عدالت سے جھوٹ بھی بولا، ملزانتظامیہ کی طرف سے عدالتی فیصلوں کو ہوا میں اڑانا کیس کا سیاہ ترین پہلو ہے، فیصلے میں چودھری شوگر ملز سے متعلق عدالتی حکم امتناعی نظرانداز کرنے پر میاں محمدنواز شریف کا نام لے کر عدالت نے افسوس کا اظہار کیا اور قراردیا کہ سیکیورٹیز ایکسچینج کمشن پاکستان کے ریکارڈ 2015-16ئ کے مطابق چودھری شوگر ملز میاں محمد نوازشریف اور ان کے خاندان کی ملکیت ہے ،ان کی طرف سے عدالتی فیصلوں کے بے توقیری پر افسوس ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوگر ملز منتقلی کے لئے شریف خاندان نے ذاتی خواہش کے مطابق قانون کی غلط تشریح کی اور قانون کی بالادستی کا مذاق اڑایااورشوگر ملز کے خلاف حکم امتناعی کومسلسل رونداجاتا رہا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پہلے دو رکنی بنچ نے ذہن بنایا کہ شوگر ملز کوتب تک سربمہر رکھا جائے جب تک یہ قانون کے مطابق حکومت سے اجازت نہیں لیتے تاہم ریکارڈ سے ظاہر ہونیوالی عدالتی حکم امتناعی کی مسلسل بے توقیری نے دو رکنی بنچ کو حتمی فیصلہ دینے پر قائل کیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اشرافیہ کو عدالتی فیصلے ہوا میں اڑانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اگر اشرافیہ کو عدالتی فیصلے ہوا میں اڑانے کی اجازت دے دی گئی تو عوام کا نظام عدل سے اعتبار اٹھ جائے گا اور یہ رجحان قانون کی بالادستی کی بنیادوں کو بھی کمزور کرے گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی بے توقیری پر مفاہمت کا مطلب نظام عدل کا مذاق بنانا ہے جبکہ جمہوریت کی مضبوطی انصاف، احتساب اور شفافیت میں مضمر ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے جہانگیر ترین کی درخواست پر شریف فیملی کی مذکورہ ملوں کی جنوبی پنجاب منتقلی کو غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے خلاف یہ انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔فاضل ڈویڑن بنچ نے 28جولائی کو ان اپیلوں کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو گزشتہ روز سنا دیا گیا۔

Scroll To Top