پاکستان مطالبات تسلیم کرلے گا ؟

zaheer-babar-logoوزیرخارجہ خواجہ آصف کا یہ کہنا حیران کن ہے کہ اس خطے میں جو ہورہا ہے کہ اس سے امریکہ مکمل طور پر نہیںتو جزوی طور پر غافل ضرور ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے بعقول پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا بنانا قبول نہیں اور یہ بات دنیا پر واضح ہونی چاہے۔ “
وزیر خارجہ کے خیالات اپنی جگہ مگرجس انداز میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ثابت ہوئی وہ کوئی راز نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست اگر خطے کے حالات سے آگاہ نہیںتو پاکستان بارے میں یہ خوش فہمی پالنے کی گنجائش کم ہے کہ وہ موجودہ حالات میںبہترین سفارت کاری کا مظاہرہ کررہا۔خواجہ آصف مسلم لیگ ن کے اہم رہنما نہ صرف تصور کیے جاتے ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں انھیں سابق وزیر اعظم کا قرب حاصل ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ گذشتہ چار سال تک وزارت خارجہ کا قلمدان خود میاں نوازشریف کے پاس تھا مگرناقدین کے بعقول دیگر شبعوں کی طرح اس محاذ پر بھی بہتری کی کوئی صورت نمایاں نہیں ہوئی ۔
امریکہ صدر کی نئی افغان پالیسی میں پاکستان کو جس طرح ہدف بنایا گیا وہ کیا کم تھا کہ پانچ ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے حامل ملکوںنے ہم پر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا الزام عائد کردیا۔ بریکس کا اعلامیہ کسی طور پر نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ چین اور روس کا پاکستان بارے بھارتی موقف کو تسلیم کرلینا دور رس اثرات کا حامل ہوسکتا ہے۔ بظاہر یہ تاثر اب حقیقت بنتا جارہا کہ اہم عالمی اور علاقائی قوتیںپاکستان کو چاروں جانب سے گھیرے میں لینے کے لیے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کوشاں ہیں۔
دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف پاکستان کی تمام تر قربانیوں کے باوجود اس پر مسلسل شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا۔ عالمی برداری کسی طور پر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیںکہ پاکستان حقیقی معنوں میں اپنی سرزمین سے انتہاپسند گروہوں کا خاتمہ چاہتا ہے ۔ جماعت الدعوتہ ، جیش محمد، حقانی نیک ورک اور چند دیگر عالمی دہشت گرد تنظیوں کا پاکستان سے اس انداز میں ناطہ جوڈا جارہا کہ جھوٹ سچ کا تاثر دے رہا۔
دراصل عصر حاضر میں سفارت کاری ہی وہ بہترین ہتھیار ہے جس کو موثر انداز میں استمال میں لاکر وہ مقاصد بھی حاصل کرلیے جاتے ہیں جو بسا اوقات جنگ کے میدان میں بھی ناممکن نظر آتے ہیں، مگر افسوس ہماری وزرات خارجہ ان مشکلات کا تدارک کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہو پارہی جو ملک وملت کو مسائل کے گرداب میں الجھائے ہوئے ہیں۔ بادی النظر میں یہ کہنا غلط نہیں کہ وزارت خارجہ کے بابوں نے ملک کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڈ رکھا ۔ کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرے یا نہ کرے مگر سچ یہی ہے کہ آج بھارتی موقف کو علاقائی اور عالمی سطح پر پذائری مل چکی۔ نریندر مودی اعلانیہ کہہ چکا کہ وہ وہ عالمی برداری میں پاکستان کو تنہا کردے گا ۔ سچ اور جھوٹ کی بحث سے قطع نظر حقیقت یہی ہے کہ مودی سرکار نے ہم پر بھرپور دباو ڈال رہا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جانتی ہے کہ مقبوضہ وادی میں جاری تحریک آزادی کشمیر کا زور بھی اسی طرح ٹوٹ سکتا ہے کہ پاکستان کو مسائل میں الجھا دیا جائے۔
دراصل امریکہ اور بھارت دونوں اپنی اپنی ناکامیوںکا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ ایک طرف نریندر مودی مقبوضہ وادی میں تمام تر حالات کی خرابی کا زمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتا تو دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اعلانیہ کہہ چکی کہ افغانستان میں اس کی مشکلات کی واحد وجہ پاکستان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی اعانت کرنا ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ گزرے ماہ وسال میں پاکستان امریکہ پر بھروسہ کرکے اپنے لیے مسائل پیدا کرتا رہا تو آج اس کی امیدوں کا مرکز چین ہے۔ سی پیک کے نام پر ہماری حکومتیں پھولے نہیں سما رہیں۔ چین کی دوستی کو پہاڈوں سے بلند اور سمندروں سے گہری سمجھنے والوں کو زھن میں رکھنا چاہے کہ دوست ملک چین کے لیے اپنے مفادات ہی ترجیح اول ہیں۔ دراصل پاکستان کے زمہ داروں کے لیے کام جو کرنے کا ہے وہ داخلی مسائل پر قابو پانا ہے۔ حکومت کو ایک طرف سیاسی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے تو دوسری ملکی معشیت کو حقیقی معنوں میںاپنے پاوں پر کھڑے کرنے کے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ خواجہ آصف جان لیں کہ قرضوں اور امداد کے سہارے چلنے والے ملکوں کی غیرت کسی طور پر مثالی نہیں ہوا کرتی۔ اب مسلم لیگ ن کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں کو سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی ہمہ وقت نااہلی پر افسوس کرنے کی بجائے اپنی ان ناکامیوں پر غور کرنا ہوگا جو ان کے پارٹی کے ساتھ ساتھ ملک وملت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکیں۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ چھ ستمبر کے موقعہ پر جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر مسبقل کی پاکستانی پالیسی کے خدوخال بیان کرگی۔ معروف انگریزی اخبار نے سپہ سالار سے یہ بیان منسوب کیا کہ ”پاکستان افغانستان میںقیام امن کے لیے امریکہ کی مدد کرنے کو تیار ہے “۔ امکان بھی ظاہر کیا جارہا کہ آنے والے دنوں میں ملک میں جاری آپریشن میں بعض ایسے گروہوں کے خلاف بھی کاروائی ہوسکتی ہے جس کا مطالبہ بعض علاقائی اور عالمی قوتوں کی جانب سے کیا جارہا ۔ شائد سچ یہی ہے کہ اب پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا اسے کسی نہ کسی شکل میں وہ مطالبات پورے کرنے ہونگے جو اہم بین الاقوامی طاقتیں مسلسل کررہیں۔

Scroll To Top