تاریخ اسلام

تاریخ اسلام

حجاج اس عرض داشت کو پڑھ کر سخت ناراض ہو ا اس نے فوراً حکم بھیجا کہ تم اپنی پیش قدمی کو جاری رکھو۔ رتبیل کی فوج کے لوگوں کو جو تمہاری قید میں ہیں قتل کر دو اور قلعوں کو مندم کر دو۔ اس حکم کے پہنچنے سے پہلے ہی فوراً دوسرا اور تیسرا حکم بھی اسی مضمون کا روانہ کیا۔ تیسرے حکم میں یہ بھی لکھا کہ اگر تم نے ہمارے اس حکم کی تعمیل کی تو بہتر ورنہ تو اپنے آپ کو معزول سمجھ اور تیری جگہ تیرا بھائی اسحق بن محمد بن اشعت امیر لشکر ہے۔ یہ تینوں حکم عبدالرحمن بن محمد کے پاس یکے بعد دیگرے پہنچے۔ عبدالرحمن نے حجاج کے احکام کو پڑھ کر تمام لشکر کو جمع کر کے ایک تقریر کی اور کہا کہ ”میں نے تم سب لوگوں کے مشورے سے بات قرار دی تھی کہ ہم ترکوں کے مفتوحہ ملک کا انتظام کریں اور اس سال اپنی مضبوطی اور تیاری مکمل کر کے آئندہ سال بقیہ ملک کو فتح کریں لیکن حجاج ترکوں سے لڑنے اور بلا توقف حملہ آور ہونے کو لکھتا ہے اسے تمہارے تھک جانے اور آرام کرنے کا بھی خیال نہیں ہے یہ وہی ملک ہے جہاں تمہارے بھائی پچھلے دنوں بربارد ہو چکے ہیں۔ میں بھی تمہارا بھائی اور تم ہی جیسا ایک شخص ہوں۔ اگر سب لوگ لڑنے اور آگے بڑھنے پر آمادہ ہیں تو میں سب کے ساتھ ہوں۔“
اس تقریر کو سن کر تمام کوفی و بصری یک لخت برا فروختہ ہوگئے۔ اور یک زبان ہو کر کہنے لگے ہم حجاج کی اطاعت ہر گز نہ کریں گے اور ہرگز اس کا کہنا نہ مانیں گے۔ عامل بن و اثلہ کنانی کہنے لگا کہ حجاج تو خدا کا دشمن ہے اس کو امارت سے معزول کر کے عبدالرحمن بن محمد کے ہاتھ پر امارت کی بیعت کر لو۔ ہر طرف سے لوگ بول اٹھے کہ ہاں ہاں ہمیں یہ بات بہ دل منظور ہے۔ عبدالرحمن بن شیث ربعی نے اٹھ کر کہا چلو دشمن ِ خدا حجاج کو اپنے شہر سے نکال دو۔ یہ سنتے ہی تمام لشکری عبدالرحمن کے ہاتھ پر بیعت کر نے کو ٹوت پڑے اور انہوں نے عہد کیا کہ ہم حجاج کو عراق سے نکال کر چھوڑیں گے اسی وقت عبدالرحمن بن محمد نے رتبیل کے پاس پیغام بھیجا اور اس شرط پر فوراً صلح ہوگئی کہ اگر ہم حجاج کے خارج کرنے میں کامیاب ہوگئے تو رتبیل کے ملک کا تمام خسراج معاف کر دیا جائے گا اور اگر حجاج غالب آیا تو رتبیل اس کو یا اس کی فوج کو اپنے علاقے میں داخل ہونے سے روکے گا اور برسرِ مقابلہ پیش آئے گا۔
چنانچہ یہ لشکر تمام فتح کئے ہوئے علاقے کو چھوڑ کر عراق کی طرف واپس روانہ ہوا۔ جب اس لشکر کے واپس آنے کا حال حجاج کو معلوم ہوا تو اس نے عبدالملک کو لکھا کہ یہ صورت پیش آئی ہے اب میری مدد کے لئے فوج روانہ کرو۔(جاری ہے)

Scroll To Top