قوم کو دھوکہ دینے کا کھیل کب تک جاری رہے گا ؟ 09-02-2012

kal-ki-baat

ہوسکتا ہے کہ اس خبر میں مبالغہ ہو کہ میاں نوازشریف 12ارب روپے کی مالیت کے لیپ ٹاپ طلباءاور طالبات میں تقسیم کرنے ملتان گئے ' مگر چونکہ یہ خبر مسلم لیگ (ن)کے حلقوں سے ہی نکلی ہے اس لئے اس پر یقین کرلینے میں کوئی ہرج نہیں۔
12ارب روپے میرے خیال میں 12 ارب روپے ہی ہوتے ہیں۔ اور اگر ان روایات کوسامنے رکھاجائے جو ہمارے اربابِ اختیار اور ان کے تحت کام کرنے والے اہلکاروں نے ” اشیا کی خرید“ کے معاملے میں قائم کی ہیں تو 12ارب مالیت کے سودے یا سودوں میں اگر بہت زیادہ دیانت داری سے بھی کام لیا گیا ہوگا تو دو ڈھائی ارب ' دو ڈھائی )یا اس سے زیادہ(جیبوں میں ضرور گئے ہوں گے۔
اگرچہ پنجاب حکومت ” کرپشن اور بدعنوانی “ کے معاملے میں ” زرداری صاحب اینڈ کمپنی “ کو ” بلاشرکتِ غیر “ قسم کا ” امتیاز “ عطا کرتی رہتی ہے ' مگر خود اس کا اپنا ریکارڈ بھی خاصا وضاحت طلب ہے۔ پہلے سستی روٹی کا شور اٹھا اور کہنے والوں نے کہا کہ یہ کھیل اربوں کی رقم اِدھر سے اُدھر کرنے کا ایک منفرد کھیل تھا۔ ان الزامات میں صداقت نہیں ہوگی لیکن لوگ اچانک ” سستی روٹی “ کھانا کیسے بھول گئے یا پھر انہیں اس ” سہولت “ سے کیوں محروم کردیا گیا۔؟
پھر دانش سکول بنے اور ایک بار پھر ییلوکیب کی ” سخاوت “ سامنے آئی۔ میرے پاس ان منصوبوں سے منسلک اربوں روپوں کے اعداد و شمار نہیں لیکن آج کل ” کاروبار “ کروڑوں میں نہیں اربوں میں ہی ہوتا ہے۔ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایسے منصوبوں میں جن ” بہتوں کا بھلا “ ہوتا ہے ان میں عام لوگ بھی یقینا شامل ہوتے ہوں گے لیکن اس قسم کے” خیراتی کاموں “ کی بھاری قیمت قومی معیشت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
” لیپ ٹاپ “ سکیم کا مقصد عمران خان سے امیدیں لگا بیٹھنے والی نوجوان نسل کواپنی طرف راغب کرنا ہے۔ اس ضمن میں میاں صاحب نے بڑے جوشیلے انداز میں یہ بھی فرما دیا کہ ” باقی لوگ تو تبدیلی کی صرف باتیں کرتے ہیں ' ہم تو تبدیلی لا بھی چکے ہیں ۔‘ ‘
یہ کس قدر ستم ظریف اتفاق ہے کہ جب میاں صاحب قوم کو تبدیلی کے آجانے کا مژدہ سنارہے تھے تب ایکسپریس نیوز کے کامران شاہد قوم کو جھنگ میں واقع ایک ایسے سکول کی عمارت کا نظارہ کرا رہے تھے جسے آج کل بھینسوںنے آباد کررکھا ہے۔
قوم کو دھوکہ دینے کا یہ کھیل قوم کی امامت کرنے کے دعویدار لیڈر کب تک جاری رکھیں گے ؟

Scroll To Top