مقبوضہ کشمیر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

زین العابدین


h
گذشتہ ماہ بھارت کی عدالت ِ عظمیٰ نے بھارتی آئین کے آرٹیکل35Aکو ختم کرنے کےلئے فائل کی گئی اےک پٹیشن کو سماعت کےلئے منظور کرلیا۔ یہ پٹیشن ہندو انتہا پسندجماعت راشٹریا سواےم سےوک سنگھ (RSS)کےلئے کام کرنےوالی اےک NGOنے فائل کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ آرٹیکل35Aبھارت کے آئین کے آرٹیکل14کی خلاف ورزی کرتا ہے جو تمام بھارتی شہریوں کےلئے مساوات اور برابری کی ضمانت دےتاہے۔اس پٹیشن کی سماعت رواں ماہ ےعنی ستمبر مےں ہوگی۔مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے آرٹیکل 35Aکے ختم کرنے کی اس ہندو انتہا پسندوں کی سازش کو کشمیریوں کو غلام بنانے اورآگ سے کھےلنے کے مترادف قرار دےا ہے کیونکہ کوئی کشمیری بھارت کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ کشمیر کی اس آزاد حےثیت کو ختم کرے جو بھارت کا آئین اسکو دےتا ہے۔ آئینی اور قانونی ماہرین کی رائے بھی ےہی ہے کہ بھارتی ریاست کے کسی قانون کو بھارتی آئین کے مطابق جموں و کشمیر مےں لاگو نہیں کیا جاسکتا اسلئے ریاست مےںGoods and Services Tax (GST)کا اطلاق کرنا بھی آرٹیکل 35Aکی خلاف ورزی ہے اوربھارت نے وادی مےں GSTکے نفاذ کے بعد آرٹیکل 35Aکو ختم کرنے کی کوششےں تےز کردی ہےں کیونکہ اسکے خاتمے سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حےثیت کا بھی خاتمہ ہو جائےگا۔ آئینی ماہر تصدّق حسےن نے کہا ہے کہ پیپلز ڈےموکرےٹک پارٹی (PDP)کی کٹھ پتلی حکومت پہلے ہی GSTکا بل منظور کرکے کشمیر کی مالی سا لمیت کو داو¿ پر لگا چکی ہے اور اب وہ کشمیر کی سیاسی و انتظامی سا لمیت اور خود مختاری کو داو¿ پو لگانے کی راہیں ہموار کررہی ہے۔راشٹریا سواےم سےوک سنگھ(RSS) اور بھارتیا جنتا پارٹی(BJP) کی حکومت عدالتوں کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے اوروہ جانتی ہے کہ آرٹیکل 35Aکاخاتمہ درحقیقت آرٹیکل 370کا خاتمہ ثابت ہو گا۔
بھارت کے آئین کے آرٹیکل 35Aکے تحت کشمیریوں کو بھارت کی شہریت دی گئی تھی لےکن کشمیر کے مستقل اور اصل شہریوں کے تعّن کا اختیار کشمیر کی اسمبلی کے پاس ہوگا۔ اسکے ساتھ ساتھ اس بات کی ضمانت بھی دےتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاست مےں زمین و جائےداد کی ملکیت کا حق صرف ریاست کے مستقل شہریوںکو ہی حاصل ہوگا ۔ کشمیری یہ سمجھتے ہےں کہ اگر آرٹیکل 35Aختم کردیا جاتا ہے تو مقبوضہ کشمیر کے حالات بالکل تبدیل ہو جائےنگے اور بھارت کا کوئی بھی شہری وادی مےں زمین و جائےدادکی ملکیت حاصل کر سکے گا جس سے رفتہ رفتہ کشمیر کی آبادی کاتناسب تبدیل کردیا جائےگا۔
سیاسی تجزیہ کار اورکشمیر ےونیورسٹی مےں قانون کے پروفےسر ڈاکٹر شےخ شوکت حسےن نے کہا کہ ہم کشمیری عام طور پر اس غلط فہمی مےں مبتلاءہےں کہ ریاست کے باہر کے لوگوں کو بھارت کے آئین کا آرٹیکل 370 ریاست مےں زمین خریدنے سے روکتا ہے جبکہ حقیقت مےں یہ آرٹیکل 35Aہی ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاست مےں باہر کے لوگوں کو زمین خریدنے اور نوکری حاصل کرنے پر پابندی لگاتاہے۔ اگر آرٹیکل35Aکوختم کردیا جاتاہے تو اس سے بھارت اور کشمیر کی ریاست کے تعلق کی نوعیت بھی تبدیل ہو جائےگی۔ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ظفر شاہ نے کہاہے کہ آرٹیکل 35Aکو بھارت کی سپریم کورٹ مےں چےلنج کرنانہاےت سنجیدہ معاملہ ہے اور ان تمام حالات و واقعات مےں کشمیری عوام بھارت کے اس اقدام کی متحد ہو کرمخالفت اور آرٹیکل 35Aکی حفاظت کرےنگے ۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آرٹیکل 35Aکے خاتمے سے صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ جموں اور لدّاخ کے علاقے بھی متاثر ہونگے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کو اپنا آلہ¿ کار بنا رکھا ہے جو بھارتی قوانین کوتوسیع دےتے ہوئے ریاست مےں نافذ کرکے بھارت کے آئین مےں جموں و کشمیر کو دی جانےوالی خصوصی حےثیت کو آہستہ آہستہ ختم کررہی ہے ۔ کشمیر کی حریت قیادت نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے کسی بھی اےسے اقدام کی ہر قیمت اور ہر صورت سخت مخالفت کی جائےگی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی،کشمیری قیادت کو دہلی کی اےجنسیوں کے ذریعے ہراساں کرنے اور ریاست مےں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی غرض سے بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے کے منصوبوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جائےگا۔بھارتی حکمران جنہیں بھارت کی ہندو انتہاپسند قوتوںکی پشت پناہی حاصل ہے اور جو انہی انتہا پسندوںکے اےجنڈے پر کاربند ہےں جموں و کشمیر مےں مسلم آبادی کی اکثریت کواقلیت مےں تبدیل کرنے کےلئے اےڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔
اےک جانب بھارت اپنے آئین کو تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے تو دوسری جانب وہ کشمیر کی حریت تحریک اور حریت رہنماو¿ں کو بدنام کرنے کی کوششوں مےں ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماو¿ں کو قےد کر کے بدنامِ زمانہ تہار جےل مےں منتقل کردیا ہے۔ بھارت کشمیری قیادت کو جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچا رہا ہے۔ بھارتی قابض افواج کشمیری نوجوانوں کو بلا روک ٹوک قتل کررہی ہےں اور انسانیت کی تمام حدوں کو روندتے ہوئے شہید ہونےوالے کشمیریوں کی لاشوں کی بےحرمتی کررہی ہےں اور انکی پھر ان لاشوں کےساتھ تصویرےں اتاری جارہی ہےں۔ اس پر بھارتی میڈیا یہ پراےگےنڈا بھی کررہا ہے کہ پےلٹ گن اور گولیوں کا شکار ہونےوالے نوجوان محض روپے پےسے کی لالچ مےں اپنی جانےں دے رہے ہےں۔کشمیر کے کٹھ پتلی سیاست دانوں کی منافقت بھی دےکھنے کے لائق ہے کہ ٰ محبوبہ مفتی جب اقتدار مےں نہیں تھےں تو کشمیر کے شہدا ءکے غمزدہ خاندانوں کے گھر پرجاتیں اور اہلِ خانہ کےساتھ غم مےں آنسو بہاتی تھےںلےکن جب سے وہ وزیرِ اعلیٰ بنی ہےںانہوں نے نہاےت ظالمانہ روےّہ اختیار کر لیا ہے اورکشمیریوں پر ظلم و ستم کے تمام پرانے ریکارڈز توڑ دئےے ہےں۔کشمیر کی حریت تحریک کی باگ ڈور چونکہ کشمیری طلباءاور نوجوانوںنے سنبھال لی ہے اسلئے کشمیری طلباءاور اساتذہ کےساتھ بھارتی افواج نہاےت برا سلوک کررہی ہے اور سکولوں مےںانہےں زبردستی "بندے ماترم"پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ پہلگام کے اےک اسکول کے اساتذہ نے بتاےا ہے کہ بھارتی قابض افواج بلا اشتعال علاقے کے اسکول مےں داخل ہوگئےں اور سکول کی باہر کی دےواروں پر بنی شہید برہان وانی کی تصویروں پر جو مقامی لوگوں نے بنائی تھےں طلباءاورا ساتذہ کو ہراساں کیا اور پھر زبردستی بندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا۔بھارت کا متعصّب ذرائع ابلاغ کشمیریوں اورانکی حریت تحریک کو بدنام کرنے کےلئے پراپےگےنڈا مہم چلا رہا ہے۔ کشمیرمخالف ا س مہم مےں حریت قیادت کو نشانہ بناےا جارہا ہے اور کشمیریوں کےخلاف اس نفرت انگےز مہم مےں بھارتی شہریوں کو کشمیریوں کےخلاف بھڑکانے کی کوششےں کی جارہی ہےں۔ کشمیرکی حریت قیادت پر مالی بدعنوانی اور اپنی آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے من گھڑت الزامات لگائے جارہے ہےں۔ کشمیری رہنما غلام نبی سم جی نے اےک انگرےزی اخبار کو انٹرویودےتے ہوئے کہا کہ ان کےخلاف اپنی آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کی جھوٹی خبرےں شائع کی جارہی ہےں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اخبارات کے اےڈیٹر زاس غلط خبر پر معافی مانگےں بصورتِ دیگر اخبار کےخلاف ہتکِ عزّت کا دعویٰ کیا جائےگا۔
بھارت کی حکومت ، اسکی حامی انتہاپسند قوتےں اورمقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے جےسے یہ ٹھان رکھا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ پرامن طریقوں سے حل نہیں کرےنگے جبکہ کشمیر کا مسئلہ نہاےت حساس نوعیت کا ہے جس مےں دو حریف جوہری ریاستےں فریق ہےں اےسے حالات مےں کشمیر کا صرف اورصرف پر امن حل ہی خطے کے مفاد مےں ہے۔ کشمیر کے معاملے کی یہی سنجیدگی یہ تقاضا کرتی ہے کہ بھارت اپنے انتہا پسند روےّے کو ترک کرے اور حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اےسے اقدامات سے پرہےز کرے جو کشمیریوں کو اشتعال دلاتے ہےں اور جس سے اس مسئلے کی نوعیت کے تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔

Scroll To Top