کھارے پانی کو میٹھا بنانے والی ’سالماتی چھلنی‘

qپنسلوانیہ اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک کم خرچ جھلی بنائی ہے جس میں سے کھارا پانی گزرتے ہی میٹھا ہوجاتا ہے۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: سائنسدانوں نے دنیا میں صاف پانی کے سب سے بڑے چیلنج کا حل پیش کرتے ہوئے ایک سالماتی (مالیکیولر) چھلنی بنائی ہے جو فوری طور پر پانی صاف کر کے اسے پینے کے قابل بناتی ہے۔

سیارہ زمین پر اس وقت ایک ارب سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ اس کے حل کے لیے ماہرین نے گرافین آکسائیڈ کی ایک تہہ (میمبرین) تیار کی ہے جسے سالماتی سطح کی ’چھلنی‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے پانی کے سالمات آسانی سے گزر جاتے ہیں جبکہ دیگر آلودگیوں کے مالیکیولز رک جاتے ہیں اور صاف پانی پیا جا سکتا ہے یا پھر صنعتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پنسلوانیہ اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ فزکس اور کیمیا کے پروفیسر موریسیو ٹیرونس اور ان کی ٹیم نے یہ چھلنی تیار کی ہے تاہم یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ابتدائی تجربات میں یہ 85 فیصد نمکیات اور ڈائی (رنگوں) کے 96 فیصد سالمات کو روک سکتی ہے۔ اس طرح یہ کم خرچ اور سادہ طریقہ ہے جس کے ذریعے صاف پانی کا مسئلہ بہت حد تک حل کیا جاسکتا ہے۔


پروفیسر موریسیو کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ایسی جھلی تیار کی جائے جس سے پانی تیزی سے بہے، اس کی کارکردگی دیرپا ہو اور پانی کی بو بھی ختم کی جا سکے۔

اس وقت کھارے پانی کو قابلِ نوش بنانے کے مہنگے طریقے استعمال ہو رہے ہیں اور ان کے مضر ماحولیاتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں گرافین آکسائیڈ کی جھلی ایک سستا اور قابلِ عمل نسخہ ہے اور انہیں تجربہ گاہ میں آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے جن میں پانی تو گزر جاتا ہے جبکہ نمکیات نہیں گزر سکتے۔ لیکن جب اسے پانی میں ڈبویا گیا تو یہ جھلی پھول گئی اور پانی کے ساتھ میگنیشیم اور سوڈیم کے آئن یعنی نمک بھی فلٹر میں سے گزر گیا۔

اس کے حل کے طور پر ماہرین نے ایک طرف گوند لگا کر اسے بند کیا اور پھر پانی گزرنے کے بعد جھلی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اب ماہرین اگلے مرحلے اسے بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کریں گے۔

Scroll To Top