انتہاپسندی تعلیمی اداروں میں بدستور موجود

zaheer-babar-logoمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن پر حملے کرنے میں جامعہ کراچی کے طلبہ کا ملوث ہونا انتہاپسندی کی موجودگی کا ایک اور ثبوت دے گیا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث پائے گے ، قبل ازیں سانحہ صفورا میں یہ تلخ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں انتہاپسندی کو حکومتی سطح پر تاحال اس طرح سنجیدگی نہیں لیا گیا جس کی بجا طور پر ضرورت تھی۔ مثلا یہ پوچھا جاتا ہے کہ عسکری قیادت کی جانب سے پہلے ضرب عضب اور اب ردالفساد جاری ہے مگر وفاقی اورصوبائی حکومتیں قومی ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
ملک کے اہل فکر ونظر کے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ سماج میں انتہا پسندی بدستورکیوں موجود ہے ۔ مثلا 1950 سے لے کر 1968 تک کے کراچی میں پرتشدد کاروائیوں کی مثالیں زیادہ نہیں ملتیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دنوں روشنیوںکے شہر میں مختلف مذاہب اور فرقوں کے لوگ ایک ساتھ پرامن انداز میں رہتے تھے۔ ایک دوسرے کی تہواروں میں شریک ہوا کرتے تھے مگر شائد اب ایسا نہیں رہا ۔
اس میں شبہ نہیں کہ معاشر ے میں انتہا پسندی ، اشتعال اوراندھی غیرت کا جو خود ساختہ معیار قائم کرلیا گیا ہے کہ وہ کسی مخصوص طبقہ کی پیداوار نہیں ۔ مثلا مدارس کا وجود یوں تو ہمیشہ سے ہے لہذا تمام تر مسائل کی زمہ داری دینی اداروں کو قرار دینا بھی ہرگز انصاف نہیں۔ کہا جاتا ہے کہا اگر مدارس انتہا پسندی کا باعث ہوتے تو سو سال میں اپنی سار ی بہار دکھاچکے ہوتے ۔ اگر سو سال بعد بھی مدارس نے کوئی مذہبی تفریق معاشرے کو نہیں دی تو آئندہ بھی خرابی کی زمہ داری ان پر نہیں ڈالی جاسکتی۔
بلاشبہ انتہا پسندی معاشرے میں ناسور کی طرح ہے۔ آج سچ یہ ہے کہ مذہبی ہی نہیں ہر طرح کی انتہاپسندی اور لاقانونیت ہمارے معاشرے کا حصہ ہے ۔ پسند کی شادی پرپابندی ، گھر سے بھاگنے والی لڑکی کا والد اور بھائیوں کے ہاتھوں قتل یہ سب کچھ صرف ہمارے ہاں نہیں سیکولر بھارت میں بھی ہورہا ۔ ایک خیال یہ ہے کہ انتہاپسندی کا دوسرا نام قانون کو ہاتھ میں لینا ہے اور قانون ہاتھ میں اس وقت لیا جاتا ہے جب عام وخاص کے لیے الگ الگ معیار قائم کردیا جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اب عام شہریوں کی جانب سے کسی حقیقی یا فرضی چور اور ڈاکو کو پکڑ کر خوب مارا پیٹا جاتا اور لہو لہان کرکے جسم کی ہڈیاں ریزہ کردی جاتیں اور بسا اوقات اسے زندہ جلادیا جاتا ہے ۔ دراصل یہی معاشرے کے انتہاپسندانہ رویہ ہی ہیں جن کی جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
وطن عزیز میں جب انتہا پسندی پر بات کی جاتی ہے تو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور ضیا الحق کے دور کو انتہا پسندی کا ابتدائی دور کہا جاتا ہے۔ ضیاءالحق کے ناقدین کے بعقول مرحوم صدر نے اسلام کو اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے اس طرح استمال کیا کہ ملک میں مسقل بنیادوں پر انتہاپسندی کو بیناد رکھ دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی وجہ اگر نصاب ہے تو جو انتہاپسندانہ رویہ سماج میں موجود ہیں اس کی وجہ کیا ہے ۔ نہیں بھولنا چاہے کہ سیاسی اور لسانی تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان یونیورسٹی اورکالج ہاسٹلوں میں فائرنگ کے تبادلے ، تشدد اور ہاسٹلوں پر قبضہ کے واقعات مسلسل رونما ہورہے جنھیں فراموش نہیں کرنا چاہے۔ تادم تحریر ملک کی کئی درسگاہوں میں سیاسی اور لسانی تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان لڑائی ، فائرنگ اور ایک دوسرے کے کارکنوں پر تشدد کے واقعات سامنے چکے۔
یاد رکھنا ہوگا کہ آج انتہا پسندی محض پاکستان کا مسلہ ہی نہیں رہی بلکہ اس کے مظاہرے پوری دنیا میں جا بجا نظر آتے ہیں، مگر بطور قوم ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا وجہ کہ ہے کہ حالات پر بدستور قابو نہیں پایا جاسکا۔
بہتری کی امید رکھنے والوں کے بعقول بھارت میں مودی جیسا متشدد ہندو اپنے تعصب ہی کی بنیاد پر مقبولیت حاصل کرلیتا ہے اور ملک کا وزیر اعظم بن جاتا ہے مگر اس کے برعکس حافظ سعید تاحال عوامی مقبولیت کی معراج کو نہیں پہنچ سکے ۔ بھارت میں شدت پسند ہونا سیاسی طورپر کامیابی کی ضمانت ہے مگر ہمارے ہاں اگر مگر کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا۔ کیا یہ کم اہم ہے کہ پاکستان میں اب تک ٹرمپ جیسا قوم پرست لیڈر پیدا ہی نہ ہوسکا کیوں کہ یہاں پرتشدد رویے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔
مان لینا چاہے کہ انتہا پسندی صرف مذہبی نہیں ہر طرح کی انتہا پسندی معاشرے میں موجود ہے ۔ یقینا اس کے نتیجے میں افسوسناک رویے جنم لیتے ہیں ۔تعلیم اور بہترین اخلاقی تربیت کا فقدان ، کرپشن اور ناانصافی ایسے نمایاں اسباب ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ افراتفری کا شکار ہے ۔ سماج میں یہی چیزیں زندہ رہیں تو مذید انتہا پسندی اور لاقانونیت بڑھنے کا خطرہ موجود ہے ۔ان حالات میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول اب بھی لیے مشعل راہ ہے کہ” مملکتیں کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہیں مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔“ تاریخ سے شناسا ہر شخص آگاہ ہے کہ ظلم کسی مذہبی مملکت میں ہو یا غیر مذہبی ریاست میں اس کا نتیجہ تباہی وبربادی کے علاوہ کچھ اور نہیں نکلنے والا۔

Scroll To Top