روایت بُت پرستی کی

aaj-ki-bat-logoخالق کائنات اور قادرِ مطلق کو مقصود یہی تھا کہ انسان صرف اس کے سامنے جُھکے اور اسی کی عبادت کرے۔ مگر قادرِ مطلق نے ہی انسان کے اندر یہ ”صفت “ بھی ڈال دی کہ وہ بُت تراشے اور اپنے ہی تراشے ہوئے بُتوں کو پُوجنا شروع کردے۔

روزِ اول سے ہی نسل انسانی دو خانوں میں بٹی رہی ہے۔ ایک خانے میں وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے اپنی فطرت اور اپنے عمل کو کامل طور پر اس فرمانِ خدا وندی کے تابع بنایا کہ عبادت صرف ذات باری کی کی جائے۔ دوسرے خانے میں وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے اپنے اندر موجود ” فطری طلب “ کے تحت بُت تراشے اور پھر انہیں خود ہی پُوجنا شروع کردیا۔
بُت صرف مٹی یا پتھر سے ہی نہیں تراشے جاتے رہے۔بُت گوشت پوست کے بھی تراشے گئے ۔ انسان اپنے جیسے انسانوں کو سامنے رکھ کر انہیں پُوجتا رہا ہے۔ اور پُوجا انسان نے اپنے نفس اوراس کی خواہشات کی بھی کی ہے۔
یہاں میں ایک حدیث مبارک کا ذکر بھی کروں گا ۔ آپ سے پوچھا گیا ۔ ” جنت کس شخص کے مقدر میں یقینی طور پر لکھ دی گئی ہے؟ جس نے کوئی نماز قضا نہ کی ہو ؟“
آپ نے جواب دیا۔ ” ضروری نہیں ۔“
” جس نے کوئی روزہ نہ چھوڑا ہو ؟“ پوچھا گیا۔
آپ نے جواب دیا ” ضروری نہیں ۔“
پوچھنے والے نے یوں تمام صفات ایمانی گِنوا دیں۔ آپ کا جواب یہی رہا۔ ” ضروری نہیں۔“
” کوئی تو شخص ایسا ہوگا یا رسول جس کے مقدر میں جنت لکھ دی گئی ہو۔ “ پوچھا گیا۔
” یقینا ہے ۔“ آپ نے جواب دیا۔ ” وہ شخص جو ساری زندگی معبود حقیقی کے سوا کسی کے بھی سامنے نہ جھکا ہو۔“
میرے نزدیک یہی ایمانِ کا مل کی پہچان ہے۔ لیکن ایسا ایمانِ کامل مقدر والوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ ہم تو کبھی کسی بھٹو ` کسی افتخارچوہدری کسی عمران خان یا کسی میاں وغیرہ کو سامنے رکھ کر اپنی توقعات اُن سے وابستہ کرلیا کرتے ہیں۔
(یہ کالم اس سے پہلے دو فروری 2012 کوبھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top