پیچھے صرف ہم لوگ رہ جائیں گے! 01-02-2012

kal-ki-baatامریکہ اپنے آدمی کو پھر لے گیا۔ پہلے امریکہ ریمنڈ ڈیوس کو لے گیا تھا۔ اب حسین حقانی کو لے گیا ہے۔ پہلے بھی انداز ڈرامائی تھا۔ اب بھی انداز ڈرامائی ہی رہا۔ ریمنڈ ڈیوس کو لے جانے کے لئے امریکہ نے ہمارے شرعی قوانین کا سہارا لیا۔ اور اب حسین حقانی کو لے جانے کے لئے اس نے ہماری اعلیٰ ترین عدالت کی بے بسی اور ہمارے عدالتی نتظام کی کمزوریوں کا سہارا لیا ہے۔
جن لوگوںنے حسین حقانی کی فاتحانہ چال ڈھال اور مسکراہٹ کا مشاہدہ کیا انہیں اس بات کا دکھ ضرور ہوگا کہ ایک بار پھر قوم کو اپنے منہ پر ایک بھرپور طمانچے کی ضرب سہنی پڑی ہے۔
میں حسین حقانی کی حب الوطنی پر شک اس لئے زیادہ کھل کر نہیںکروں گا کہ ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیںجس کے دانشوروں اور اکابرین نے لغت میں سے یا تو غداری کا لفظ نکال باہر پھینکا ہے یا پھر اس کا مفہوم تبدیل کرڈالا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ جنرل کیانی یا جنر ل پاشا نے صبح صبح جب اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا ہوگا تو انہیں وہاں شرمندگی نظرآئی ہوگی یا نہیں ` مگر میں نے جناب نجم سیٹھی کو مسکراہٹیں اور قہقہے بکھیرتے اپنی نظروں سے دیکھا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ ہمارے ملک کی اساس کا مذاق اڑا رہے ہوں۔ یہ مذاق انہوںنے پہلی بار نہیں اڑایا۔ قوم کو جب بھی ہزیمت کا سامناکرناپڑاہے انہوں نے ان تمام اقدار کا مذاق اڑایا ہے جن پر اس قوم کے تشخص کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے مذاق اڑانے کے لئے ایک عنوان بھی تجویز کیا۔
میمو گیٹ ختم شد!
خد ا نہ کرے کہ کسی روز انہیں ” نظریہ ءپاکستان ختم شد “ کا عنوان سا منے لانے کا موقع ملے۔
پہلے اِن لوگوں کے دل و دماغ ” دیارِ غیر “ میں آباد تھے۔ اب ان کے وسائلِ رزق بھی وہیں ہیں۔ وسائل ِرزق تو اب ہمارے حکمرانوں کے بھی دیارِ غیر میں ہی ہیں۔آپ جانتے ہی ہے کہ میاں صاحب اکثر لندن آتے جاتے رہتے ہیں ۔ اور زرداری صاحب نے اپنے طیارے پر بھی ” استثنیٰ“ کالفظ لکھوا رکھا ہے۔
پیچھے صرف ہم لوگ رہ جائیں گے۔
میری دعا ہے کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا وغیرہ ہم لوگوں میں ہی شمار ہوتے رہیں۔ اور جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی!

Scroll To Top