سمندر پرمعرکہ1965

آج سے 52 برس پہلے 6ستمبر1965 کی صبح سورج معمول کے مطابق اپنے اُفق پر ابھرا، جنگ کی گھن گرج میں سورج کی
شعاعیں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زمیں پر پڑھ رہی تھیں۔ سرحدوں پراچانک رونما ہونے والی صورتحال سے بے خبر والدین اپنے بچوں کو اسکولوںکی طرف روانہ کر چکے تھے۔مگر جب ریڈیو پر ایک جذباتی اور افسردہ اعلان نے انہیں جنگ شروع ہونے کی خبر دی تو وہ بچوں کوسکول سے لینے کے لئے دوڑ پڑے۔
اس دوران صدر ایوب خان کا قوم سے خطاب نشر ہوا جس میں انہوں نے ملکی دفاع کے عزم اوراظہارکے ساتھ قوم سے تن من دھن کی پرواہ کئے بغیر قربانی دینے کاکہا۔ عوام نے صدر ایوب خان کی کال کا جواب بھر پور انداز سے دیا اورجنگ کے لئے جو کچھ ان سے بن پایا وہ پیش کیا۔بہادری وقربانی کی داستانیں ان کے جذبوں کو بلند کر رہی تھیں اور ان کے چہرے فخر سے چمک رہے تھے۔ دور سے آتی توپ خانہ کی گھن گرج ، سروں پر جنگی جہازوں کی آواز یں،باہر نکلنے پر پابندی،رات کو بلیک آﺅٹ اور کرفیو کے نفاذ جیسی چیزیں اس حقیقت کا احساس دلاتی تھیں کہ وہ حالتِ جنگ میں ہیں۔
پاک بحریہ بحری سرحدوں کے دفاع کی ضامن ہے جو عام نظروں سے اوجھل ہوتی ہے جس کی ایک مثال آبدوز ہے جو 300 میٹرز پانی میں غوطہ زن ہوتی ہے اوراسے کوئی نہیں دیکھ سکتا خواہ وہ سطح آب پر عین اس کے اوپر موجود ہو۔زیادہ تر لوگوں کے ذ ہنوں میں جنگ کا تصور کسی علاقے کو فتح کرنا ہے جبکہ سمندرمیں جنگ کا ادراک مشکل ہے کیونکہ کھلے سمندر میںکوئی علاقہ فتح نہیں کرنا ہوتااور نہ کھلے سمندر میں راہنمائی کی نشاندہی کے لئے علامات موجود ہوتی ہیں۔خشکی اور فضاءمیں لڑی جانے والی بہادری کی انفرادی داستانیںعوام تک پہنچ رہی تھیںجبکہ سمندر میں لڑی جانے والی جنگ میںآبدوز یا بحری جہازوں کے عملے کی اجتماعی جنگ عوام الناس کی نظروں سے اوجھل رہی۔
6 ستمبر کی صبح جنگ کے آغاز کی بُری خبراس وقت ملی جب پاکستان نیوی کے بحری جنگی جہاز، بشمول ایک کروزر،5 تباہ کن جنگی جہاز ، ایک فریگیٹ اور ٹینکر معمول کی مشقوں کے لیے روانہ ہونے کے لئے تیار تھے۔ رن آف کَچھ میں ہونے والی جھڑپ کی وجہ سے جنگی جہاز انتہائی تیاری کی حالت میں تھے اور ان پر صرف گولہ بارود اور عملے کی خوراک لوڈ کی جانی تھی۔تواتر کے ساتھ ہونے والی جنگی مشقوں کی وجہ سے تمام جہازوں کی حربی تیاری کامعیارنہایت بلند تھا۔
جنگ کے آغاز کے دوسرے دن 7 ستمبر جنگی جہازاپنی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لئے حفاظتی گشت پر مامور تھے کہ اسی اثناءمیں نیول ہیڈکوارٹرزکی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں ہدایت کی گئی کہ جتنی تیز رفتاری سے ممکن ہوجنوب کی طرف بڑھیںکہ اس طرح شام 6 بجے تک دوارکا کے مغرب کی جانب اپنی اپنی پوزیشن سنبھال لیں ۔حکم ملتے ہی جہازوں نے ایندھن کا ذخیرہ کیا اورملنے والی ہدایات کے مطابق دوارکا کی جانب بڑھے جہاں انہیں دوارکا میں قائم رڈار اسٹیشن پر دیے گئے احکامات کے مطابق بمباری کرنی تھی۔پی این ایس بابر پرٹیکٹیکل آفیسر نے فائرنگ کی ہدایات کو فوری طور پر مرتب کیا اور Heaving Linesکے تحت تمام جہازوں میں ان ہدایات کو تقسیم کیا۔
شیڈول کے مطابق پاکستان نیوی کے 7 جہازوں کا گروپ نصف شب کو اپنی فائرنگ پوزیشن پر پہنچ گیا۔وہ ایک گھپ اندھیری رات تھی اوردوارکا میں ہونے والا مکمل بلیک آﺅٹ اسے مزید تاریک بنا رہا تھا۔جہازوں نے شمال مغرب کی جانب رخ کیا تاکہ تمام گنوں سے بیک وقت فائرنگ کو ممکن بنایا جا سکے ،فا ئرنگ کے احکامات ملتے ہی چند منٹوں کے اندر اندر ہر جہاز نے مقررہ 50,50 گولے فائرکیے۔
بھارتی ساحلی شہر اوکھا کے قریب بھارتی نیوی کے فریگیٹ تلوار جس کے کنڈینسرزکی معمولی مرمت کا کام جاری تھاکوبہت سے بھارتی نیوی کے آ فیسرز نے لعنت ملامت کی کہ اس نے دوارکا پر حملہ کر کے واپس جانے والے پاکستان نیوی کے جہاز وں کا تعاقب کیوں نہیں کیا ۔آئی این ایس تلوار دوسرے دن دوارکا میں ہونے والے نقصان کاتخمینہ لگانے کیلئے بھیجا گیا، جس میںدوارکا کا راڈار اسٹیشن مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور رن وے بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ایک سیمنٹ فیکٹری کو بھی نقصان پہنچاتھا ۔نقصانات تو ایک طرف ،جنگ کے انتہائی آغاز میں ہی پاک بحریہ کے شدید حملے نے بھارتی نیوی کو حیران کر دیاجس پر وہ آخر تک ذلت محسوس کرتے رہے۔اگرچہ یہ پورا آپریشن باآسانی پایہ تکمیل تک پہنچا مگر اس میں بہت سے یقینی خطرات بھی موجود تھے۔ پاکستان نیوی کے جہازوں کو اس وقت معلوم نہ تھاکہ بھارتی نیوی کے 23 بڑے جہازوں میں سے 10بڑے جہاز بشمول کروز ردہلی اور ائیرکرافٹ کیریئر وکرانت زیر مرمت ہیں۔ان جہازوں کے مرمت کے کام کو رن آف کچھ بحران کی وجہ سے التوا میں ڈالاگیا تھا۔
بہت سے آپریشنل یونٹس جن کو خلیج بنگال بھیجا گیا تھابلانے پر9 ستمبر سے پہلے واپس نہیں پہنچ سکے۔سرکاری بھارتی مو قف کے مطابق بھارتی وزیر دفاع کا خیال تھا کہ پاکستان کی بری فوج کے عملے کا جواب کشمیر تک رہے گا اور بھارتی فوجی کمانڈروں کو لاہور کی سرحد کو عبور کرنے کی اجازت دی گئی تھی ،بحری جنگ سے وہ ہر قیمت پر بچنا چاہتے تھے تاکہ پاک بھارت تصادم کو بین ا الاقوامی رنگ نہ دیا جا سکے۔اسی خیال کے تحت بھارتی جنگی جہازوں کو پوربندرکے شمال کی جانب جانے سے منع کر دیا گیا تھا اوردوارکا پر حملے کی جوابی کاروائی سے بھی منع کیا گیاتھا ۔چاہے و جہ کوئی بھی تھی مگر پاکستان نیوی نے 1965کی جنگ میں اپنا زبردست کردار ادا کیا۔پاکستان نیوی کو امریکی ساختہ روایتی سب میرین غازی کی شکل میں بھارت پر سبقت حاصل تھی اور پاکستان نیوی خطے کی وہ واحد نیوی تھی جس کے پاس اس وقت آبدوز موجود تھی ۔
پاکستان نیوی نے آبدوزغازی کوبڑے جنگی جہازوں جیسے ائیرکرافٹ کیریئر،کروزراور آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کے لیے گہرے پانیوں میں جانے کے احکامات صادر کیے۔آبدوزغازی کوکچھ ضروری مرمت کیلئے تین دن میں ہی 14 ستمبرتک واپس کراچی آنا پڑا،جس کی بنا پر وہ اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکی۔
جنگ بندی کے اعلان سے قبل 22ستمبر کوآبدوز غازی نے بھارتی بحریہ کے فریگیٹ پردو تار پیڈو فائر کیے جو کہ خیال کیاجاتا ہے کہ وہ آئی این ایس براھما پترا تھا۔ بھارتی نیوی کے نکتہ نظرکے مطابق آبدوز غازی ان کے مغربی ساحل پر گھات لگا کر بیٹھی تھی جس نے بھارتی بحریہ پر ایک خوف طاری کیا ہوا تھا ۔سمندرمیں پاک بحریہ نے جنگ کے آغاز میں ہی دوارکا پر بمباری کر کے ،ہلاکتوں کے علاوہ بھارتی نیوی کو مالی نقصان پہنچایا اور اسے غیر یقینی کیفیت میں ڈال کراپنے ہی پانیوں میں مقیّد کر دیا۔
1965کی پاک بھارت جنگ میںپاکستان کی مسلح افواج نے وطن کے دفاع کے لیے جس بے مثال بہادری اور جرا¿ت کامظاہرہ کیا اُس میںقوم کی بھر پور مدد اوردعائیں شامل حال رہیںجبکہ1965کی جنگ میں پاکستان کو علاقائی دوست ممالک خصوصاً انڈونیشیاءکی مددبھی حاصل تھی ۔

Scroll To Top