داستان ایک ناسور اور ایک عفریت کی 10-02-2012

kal-ki-baatوطنِ عزیز میں معاشرت سیاست اور حکمرانی کے شعبوں کا سب سے خوفناک ناسور کرپشن ہے جس نے ملک کی تقدیر میں ذلتیں اور بربادیاں لکھ دی ہیں۔ اس المناک حقیقت کا ستم ظریف پہلو یہ ہے کہ جو لوگ کرپشن کرتے ہیں وہ اپنی معصومیت اور بے گناہی کا پرچم بلند رکھنے کے لئے اس دلیل کا سہارا لیتے ہیں کہ ” الزام محض ایک الزام ہوتا ہے جب تک اس کے ناقابل تردید ثبوت سامنے نہ آجائیں “ ۔ اب تو ” استثنیٰ “ نام کی ایک ڈھال بھی سامنے آچکی ہے جو الزامات کے تیروں کو موثر طور پر روک لیتی ہے `اور کسی بھی ملزم کو تحقیقات کی پل صراط عبور ہی نہیں کرنی پڑتی۔۔۔
کرپشن کا ناسور ہمیشہ ایسی ” حکمرانی “ کے تحت پنپتا ہے جو ایک طرف قواعد و ضوابط سے آزاد ہو اور دوسری طرف نا اہلی اور نالائقی کے ستونوں پر کھڑی ہو۔انگریزی میں ایسی حکمرانی کو Misgoverance یا Bad governanceکہا جاتا ہے۔ ضد`ایسی حکمرانی کی Good Governanceہے ` جنرل پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں جس کا بڑا چرچا رہا۔۔۔
اگر وطن ِ عزیز کا مقدر اچھا ہوتا تو کرپشن کے ناسور اور حکومتی نا اہلی کے عفریت کا حملہ اس پر بیک وقت نہ ہوتا اور ساتھ ساتھ نہ چلتا۔اگر کوئی ملک یا قوم دونوں ” لعنتوں “ سے محفوظ رہے تو یہ بہت بڑی خوش قسمتی کی بات ہوگی لیکن کسی ملک کا ” چلتے“ رہنا اس ” شرط“ کے ساتھ بہرحال منسلک ہے کہ اگر کرپشن کے ناسور پر قابو پانا ممکن نہ بھی ہو تو بھی اسے ” نااہلی اور نالائقی “ کے شکنجے سے بہرحال نکالا اور محفوظ رکھا جائے۔۔
آج کے پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ایک طرف کرپشن کے ناسور کے ہاتھوں ” گَل سَڑ“ رہا ہے اور دوسری طرف نا اہلی اور نالائقی میں کمال رکھنے والی حکمرانی کے شکنجے نے اس کی چیخیں نکلوا دی ہیں ۔۔۔!

Scroll To Top