میرے لاہور۔۔۔ اپنے اِس حقیر سپاہی کا انتظار کرنا۔۔۔۔

ہرسُو گھپ اندھیرا ہے۔۔۔ دور دور تک روشنی کا کوئی نشان نہیں۔۔۔ مجھے یوں لگ رہا کہ جیسے گاڑی تاریک خلاءمیں تیرتی چلی جارہی ہو۔۔۔ رینگنے کی رفتار کیا ہوتی ہے اس کا کچھ اندازہ مجھے پہلے سے بھی ہے۔۔۔ مگر آج کی رات کچھ مختلف ہے۔۔۔ کچھ نہیں ، بہت زیادہ مختلف ہے۔۔۔ مجھے زندگی میں پہلی بار ایک حقیقی ”بلیک آﺅٹ“ کا تجربہ ہورہاہے۔۔۔ اورزندگی میں پہلی ہی بار میری رگ و پے میں یہ احساس سرایت کئے ہوئے ہے کہ میرا وطن ۔۔۔ میرا پاکستان ۔۔۔ حالتِ جنگ میں ہے۔۔۔ ایک ایسا دشمن مملکت خداداد پاکستان پر حملہ آور ہوچکا ہے جس سے خیر کی امید کبھی بھی نہ تھی۔۔۔
میرے اس سفر کو شروع ہوئے تین گھنٹے گزر چکے ہیں۔۔۔ جُوں کی رفتار سے چلنے والی گاڑی کچھ دیر پہلے ایک نامعلوم سٹیشن پر رُکی تھی۔۔۔ اور کافی دیر رُکی رہی تھی۔۔۔ تب مجھے سیٹ پر لیٹے لیٹے اونگھ بھی آگئی تھی۔۔۔ جب آنکھ کھلی تو گاڑی رینگتی چلی جارہی تھی۔۔۔ میں نے اپنی دائیں طرف دیکھا۔۔۔ میرے دونوں خالہ زاد بھائی۔۔۔ میرے برادرانِ نسبتی۔۔۔ غالباً سو رہے تھے۔۔۔ اندھیرے میں صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتاہے۔۔۔
ہمارا یہ سفر نوکنڈی سے شروع ہوا تھا جہاں میرے خالو ۔۔۔ میرے سسر۔۔۔ سٹیشن ماسٹر ہیں۔۔۔ یہ ایران کی سرحد کے قریب پاکستان کا آخری ریلوے اسٹیشن ہے۔۔میں دس روز قبل کوئٹہ سے ایک لمباسفر کرکے یہاں پہنچا تھا۔۔۔ میری اہلیہ میرے دو سالہ بیٹے انعام کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود تھی۔۔۔ وہ اپنے والدین سے ملنے آئی تھی اور میرے وہاں جانے کا مقصد اسے واپس لاہور لے جانا تھا۔۔۔
مگر اب وہ میرے ساتھ نہیں۔۔۔ میں اسے نوکنڈی میں ہی چھوڑ آیا ہوں۔۔۔ میرے ہمراہ میرے برادرانِ نسبتی ہیں جنہیں بہاولپور اترنا ہے جہاں سے ان کا سفر ہارون آباد کے لئے شروع ہوگا۔۔۔
جب دماغ میں سوچوں کا طوفان ہو تو نیند نہیں آتی۔۔۔ میرے دما غ میں بی بی سی کی نشریات گھوم رہی ہیں۔۔۔
” جنرل چوہدری کا دعویٰ ہے کہ وہ جامِ فتح لاہور جم خانے میں اسی روز نوش فرمائے گا۔۔۔“
میرے ذہن میں صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کی آواز بھی گونج رہی ہے۔۔۔ ” دشمن کو معلوم نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔۔۔“
یہ 7اور 8ستمبر کی درمیانی رات ہے۔۔۔
جنگ شروع ہوئے لگ بھگ اڑھتالیس گھنٹے ہوچکے ہیں۔۔۔ دشمن کا حملہ محافظانِ پاکستان نے ناقابل یقین جانفشانی اور جرا¿ت و شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے روک دیا ہے۔۔۔
مگر بی بی سی ¾ ریڈیو پاکستان اور آکاش وانی کے دعوے بہرحال متضاد ہیں۔۔۔جب جنگ ہورہی ہو تو خبروں میں بے شمار سوالات چھپے ہوتے ہیں۔۔۔ دوسری جنگ عظیم میں جب برطانیہ کو جاپان کے خلاف پسپائیاں نصیب ہورہی تھیں تو چرچل کی حکومت نے کافی روز تک ” پرنس آف ویلز“ کے ڈوبنے کی خبر چھپائے رکھی تھی۔۔۔ اُس عظیم جہاز کو برطانیہ کی آدھی بحری طاقت شمار کیا جاتا تھا۔۔۔
میرے ذہن میں سٹالن گراڈ کا معرکہ بھی آرہا ہے۔۔۔ میں ” ڈنکرک “ کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ میرا پاکستان اِن لمحوں میں کہاں کھڑا ہے۔۔۔ میں پوری دنیا سے کٹا ہوا ہوں۔۔۔
یہ گاڑی کب مجھے کوئٹہ پہنچائے گی جہاں سے میرا سفر اپنے شہر لاہور کی طرف شروع ہوگا۔۔۔میرا لاہور محاذِ جنگ بن چکا ہے۔۔۔ اور میں محاذ پر جارہا ہوں۔۔۔ میرے والدین وہاں ہیں۔۔۔ میری آزادی بھی وہاں ہے۔۔۔ وہاں کی فضاﺅں میں ہی میرے خواب بکھرے ہوئے ہیں۔۔۔
میں روزنامہ کوہستان کا ایگزیکٹو ایڈیٹر ہوں۔۔۔اس کے چیف ایڈیٹر نسیم حجازی ہیں۔۔۔
یہ اخبار بڑی تیزی سے اوپر جارہا ہے۔۔۔ ” روز نامہ نوائے وقت “ اور ” روزنامہ امروز“ بہت پیچھے چھوڑے جاچکے ہیں۔۔۔ مقابلہ ” جنگ “ سے ہے۔۔۔ اور اب مقابلہ ” مشرق “ سے بھی ہے۔۔۔ لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے۔۔۔
یہاں میرا موضوع شہر لاہور ہے۔۔۔ میرا لاہور جس پر ایک عیار اور ہم سے کہیں بڑے دشمن نے شبخون مارا ہے۔۔۔
سوچوں کا طوفان ذہن میں تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔
اچانک گاڑی رک جاتی ہے۔۔۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کوئی ریلوے سٹیشن ہے۔۔۔ دروازہ کھول کر میں باہر اترتا ہوں۔۔۔ اندھیرے میں صرف سائے نظر آرہے ہیں۔۔۔ مگر اب اندھیرا گھپ نہیں۔۔۔ چاند اپنی موجودگی کا احساس دلارہا ہے۔۔۔
خوش قسمتی سے وہاں مجھے چائے کا کپ مل جاتا ہے۔۔۔ اور یہ خبر بھی ملتی ہے کہ ہمارے ایک مایہ ناز پائلٹ ایم ایم عالم نے تین منٹ میں پانچ بھارتی طیارے سرگودھا کی فضاﺅں میں مار گرائے ہیں۔۔۔ ایم ایم عالم کے ہاتھوں مار گرائے جانے والے بھارتی طیاروں کی کل تعداد سات ہے۔۔۔ یہ بات فوراً میرے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے کہ ہمارے اس عظیم ہیرو کا یہ کارنامہ فضائی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن جائے گا۔۔۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ ٹھیک تین ماہ چار دن بعد میری ملاقات پاکستان کے اس مایہ ناز سپوت سے ہوگی۔۔۔
گاڑی دالبندین کے سٹیشن پر کافی دیر رکی رہتی ہے۔۔۔ میں آکر گاڑی میں سوجاتا ہوں۔۔۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو گاڑی رکی ہوئی ہے لیکن اب ریلوے سٹیشن نوشکی ہے۔۔۔
سوچوں کاطوفان پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔۔۔
لیکن اب میں ڈنکرک سٹالن گراڈ اور پرنس آف ویلز وغیرہ کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔۔۔
اب میری سوچوں میں میدان بدر ہے۔۔۔
اب میں یرموک اور قادسیہ کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ اب میں رچرڈ اعظم کو صلاح الدین ایوبی ؒ کے سامنے ہتھیار ڈالتے دیکھ رہا ہوں۔۔۔ اب مجھے حد نگاہ تک اپنا سبز ہلالی پرچم فضاﺅں میں لہراتا نظر آرہا ہے۔۔۔ گاڑی پھر چل پڑتی ہے۔۔۔
میں بڑبڑاتا ہوں۔۔۔ ” میرے لاہور اپنے اس حقیر سپاہی کا انتظار کرنا !“

Scroll To Top