علم کا فروغ مسائل کم کرسکتا ہے

zaheer-babar-logoبظاہر یہ اطمنیان بخش ہے کہ او آئی سی نے میانمار کی صورتحال پر کھل کر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے اور ان پر مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اوآئی سی کے اجلاس کے موقعہ پر ترک صدر نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے بے پناہ مظالم پر میانمار حکومت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ترکی روہنگیا مسلمانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریگا۔اجلاس کے دوران قازق صدر نے درپیش چیلنجز پر قابو پانے اور غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان ڈائیلاگ کی کی تجویز پیش کی۔
قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم کے اولین سائنس و ٹیکنالوجی اجلاس میں مستقبل میں مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنے، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں اجتماعی صلاحیتوں اور تعلیمی بجٹ میں اضافے اورغربت کے خاتمے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا ۔اس میں دوآراءنہیں کہ بین الاقوامی سطح پر مسلمان جن مسائل کا شکار ہیں اس سے نکلنے کے لیے باہم اتفاق رائے کے علاوہ جدید علوم کا حصول کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمان ملکوں کو باہمی تعلقات میں فروغ دینے کے علاوہ ظلم کے شکار مسلمانوں کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔او آئی سی کا میانمارمیں مظلوم مسلمانوں کی حالت زار پر تشویش کااظہار بجا مگر آگے بڑھ کر نہتے اور مظلوم مسلمانوں کی ممکن حد تک مدد کرنا ہوگی۔ مثلا تمام مسلمان ملکوں کو میانمار پر دباو بڑھانا ہوگا کہ وہ مسلمانوں پر ظلم کرنے میں ملوث مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔او آئی سی کا یہ مطالبہ غلط نہیں کہ کئی دہائیوں سے میانمار میں رہنے والے مسلمانوں کوشہریت دی جائے۔
روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے بے پناہ مظالم کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی جارہی ہے۔ قابل تحسین یہ ہے کہ غیر مسلم ممالک کا میڈیا اور سول سوسائیٹی آگے بڑھ کر اس کھلم کھلا نسل کشی کی مذمت کررہی مگر مسلمان ملکوںکو اس بڑھ کر اقدمات اٹھانے ہونگے ۔ یہ بھی کہا جارہا کہ ترکی کی طرح روہنگیا مسلمانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنا ہوگا۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح خود پر انتہاپسندی کا الزام دھو ڈالیں۔ مسلم اہل علم کو دنیا کو یہ حقیقت باور کروانا ہوگی کہ اسلام میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں بلکہ اسلام علم،تحقیق اور ترقی کی درس دیتا ہے۔ماضی میں مسلم دنیا کی سائنس و ٹیکنالوجی میں شاندار ترقی کوبحال کرنے اور اسلاموفوبیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔ لازم ہے کہ مسلم ممالک اپنے ہاں نوجوانوں کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے تحفظ دینے کیلئے تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کو اولین ترجیح دیں۔
بظاہر مسلمانوں کے لیے موجودہ صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے تحفظ دینے کیلئے تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کو اپنے ترجیحات میں شامل کریں۔اوآئی سی کے پلیٹ فارم کو استمال کرکے اہل توحید سائنس و ٹیکنالوجی میں مسلم دنیا کی شاندار ترقی اور کھویا ہوا مقام بحال کرنے اور بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے چیلنجز پر قابو پانے اور غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان ڈائیلاگ کی کی تجویز بھی قابل غور ہے۔ دراصل خطے میں امن کی خاطرمسلمان اہل فکرو نظر کو آگے بڑھنا ہوگا ۔ماضی میں علم اور تحقیق اسلامی تہذیب کی میراث تھی لیکن علم سے کنارہ کشی اختیار کر کے اہل اسلام نے اپنی شان و شوکت کھو دی اور ترقی سے محروم ہوگئے۔
آج حالات یہ ہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں کے برعکس مسلم دنیا میں تعلیمی اخراجاتی کیلئے جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد مختص کیا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں جی ڈی پی 5.2فیصد ہے۔مسملمان نوجوان تعلیمی مقاصد کے حصول کیلئے یورپی ممالک جاتے ہیں۔مسلمانوں میں چند ملک ہی ایسے ہیں جو جدید علوم وفنون پر خصوصی توجہ دیتے ہیں مثلا ترکی سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب راغب ہے ترکی نے او آئی سی ملکوں سے 9500طلبا کو سکالر شپ دیئے ہیں مگر شائد یہ کافی نہیں آج مسلمان ملکوں کو موجودہ منظر نامے میں امت مسلمہ کو نفاق نہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔ یقینا ترکی حکومت بنگلہ دیشی حکومت کے تعاون سے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کی کوشش کررہی ہے مگر دیگر ملکوں کو بھی آگے آنا چاہے۔ سوچنا ہوگا کہ آخر کیوں مسلمان نوجوانوں کو شدت پسندی،دہشت گردی،غربت اور اسلامو فوبیا جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلم اشرافیہ اور عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے مسائل کم کرنے کی بجائے مسائل بڑھا رہے ہیں۔ عام مسلمان کا حق حکمرانی تسلیم کیے بغیر ان مشکلات پر قابو پانا محض خواب ہوگا جو اس وقت پوری بدصورتی کے ساتھ نمایاں ہیں مگر افسوس یہ امید کرنا مشکل ہے کہ مسقبل قریب میں مسلم دنیا اپنے مسائل پر کامیابی سے قابو پالے ادھر میانمار کریک ڈان کے نتیجے میں وہاں سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق گزشتہ سولہ دنوں سے روزانہ کی بنیادوں پر اوسطا بیس ہزار روہنگیا بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں۔ ادارے نے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ ان مہاجرین کو فوری مدد پہنچانے کی خاطر 26.1 ملین ڈالر کی رقوم کا بندوبست کیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور انہیں بنیادی ضروریات زندگی کی اشیا بھی دستیاب نہیں۔ ۔

Scroll To Top