بھارت کا روہنگیا مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کا فیصلہ

zaheer-babar-logoبھارت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالنے کے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیمں سراپا احتجاج ہیں۔ ان کے بعقول اس موقعہ پر روہنگیا مسلمانوں کو بھارت سے نکالنے کا فیصلہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اس سے بھارت میں نسلی اور مذہبی نفرت کا پتہ بھی چلتا ہے۔ ادھر بھارتی سرکار کا موقف ہے کہ روہنگیا مسلمان ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیںلہذا ان کو نکال باہر کرنے میں ہی عافیت ہے۔اس تمام صورت حال میں جو شبعہ آگ بھڑکا رہا وہ بجا طور پر بھارت کے اہل صحافت ہیں ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کی آگ میں پڑوسی ملک کا پرنٹ والیکڑانک میڈیا اس بات کا لحاظ کرنے کو ہرگز تیار نہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو اب کوئی ٹھکانے نہیںرہا ، مگر افسوس ایک طرف میانمار کی فوج نہتے شہریوںپر ظلم وستم کے پہاڈ توڈ رہی جبکہ دوسری جانب بھارتی حکومت انھیں پھر دربدر کرنے کا اعلان کرچکی ۔ دراصلل مودی سرکار نے کئی سالوں سے بھارت میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کو نکال باہر کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ برما حکومت کے ان پرتشدد اقدمات کی بھی حمایت کی ہے جو اس وقت جاری وساری ہیں۔

بھارتیہ جتنا پارٹی کی سرکار کے اس فیصلے کئی اعتبار سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے مثلا بھارت میں کئی دوسرے ملکوں کے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ موجود ہیں جنھیں رہائش کے علاوہ روزگار کی بھی اجازت ہے۔ ماضی میں برما میں آنگ سو چی کی نظربندی کے دنوں میں ہزاروں برمی شہری بھارت میں پناہ لیے ہوئے تھے ۔آج بھی ان کی قابل زکر تعداد بدستور بھارت میں بستی ہے۔ سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران لاکھوں تاملوں نے بھارت میںپناہ لی ، نیپال کے بھی ہزاروں باشندے بھارت میں مقیم ہیں مگر ان کے لیے مودی سرکار کے دل ودماغ میں ہرگز کوئی خطرہ نہیں۔ سیاسی مبصرین کے بعقول نریندر مودی چند ہزار روہنگیا مسلمانوں کو بھارت سے نکال کرکے ان متعصب ہندووں میں مقبولیت حاصل کرنے کے درپے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہر اقدام کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ افسوس بے جے پی حکومت میں اس حقیقت کا ادراک کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں کہ دراصل ” ہندو کارڈ “ استمال کرکے بھارتی معاشرے میں تقسیم در تقیسم کو مذید گہرا کیا جارہا۔
پڑوسی ملک کے میڈیا کا قابل زکر حصہ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہا۔ دانستہ طور پر روہنگیا کے لٹے پٹے مسلمانوںکو دہشت گردوں کے روپ میں پیش کیا جارہا۔ بھارتی میڈیا میں انتہاپسند اس انداز میں غلبہ حاصل کرچکے کہ مخالف آوازوں کو برداشت کرنے کا رجحان بتدریج دم توڈ چکا ۔ حال ہی میں انڈیا میں آزاد خیالات رکھنے والی سرکردہ صحافی گوری لنکیش کو بھارتی ریاست بنگلور میں قتل کردیا گیا۔ 55سالہ گوری لنکیش ہفت روزہ ”لنکیش پتریک “ کی مدیر تھیں جو ان کے والد نے شروع کیا تھا۔ ان کے قریبی حلقوں کے بعقول گوری کو حالیہ سالوں میں ہند وانتہاپسندی کے خلاف کھل کر لکھنے اور بولنے پر قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں جس پر انھوں نے اپنے قریبی دوستوں کو آگاہ بھی کیا ۔یہ تاثر عام ہے کہ گوری لنکیش کو ان کے سیاسی نظریات کے باعث قتل کیا گیا۔ ان کو راستہ سے ہٹانے میں کوئی اور نہیں وہ ہندو انتہاپسند تنظمیں ملوث ہیں جو اکھنڈ بھارت کے فلسفے پر کاربند ہیں۔
بھارتی میڈیا پر انتہاپسند ہندووں کا قبضہ ہونا پڑوسی ملک میں حالات کی سنگینی کو ظاہرکررہا۔ سوال یہ ہے کہ جب صحافت جسیے علم وشعور سے محبت کرنے والے ہی خوف کی حکمرانی کے قائل حضرات آموجود ہوں تو بہتری کی امید رکھنا آسان نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست میں یہ سوچنے سمجھنے کو کوئی تیار نہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں خود بھارت کے اندر رہنے والے کروڈ مسلمان کس قدر خوف محسوس کریںگے۔ اس میں دوآراءنہیں کہ نریندر مودی حقیقی معنوں میں ایسا ہندو انتہاپسند ہے جو بھارت کو ہندو انتہاپسند ریاست کا روپ دینے کی کامیاب کوشش کررہا۔ اکثریت کے بل بوتے پر اقلتیوں کا جس انداز میں استحصال جاری ہے اس کی مثال بھارتی تاریخ میں نہیںملتی۔
اس سوال کا جواب دینا مشکل نہیں کہ بھارتیہ جتناپارٹی جس انداز میںکروڈوں مسلمانوں کو ان کے سیاسی، سماجی اور قانونی حقوق سے محروم کررہی اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ بی جے پی کے ان اقدمات کو مقبوضہ وادی کے حریت پسند بھی باغور انداز میں دیکھ رہے چنانچہ بندوق کے زور پر بھارتی سرکار سے اپنا حق چھینے کے حامیوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا۔ کئی دہائیوںسے جاری تحریک آزادی کشمیر میںکئی مراحل آئے مگر شائد اب یہ سمجھا لیا گیا کہ مودی سرکار مسلہ کشمیر کو بات چیت کے زریعہ حل کرنے پر ہرگز راضی نہ ہوگی۔
بی جے پی حکومت جس طرح کھلم کھلا مسلمان اور اسلام دشمنی کو اپنی طاقت سمجھ کر آگے بڑھ ہی اس سے کروڈوں بھارتی مسلمانوں کا مسقبل غیر یقینی کا شکار ہوچکا۔ حالیہ دنوں میں پرنٹ والیکڑانک کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایسے بے شمار واقعات دیکھے جاسکتے ہیں۔جہاں انتہاپسند ہندووں سے سرعام مسلمان نوجوان پر تشدد کررہے ، بعض واقعات میں تو مسلمانوں کو مخلتف حیلے بہانوں سے قتل کرنے بھی اجتناب نہ کیا گیا۔ وسیع تر تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسلمان روہنگیا کے ہوں یا بھارت ، شام کے مہاجرین ہو یا افغانستان ، عراق، لبینا ، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم ہر جا مسلمان کا لہو ارزاں ہوچکا۔
مسلم اشرافیہ اقتدار میں اس طرح مست ہے کہ اسے کسی طور پر اپنی قانونی ، اخلاقی اور مذہبی زمہ داریوں کا احساس تک نہیں رہا۔

Scroll To Top