پولیس کو سیاسی اثر رسوخ سے آزاد کرنا ہوگا

zaheer-babar-logoسندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے تقرریوں اور تبادلوں کے اختیارات بھی بحال کردیے ۔قبل ازیں ہائی کورٹ نے غیر سرکاری تنظیم پائلر کی درخواست پر فیصلہ محفوط کیا تھا۔جسٹس منیب اختر اور جسٹس ارشد حسین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں پولیس کو صوبائی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی کو پولیس کے بارے میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔عدالت نے اس حوالے سے مزید واضح کیا کہ پولیس آرڈر سنہ 2002 کی منسوخی اور پولیس ایکٹ سنہ 2011 کا نفاذ آئین کے مطابق ہے۔عدالتی فیصلے کی روشنی میں آئی جی سندھ کی مدتِ ملازمت سندھ گورنمنٹ رولز آف بزنس مجریہ 1986 کے تحت واضح ہیں لہذا صوبائی حکومت اس قانون سے انحرافی یا اس کی خلاف ورزری نہیں کرسکتی۔
اس میں دوآراءنہیںکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پولیس اصلاحات لازم ہیں۔یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں رہی کہ محکمہ پولیس میں مختصر عرصے میں ہونے والی تقرریاں اور تبادلے صورت حال کی خرابی کا سبب بنتی ہیں لہذا پولیس فورس میں خود مختار قیادت ہونا لازمی ہے۔ اس پس منظر میں پولیس کے سربراہ کا دیگر معاملات کے ساتھ افسران کے تبادلوں اور تقرریوں میں مکمل کنٹرول لازمی ہے۔
موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ محکمہ پولیس میں ہر قسم کی حکومتی مداخلت ختم ہو۔
دراصل حکومت سندھ اور آئی جی کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے سرد جنگ جاری ہے جس کے دوران آئی جی اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا اور ان کی خدمات وفاقی حکومت کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں بالخصوص اور صوبے میں بالعموم پولیس والوں کی دلیرانہ قربانیوں کے باوجود، پولیس کا محکمہ بدستور سیاسی آقاوں کی خواہشات کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں بھی پولیس کو بہتر بنانے کی کسی نہ کسی حد تک بات کی گی مگر سب جانتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آئین اور قانون کی سربلندی کے لیے پولیس کے محکمے کو نظرانداز کرنا تباہ کن نتائج کاحامل ہوسکتا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کئی سالوں سے جاری ہے مگر تاحال اس ادارے پر دہشت گردی کی روک تھام اور سنگین جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے فیصلہ کن حد تک اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ یقینا ہنگامی بنیادوں پر ملک بھر میں پولیس کے محکمے کو اصلاحات اور اسے سیاست سے پاک کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن اس محکمے پر اس حقیقت کے باوجود توجہ نہیں دی جا رہی کہ یہ محکمہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہا ۔ ایک تاثر یہ ہے کہ جیسے ہی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد شروع ہوجائے گا ویسے ہی دہشت گردی کی لعنت ختم ہوجائے گی مگر شائد ایسا نہ ہوسکا۔سمجھ لینا چاہے کہ انتہاپسندی کو کنڑول کرنے کے لیے اول وآخر پولیس پر توجہ مبذول کرنا ہوگی۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں پولیس والوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 10 ہزار ہے جبکہ 1400 تھانے ہیں ۔ بعض حلقوںکا خیال ہے کہ کم وبیش 22کروڈ آبادی کے ملک میں محض چار لاکھ 10ہزار پولیس والوں کی تعداد کم ہے۔ دوسری جانب عصر حاضر میں دہشت گردی عالمی مسلہ بن چکی مگر اس کے باوجود امریکا، یورپ اور دیگر ملکوں میں دہشت گردی کے انسداد کی ذمہ داری پولیس کے محکمے کو حاصل ہے لیکن افسوس ہمارے ہاں ایسا نہیں ۔
دراصل پولیس کا محکمہ سیاست زدہ ہونے اور اصلاحات بشمول پولیس ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کی روک تھام کے معاملے میں توقعات کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ 2002 سے ملک بھر میں شہریوں کے تحفظ کی راہ میں تقریبا 4 ہزار پولیس اہلکار اپنی جانیں قربان کر چکے ۔ سندھ میں تقریبا 1500 پولیس اہلکار، خیبرپختونخوا میں 1457، بلوچستان میں 450 پنجاب میں 370 اور فاٹا، گلگت بلتستان اور آزاد و جموں کشمیر میں اب تک کئی پولیس والے شہید ہو چکے ۔ پولیس والوں کے جانی نقصان کو دیکھ کر اندازہ ہو جانا چاہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے معاملے میں یہ محکمہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ بلاشبہ محکمے کو سیاست سے پاک اور اسے بااختیار بنانے اور اس کی صلاحیت میں اضافہ کرنے سے دہشت گردی کی روک تھام کے سلسلے میں مثالی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پولیس اور اسپیشل برانچ کے اہلکار ملک بھر میں موجود ہیں۔ پولیس کو نظم و ضبط، تربیت کے علاوہ بااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ یہ موثر محکمہ ثابت ہو سکے لیکن خیبرپختونخوا کے سوا باقی ہر جگہ بیرونی مداخلت، پوسٹنگ ٹرانسفر اور ترقیوں کے نے پولیس محکمے کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ۔ آج سیاست زدہ ہونے کی وجہ سے پولیس افسران حکمرانوں، سیاست دانوں اور دیگر با اثر افراد کی بات ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں تاکہ انھیں بدلے میں اپنی پسند کی تقرری و ترقی مل سکے۔ ان خرابیوں کے سبب عملا اس ادارے کا اتحاد اور کمان کا نظام غیر موثر ہو چکا ۔ یقینا ہمیں کھلے دل ودماغ سے تسلیم کرلینا چاہے کہ اس وقت محض خبیر پختوانخواہ میں ہی پولیس کا محکمہ میرٹ پر اپنے فرائض کی ادائیگی میںمشغول ہے ۔مسلم لیگ ن پنجاب اور پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں کس انداز میں پولیس کو چلا جاریا اس راز سے ہر باخبر پاکستانی باخوبی آگاہ ہے۔

Scroll To Top