تاریخ اسلام

  • اہلِ کش اور حریت بن قطنہ کی غداری

مہلب جب خراسان کے دارالسلطنت مرو میں آکر وہاں سے ماورا ءالنہر یعنی شہر کش کی طرف روانہ ہوا تو مرو میں اپنے بیٹے مغیرہ کو اپنی طرف سے امیر مقرر کر گیا تھا۔ ابھی کش کا محاصرہ جاری تھا کہ مہلب کے پاس مغیرہ کے فوت ہونے کی خبر پہنچی۔ مہلب نے اپنے بیٹے یزید کو جو مہلب کے پاس موجود تھا مرو کا حاکم مقرر کر کے تیس آدمیوں کے ساتھ مرو کی طرف روانہ کیا۔ یزید جب پست کے ایک درے میں پہنچا تو وہاں پانچ سو ترکوں سے مڈبھیڑ ہوگئی انہوں نے تمام مال و اسباب جو ان کے ہمراہ تھا طلب کیا یزید نے انکار کیا۔ آخر یزید کے کسی ہمراہی نے کچھ تھوڑا سا مال دے کر ان ترکوں کو رضا مند کر لیا لیکن وہ یہ مال لے کر کچھ دور چلے گئے اور پھر لوٹ کر آئے کہ ہم تمام مال و اسباب لئے بغیر نہ چھوڑیں گے۔
یزید نے انہیں تیس آدمیوں سے ان کا مقابلہ کیا ان کے سردار کو مار ڈالا اور سب کو بھگا دیا۔ مرو میں پہنچ کر یزید اپنے بھائی کی جگہ حکومت کرنے لگا۔ اس واقعہ کے چند ہی رو ز کے بعد مہلب اہل کش سے صلح کر کے لوٹا ۔ اس مصالحت میں یہ بھی طے ہوگئی تھی کہ اہل کش اپنے بادشاہ کے لڑکوں کو مسلمانوں کے سپرد کر دیں اور یہ لڑکے بطور ضمانت اس وقت تک مسلمانوں کے زیر حراست رہیں جب تک مقررہ رقمِ جزیہ اہل کش مسلمانون کی خدمت میں حاجر کریں۔

Scroll To Top