ہمارے ماہرینِ قانون و آئین یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ پاکستان فرانس سے بڑی جمہوریت ہے !

aaj-ki-bat-logoاصولی طور پر اصولی حقائق کو ہی بالادستی حاصل ہونی چاہئے مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔۔۔ عملی طور پر زمینی حقائق ہی فیصلہ کن ہواکرتے ہیں۔۔۔ جیسے پاکستان میں آخری فیصلہ ہمیشہ آرمی چیف کا بالادست رہا ہے۔۔۔ 1998ءمیں اگر جہانگیر کرامت چاہتے تو وہ اس زمینی حقیقت کو قائم رکھ سکتے تھے۔۔۔استعفیٰ دینے کا فیصلہ بھی اُن کا اپنا تھا۔۔۔ اصولی طور پر وزیراعظم کا فیصلہ ہی حتمی ہونا چاہئے مگر یہ اصول زمینی حقیقت اِس لئے نہیں بن سکا کہ وزیراعظم بننے کے لئے ہمارے سیاسی نظام میں کسی اہلیت اور لیاقت کی ضرورت نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ اسے اس کی پارٹی نے اپنا لیڈر منتخب کیا ہوا ہو اور اس کی پارٹی کو ایوان میں اکثریت کا اعتماد حاصل ہو۔۔۔ اِس اہلیت اور اُس اہلیت میں عملی طور پر کوئی فرق نہیں جو ٹرک ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے صدر یا جنرل سیکرٹری کے انتخاب کے لئے درکار ہوتی ہے۔۔۔ وزیراعظم بننے کے لئے پیسہ اثر ورسوخ اور جوڑ توڑ چلتا ہے۔۔۔ ملک کے دوسرے دو بڑے عہدے یعنی آرمی چیف اور چیف جسٹس بہرحال ایسے لوگ پرُ کرتے ہیں جوزندگی بھر مختلف منازل طے کرتے ہیں اور مختلف امتحانوں سے گزرتے ہیں۔۔۔ چیف جسٹس بننے کے لئے یقینی طور پر قانون دانی اور قانون فہمی کا بڑا وسیع تجربہ چاہئے لیکن اس کا انتخاب بھی سو فیصد واضح طریقہ کار کے مطابق نہیں ہوتا۔۔۔ مطلب میرا یہ ہے کہ ایک وکیل جب جسٹس بنتا ہے تو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کی صوابدید ضرور ہوتی ہے۔۔۔ آرمی چیف بننے کے لئے لازمی ہے کہ آدمی پہلے لیفٹیننٹ بنے ` پھر کپتان پھر میجر `پھر لیفٹیننٹ کرنل پھر کرنل ` پھر برگیڈیئر ` پھر میجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل ۔۔۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ آدمی برگیڈیئر بنے بغیر میجر جنرل بن جائے ` یا میجر جنرل بنے بغیر لیفٹیننٹ جنرل بن جائے۔۔۔ آرمی چیف بننے کے لئے جنرل بننا پڑتا ہے۔۔۔ یہاں ضرور وزیراعظم کا صوابدیدی اختیارچلتا ہے۔۔۔ یہ صوابدیدی اختیار میاں نوازشریف نے تین مرتبہ استعمال کیا اور تینوں مرتبہ وہ اپنی منشا جیسا آرمی چیف لانے میں ناکام رہے ہیں۔۔۔ جنرل کا انتخاب بہرحال لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کرنا پڑتا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل آرمی میں ویسے نہیں بنتے جیسے دانیال عزیز ` طلال چوہدری اور مریم اورنگزیب وغیرہ جیسے لوگ کابینہ میں وزیر بن جایا کرتے ہیں۔۔۔
بہرحال ایک بات طے ہے کہ ہماری ملکی سیاست میں یہ تین عہدے بڑ ی اہمیت کے حامل ہیں۔۔۔ ان میں ایک عہدہ سیاسی ہے اور دوسرے دو عہدے ریاستی ہیں۔۔۔
ضرورت ملک میں ایسا نظام لانے کی ہے جس میں حتمی حیثیت اصولی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی سیاسی عہدے کی ہو۔۔۔ ایسا صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کے تقرر کے لئے جو جمہوری طریقہ اختیار کیاجائے اس میں وہ سچ مچ عوام کا حقیقی نمائندہ نظر آئے۔۔۔ جیسا کہ امریکہ میں ہے یا جیسا فرانس میں ہے۔۔۔ ہم اکثر یہاں برطانیہ اور بھارت کی مثالیں دیتے ہیں۔۔۔بھارت کی مثال دینا تو نری جہالت ہے ۔۔۔ اپنے سیاسی نظام کی بدولت بھارت باقی بڑی طاقتوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔۔۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بھارت ابھی تک قائم ہی پاکستان کی وجہ سے ہے۔۔۔ وہاں پاکستان کو ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور یہی خطرہ بھارت کو متحد رکھے ہوئے ہے۔۔۔
جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے ` اس کے پارلیمانی نظام کو موجودہ معراج تک پہنچنے کے لئے دو صدیاں تو ضرور لگی ہیں۔۔۔ ہم برطانیہ جیسی سیاسی روایات کہاں سے لائیں گے اور تعلیم کا وہ معیار ہمارے ہاں کہاں سے آئے گا۔۔۔؟
پچاس برس قبل میں نے ایک سروے کیا تھا۔۔۔ میں یہ جان کر ششدر رہ گیا تھا کہ ساڑھے چار کروڑ کی آبادی میںبرطانیہ کے اندر روزانہ سوا چار کروڑ کی تعداد میں اخبارات شائع ہوتے ہیں !اگر اخبارات کو پڑھنے کے لئے عمر کی حد پندرہ برس رکھی جائے تو برطانیہ میں ہر شخص کم ازکم دو اخبارات ضرور پڑھتا ہے!
ہمیں پاکستان میں حقیقی جمہوریت لانی ہوگی اور حقیقی جمہوریت تبھی آئے گی جب چیف ایگزیکٹو کا انتخاب براہ راست عوا م کریں گے۔۔۔
ہم ا س ضمن میں امریکہ اور فرانس کے نظاموں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔۔۔
کچھ قانون دان یہاں یہ کہیں گے کہ یہ ممکن کیسے ہے۔۔۔ آئین میں ترمیم کے لئے دوتہائی اکثریت چاہئے۔۔۔ 1956ءمیں جب فرانس کے اندر پارلیمانی نظام کا خاتمہ ہوا تھا تو کیا آئین میں ترمیم کی گئی تھی ۔۔۔ لوگ ایک ریٹائرڈ جنرل ” ڈیگال“ کو ڈھونڈھ لائے تھے جنہوں نے ایک نیا آئین تیار کرکے دیا تھا جوریفرنڈم کے لئے پیش کردیا گیا تھا۔۔۔!
پاکستان کو فرانس سے بڑی جمہوریت ہونے کا تو دعویٰ نہیں کر نا چاہئے۔۔۔!

Scroll To Top