بات یہ نائن الیون کی ہے مگر ذکر اِس ہندہ بنت عقبہ کا بھی آگیا ہے جو اپنے باپ کے انتقام کے لئے مکہ کی گلیوں میں نکلی تھی

aaj-ki-bat-logoسولہ برس قبل تقریباً ، شام کے چھ بجے گھر آکر ٹی وی آن کیا تھا تو مجھے مین ہٹن کے جڑواں ٹاورز سے دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آئے تھے۔ تب نہ تو میرے خواب و خیال میں تھا اور نہ ہی دنیائے اسلام کے کسی اور باسی کے خواب و خیال میں کہ جس آگ کے شعلے ہمیں نیویارک کی سکائی لائن پر نظر آرہے ہیں وہ آگ امتِ محمدی کے مستقبل کو جلاکر خاک کر ڈالنے کے لئے لگائی گئی ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ نائن الیون کو جنم دینے والے۔۔۔ مغربی ایجنڈے کے براہ راست کردار تھے۔ وہ سچ مچ القاعدہ نامی اس تنظیم کے متحرک کارکن ہوں گے جس نے فلسطین میں جاری اسرائیلی ظلم و بربریت اور مغرب کی صیہونیت نوازی کے خلاف ابھرنے والے مزاحمتی جذبات کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔۔ مگر انہیں اپنے خوفناک مشن کی تکمیل کر گذرنے کا موقع سکیورٹی کی ایک سوچی سمجھی ناکامی کے ذریعے دیا گیا تھا۔۔ میں یہاں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاو¿ں گا۔۔
نائن الیون کے سانحے کے چند گھنٹوں کے ہی بعد نیوکون حکمت سازوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے صدر جارج بش انگشتِ الزام کا رخ کم از کم تین اہداف کی طرف کر چکے تھے۔
ایک ہدف اسامہ بن لادن۔۔ دوسرا ہدف افغانستان میں قائم پاکستان دوست طالبان حکومت ۔۔ اور تیسرا ہدف خود پاکستان۔
جو جنگ نائن الیون کے ردِعمل کے طور پر عالم اسلام پر مسلط کی گئی اسے War On Terror کا نام دیا گیا۔
اگر چہ ڈپلومیسی کی زبان استعمال کرنے والوں نے خاصی احتیاط برتی ہے اور یہ کہنے سے احتراز کیا ہے کہ اس جنگ کا ہدف ” اسلام “ ہے لیکن ”انتہا پسند اسلام“ اور ”معتدل اسلام“ کی ترکیبیں میری نظر میں صرف دکھاوا ہیں۔ اصل حقیقت رچرڈ سٹیل کی اس سٹیٹمنٹ میں چھپی ہوئی ہے کہ اگر Anti-Christقوتوں کو فیصلہ کن انداز میں کچلنا مقصود ہے تو (حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و الیہ وسلم) کے پیروکاروں کو پوری طاقت کے ساتھ کچل ڈالنا ہوگا۔“
یہ موضوع بڑی تفصیلات کا متقاضی ہے۔ میں اس پر بہت کچھ لکھ بھی چکا ہوں۔ آج میرا یہ لکھنا ہی کافی ہے کہ گذشتہ 16برس میں کرئہ ارض پر جو کچھ بھی ہوا ہے وہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں امریکہ مسلمانوں کو مسلسل دیوار کے ساتھ لگاتا چلا جا رہا ہے۔ امریکی حکمت ِ عملی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ گولیاں چلانے والے ہاتھوں سے بھی اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو رہے ہیں اور گولیاں کھانے والے سینے بھی ڈوبتی آواز میں ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔
میرا ایمان ہے کہ نشاة اسلام کا خواب ضرور پورا ہوگا۔۔ میرا یمان یہ بھی ہے کہ نشاة ثانیہ کی صدی بھی یہی ہے۔ اور میرا ایمان یہ بھی ہے کہ پاکستان اسلام کی نشاة ثانیہ کے پرچم برداروں کا سالار ہوگا۔۔
لیکن اس کے لئے ہمیں پاکستان کے خلاف کی جانے والی ہر اندرونی اور بیرونی سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔
دنیا بھر کو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی وجہ اسلام کے انتہا پسندانہ تصورات سے وابستگی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن بندوقوں سے نکلنے والی گولیوں کا رُخ محافظان پاکستان کی طرف ہے وہ اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمنوں نے اپنے ”دانستہ“ یا نا دانستہ“ ایجنٹوں کے ہاتھوں میں تھمائی ہوئی ہیں۔
ہمیں یہ جنگ بہت جلد جیتنی ہوگی
اور ہمیں وہ جنگ بھی فیصلہ کن انداز میں جیتنی ہوگی جس کی پہلی بڑی کامیابی ہمیں کرپشن کے ایک بہت بڑے قلعہ کی سب سے مضبوط فیصل کے گرنے کی صورت میں حاصل ہوئی ہے۔
جاتے جاتے میں ایک بات ضرور قلمبند کرنا چاہتا ہوں۔
میں جب بھی مریم نواز کو اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ” آہ و بکا“ کرتے سنتا ہوں تو میرا ذہن ابو سفیان کی اہلیہ ، عتبہ کی بیٹی اور ولید کی بہن ہندہ کی طرف جائے بغیر نہیں رہتا۔
وہ اسی طرح اپنے بھائی اور باپ کے انتقام کے لئے مکہ کی گلیوں میں نکلی تھی!

Scroll To Top