اگر ولدیت مشکوک ہو! 04-02-2012

kal-ki-baatوزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر یہ اعلان فرمایا ہے کہ تمام ادارے پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اصولی طور پر یہ بیان درست ہے مگر اس کے درست ہونے کے ساتھ بھی ایک شرط منسلک ہے اور وہ یہ کہ اگر پارلیمنٹ خدا کے سامنے جوابدہ ہوگی اور اپنی کارکردگی کے ذریعے اس ” جواب دہی “ کا ثبوت پیش کرتی رہے گی تو باقی تمام ادارے یقینی طور پر ہر لحاظ سے پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ سمجھے جائیں گے۔
مگر جس پارلیمنٹ کا ذکر وزیراعظم صاحب کررہے ہیں اور جس پارلیمنٹ نے انہیں اور صدر مملکت کو منتخب کیا ہوا ہے ` اس پارلیمنٹ کی تو legitimacy یعنی ” جائز حیثیت “ ہی مشکوک قرار پا چکی ہے۔
اس پارلیمنٹ کے سامنے ایک بہت بڑا سوال تب کھڑا ہوا تھا جب سپریم کورٹ نے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے نتیجے میں یہ پارلیمنٹ معرض وجود میں آئی۔ میری مراد یہاں ” این آر او “ سے ہے۔
اس سے بھی بڑا سوال اس پارلیمنٹ کے legitimateہونے کے حوالے سے تب کھڑا ہوا جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جن انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر 18فروری کے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ جعلی ووٹوں کا اندراج تھا۔ دوسرے الفاظ میں اس پارلیمنٹ کی ” ولدیت “ ہی مشکوک قرار دی جاچکی ہے۔
اس معاملے کو مزید تقویت حال ہی میں ملی جب ضمنی انتخابات کو اس بنیاد پر روک دیا گیا کہ ہنوز انتخابی فہرستوں کو جعلی ووٹوں سے پاک کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوا اور ایسے الیکشن کمیشن کی تشکیل اور تکمیل بھی نہیں ہو پائی جس پر اتفاق رائے ہو۔
میرے خیال میں وزیراعظم صاحب اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ ہمارے معاشرے میں تو ایسے فرد کی بھی عزت نہیں کی جاتی جس کی ” ولدیت “ مشکوک سمجھی جاتی ہو۔ یہ تو پھر بھی پارلیمنٹ کا معاملہ ہے۔
کتنا ہی اچھا ہو کہ جب تک ایسی پارلیمنٹ وجود میں نہیں آتی جس کی ولدیت اور جس کے وجود میں آنے کا سارا عمل شکوک و شہبات سے بالاتر ہو اُس وقت تک وزیراعظم صاحب پارلیمانی بالادستی کی بات کرنے کی بجائے صرف ان اداروں کی توقیر کا خیال رکھیں جنہیں legitimacyکے شعبے میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں۔۔۔

Scroll To Top