ہماری عدلیہ نے ایک قابلِ صد افتخار فیصلہ کیا مگر پھر ایک زہریلے سانپ کوزخمی کرکے ملک میں زہر پھیلانے کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا !

محترمہ مریم نواز صاحبہ اپنے ابا حضور کی رسوائی کا بدلہ لینے کے لئے جس انداز میں باہرنکلی ہیں اور کیمرے کی آنکھوں کے سامنے لاہور کی گلیوں میں وہ جو آہ و بکا کررہی ہیں اس سے میرے ذہن کا ہندہ بنت عتبہ کی طرف جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔۔۔ ہندہ بھی اسی طرح خدام و خادمات کے حصار میں نکلا کرتی تھی اور ایسے ہی کلمات مدینہ والوں کے لئے ادا کیا کرتی تھی جیسے کلمات مریم بنت نوازشریف مملکت خدادادِ پاکستان کی عدلیہ اور فوج کے بارے میں ادا کررہی ہیں۔۔۔ ہندہ کہا کرتی تھی۔۔۔ ” مکہ والو میرے باپ اور میرے بھائی کا بدلہ لے کر اپنی غیرتمندی کا ثبوت دینا تم پر میرا قرض ہے۔۔۔“ مریم نوازشریف کہہ رہی ہیں۔۔۔ ” لاہور والو اٹھو اور ان پانچ افراد اور اُن کے پشت پناہوں کو بتا دو کہ ان کے ہاتھوں تمہیں اپنے محبوب قائد اور میرے پیارے ابا کی نا اہلی کا فیصلہ قبول نہیں۔۔۔“
مجھے ان دونوں کرداروں ۔۔۔ یعنی مریم اور ہندہ میں اس قدر مثاثلت نظر آرہی ہے کہ میں خود حیران ہوگیا ہوں۔۔۔
حیران میں اس وقت بھی ہوا تھا جب 25دسمبر 2015ءکو مسلمانان گجرات کے جلاد اور ہندوتوا کا پرچم بلند کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے جگری دوست نوازشریف کی خصوصی دعوت پر مریم بنت نوازشریف کی صاحبزادی کی رسم شادی (خانہ آبادی)میں شرکت کے لئے پور ے لاﺅ لشکر کے ساتھ شریفیہ راجد ھانی جاتی امراءتشریف لائے تھے۔۔۔
یقین نہیں آیا تھا کہ مسلمانوں کے لہو سے ناشتہ کرنے والا مودی ` ہمارے حکمران خاندان کو اس قدر عزیز ہے۔۔۔
یقین ایک ایسی چیز ہے جو یا تو آتا ہے یا نہیں آتا۔۔۔ ایک طرف ہمارا یہ یقین سرخرو ہوا کہ ” ہماری عدلیہ اِس مرتبہ سچ مچ ایک ایسا تاریخ ساز فیصلہ کرے گی جس پر صرف خود عدلیہ کو ہی نہیں پوری قوم کو بھی ناز ہوگا۔۔۔“
ہماری عدلیہ نے ایسا ہی قابل صد افتخار فیصلہ کیا۔۔۔ مگر پھر ایسا کیوں ہوا کہ زہریلا سانپ زخمی ہو کر گلیوں میں اور سڑکوں پر آگیا۔۔۔؟
یقین نہیں آرہا کہ زخمی سانپ کو معاشرے میں اپنا زہر پھیلانے کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔مریم نواز جو زہرا گل رہی ہیں اسے بے ضرر سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔۔۔
یہ وہ خاندان ہے جس نے اقتدار کے دیوتا اوردولت کی دیوی کے قدموں میں اپنا ضمیر ` اپنا ایمان اور اپنی حب الوطنی ۔۔۔ سب کچھ ڈال دیا ہے۔۔۔ اس خاندان کا ہر فرد جھوٹ اس فراوانی کے ساتھ بولتا ہے کہ سننے والا چند لمحوں کے لئے شش و پنج میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔۔۔ ”پاکستان بدل رہا ہے “ کا نعرہ لے کر خدام اور خادمات کے حصار میں باہر نکلنے والی یہ دخترِ انقلاب ہی تھی جس نے کہا تھا۔۔۔ ” یہ لوگ کہاں سے میرے نام پراپرٹی تلاش کرلاتے ہیں ؟ ملک سے باہر تو دور کی بات ہے میری تو ملک میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔۔۔ میری گزاراوقات ابا حضور کی مہربانیوں سے ہوتی ہے ۔۔۔“
بنت عتبہ کی یاد تازہ کرنے والی دختر ِنواز سن لو۔۔۔ پاکستان نہیں بدل رہا۔۔۔پاکستان کے لوگ اتنے بے غیرت کبھی نہیں بنیں گے کہ رزقِ حلال اور رزقِ حرام کے درمیان فرق کو مٹانے کی کوشش کو انقلاب کا نام دے ڈالیں۔۔۔
وقت آگیا ہے کہ سچ ببانگِ دہل بولا جائے۔۔۔ اور سچ جاننا ہے تو حضرت عمر فاروق ؓ کی اُس بات کو غور سے پڑھیں اور سمجھیں جو انہوں نے مصر کے گورنر حضرت عمروالعاص ؓ کو لکھی تھی۔۔۔
” عاص کے بیٹے۔۔۔ تم نے اپنی دولت کو جائز ثابت کرنے کے لئے جو دلیلیںدی ہیں انہیں میں قبول بھی کرلوں تو محمد (ﷺ)کی غلامی میں دھڑکنے والا یہ دل کیسے مانے گا کہ کوئی مسلمان اس قدر امیر ہوسکتا ہے ۔۔۔؟ بہتر یہی ہے میرے بھائی کہ اپنی ضروریات سے زیادہ جتنا بھی مال تمہارے پاس ہے وہ بیت المال میں جمع کرا دو۔۔۔مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تمہیں پابہ زنجیر مدینہ طلب کروں۔۔۔“
مطلب اس بات کا صاف ظاہر ہے ۔۔۔ اقتدار میں کمائی جانے والی دولت کبھی رزقِ حلال میں شمار نہیں ہوگی۔۔۔
اور یہ جو پاناما کا قصہ ہے اس کا تعلق تو اس دولت سے ہے جو شریف خاندان نے ربع صدی قبل اپنے پہلے دور ِ اقتدار میں کمائی۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے ” طلبِ زر“ اور ” حصولِ زر“ کے میدان میں کیا کیا کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ان کا تو ہمیں علم تک نہیں۔۔۔
اس وقت شریف خاندان صرف اپنے اقتدار کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کی جنگ نہیں لڑ رہا ` ان خفیہ خزانوں کو محفوظ رکھنے کی جنگ بھی لڑ رہا ہے جن کی خاطر ایمان بیچا گیا ہے ` ضمیر بیچا گیا ہے ` ملک کا مستقبل بیچا گیا ہے۔۔۔شریف خاندان کی حکمت عملی دو رخی ہے۔۔۔ ایک تو یہ کہ اداروں کے ساتھ تصادم کرکے دنیا کو بتایا جائے کہ پاک فوج جمہوریت کشی پر تُلی ہوئی ہے۔۔۔ اور اس کے علاوہ یہ کہ حلقہ 120لاہور کا الیکشن جیت کر پوری دنیا پر ثابت کردیا جائے کہ پاکستان کے عوام نے اپنے ” محبوب قائد“ کے خلاف ” سازشی عدلیہ “ اور ” غاصب فوج “ کا فیصلہ مسترد کردیا ہے۔۔۔
حلقہ120 لاہور مسلم لیگ (ن)کا گھر ہے۔۔۔ اپنے ہی گھر کو جیت کر شریف خاندان اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ نہیں ڈال سکے گا۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ 120لاہور کا حلقہ بلا مقابلہ اچانک بیمار پڑ جانے والی مادام کلثوم نواز کو دان کر دیا جانا چاہئے تھا۔۔۔

Scroll To Top