اعتزاز احسن اپنے گھر لوٹ آئے ہیں

kal-ki-baatیہ سوال ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ کیا چوہدری اعتزاز احسن وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین ِعدالت میں سزا سے بچا پائیں گے یا پھر کیا وہ عدالت کے سامنے یہ ثابت کردیں گے کہ صدر زرداری کو جو استثنیٰ حاصل ہے اس کا کوئی تعلق حکومت ِپاکستان کا سوئٹزر لینڈ کے حکام کو خط لکھنے سے ہے ؟ “
یہ معاملہ چونکہ عدالت میں ہے اس لئے میں اس کا جواب دینے سے احتراز کروں گا مگر اس ضمن میں مجھے یہ ضرور کہنا ہے کہ تاریخ واقعی بڑی ستم ظریف ہے۔
ایک وقت وہ تھا جب اس دھرتی کو ماں جیسا بنا ڈالنے کا عزم وارادہ ظاہر کرنے والے چوہدری اعتزاز احسن سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17ججوں کے متفقہ فیصلے کی حرمت کا نشان سمجھے جاتے تھے اور ان کا فرمانا تھا کہ خط تو سوئس حکام کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے لکھا ہی جاناپڑے گا کیوں کہ سپریم کورٹ کے حکم سے فرار کا کوئی راستہ نہیں۔
اور ایک وقت یہ ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن ان ہی سترہ ججوں کے اُس فیصلے کے راستے میں کھڑی دیواروں کو مضبوط سہارا دینے کا عزم وارادہ لے کر میدان میں کودے ہوئے ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے )اور اس خیال کا ان کے پاس بڑا مضبوط جواز بھی ہوگا (کہ چوہدری صاحب نے اچانک رنگ بدلا ہے اور دم بخود کردینے والی قلا بازی کھائی ہے۔ شاید یہ خیال ” کچھ “ کا نہیں بہت زیادہ لوگوں کا ہے۔ مگر میری رائے اس ضمن میں یہ ہے کہ چوہدری صاحب نے نہ تو رنگ بدلا ہے اور نہ ہی قلا بازی کھائی ہے ¾ وہ اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔ یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ یوں اچانک ” گھر لوٹ آنا “ ان کے لئے بے حد منفعت بخش اقدام بھی ثابت ہوا ہے۔ وہ ایک ایسے مقدمے میں ملک کے وزیراعظم کے وکیل بنے ہیں جو بادی النظر میں ہارا ہوا مقدمہ ہے۔اگر ایسے مقدمے کے لئے وہ منہ مانگی فیس وصول کرتے ہیں تو ایک بہت بڑے وکیل کی حیثیت سے یہ ان کا حق ہے۔
مگر یہاں کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ اعتزاز احسن ایک ”نظریاتی “آدمی ہیں۔ ان کی جڑیں مادہ پرستی کی کوکھ سے جنم لینے والے لبرلزم اور سوشلزم میں ہیں۔ یہ درست ہے کہ جب ” وقتِ امتحان “ آیا تھا تو وہ بھٹو مرحوم کی پی پی پی کو خیر باد کہہ گئے تھے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ وہ پی پی پی کی ” برانڈنگ “ چھوڑ دیں تو خود بھی اپنے آپ کو پہچان نہیں سکیں گے۔وہ جانتے ہیں کہ اس مرتبہ اگر ” پی پی پی “ کا آفتابِ اقبال ڈوبا تو جو سورج چڑھے گا اس کی تمازت یا حرارت ” مادر پدر آزاد “ سوچوں کے مورچے بنانے والوں کے لئے قابلِ برداشت نہیں ہوگی۔
میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ آنے والا دور 2 سوچوں کے تصادم کا دور ہوگا۔ ایک سوچ کہتی ہے کہ سیاست میں خدا کا دخل برحق ہے اور دوسری سو چ کہتی ہے کہ خدا کو مسجد میں بند رکھنا چاہئے۔)نعوذباللہ(

Scroll To Top