جنگ 1965 کی یادیں

  • تاج اےم خٹک

22


6 ستمبر 1965 کے دن صدر اےوب خان کا قوم سے خطاب اےک اےسا لمحہ تھا جب پاکستان کی تارےخ نے ایک نیاموڑ لیا۔ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا ہم کےا کر رہے تھے اور ہم کہاں تھے ۔ اس دن تقریباًگےارہ بج کے چند منٹ پرمشکل سے ستر ہ سالہ کڑےل جوان ،میں،آفےسرز بھرتی ہونے کے امےدوار کی حیثیت سے انٹر سروسز سلےکشن بورڈ مےں داخل ہو رہا تھا ۔ اسی لمحے کمرے میںاےک چھوٹے سے رےڈےو پر صدر اےوب کے تارےخی الفاظ مےر ے عزےز ہم وطنو “ گونجے۔ ےہ اےسے الفاظ تھے جنہو ں نے پوری قوم کے جذبات کومادر وطن کے دفاع کے لئے اُبھارا۔ صدر اےوب نے بتاےا کہ بھارتی فوج نے انفنٹری ڈوےژن اور جنگی ہتھےاروں کی تےن ماہر رجمنٹس کےساتھ کس طرح لاہور پر تےن اطراف سے حملہ کر دےا ہے اور اس طرح بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ کا آغاز کردیا ۔ عسکری جنگی چالوں اور جنگی منصو بہ بندی کے طالب علم اچھی طرح جانتے ہےں کہ اس تناسب کی فوج جب بےن الاقوامی سرحد کے قرےب ترین فاصلے سے چڑھائی کرتی ہے اور لاہور شہر پر حملہ آور ہوتی ہے تو کسی بڑی مشکل کا سامنا کئے بغےر اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔
لاہور میں اس شام جشن منانے کے خواہش مند بھارتی آرمی چےف جنرل چودھری کی طرف سے یہ صرف اےک بھڑک نہ تھی ۔پاکستان کی بہادر اور نڈر فوج نے بھارتی حملے کو بری طرح پسپا کر دےا گےا اور تعدادمیں بہت ہی کم آرمی، حملہ آوروں کی پےش قدمی مےں سےسہ پلائی ہوئی دےوار بن گئی ۔ پاکستان کے ان سپوتوں نے مضبوط ارادوں اور بلند حوصلوں سے اےک نئی تارےخ اس وقت تک رقم کی جب تک پیچھے مزیدکمک پہنچ گئی اور یوں لاہورمحفوظ ہو گیا۔تین بلوچ رجمنٹ کے ۹۳ سپاہیوں کی یاد گارکا قیام جو کہ اس دن جنگ کے دوران واہگہ پر شہید ہوئے ایک احسان مند قوم کی جانب سے خراج تحسین کاچھوٹا سا اظہار ہے۔
1965 کی جنگ کے دوران پاکستان نےوی اپنی طرزکی اےک نئی تارےخ رقم کرنے جا رہی تھی ۔پاکستان نےوی کے بحری جنگی بےڑے مےں شامل جہازپی اےن اےس بابر ، خےبر ، بدر ، ٹےپو سلطان ، جہانگےر ، شاہجہان، اور عالمگےر احکامات موصول ہوتے ہی بندر گاہ سے علی الصبح متعین جنگی سٹیشن کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔پاکستان نےوی کے اس جنگی بےڑے کی اجتماعی کمانڈ کموڈور اےس اےم انور کر رہے تھے۔ پی اےن اےس بابر کی کمانڈ کیپٹن اےم اے کے لودھی ، خےبر کی کمانڈ کیپٹن اے حنےف ، بدر کی کمانڈ کمانڈر آئی اےچ ملک ، ٹےپو سلطان کی کمانڈ کمانڈر عامراسلم ، جہانگےر کی کمانڈ کمانڈر کے اےم حسےن ، شاہجہان کی کمانڈ کمانڈر ظفر شمسی اور پی اےن اےس عالمگےر کی کمانڈ کمانڈر آئی اےف قادرکر رہے تھے ۔
پاکستان نےوی کا صرف ایک جہازتغرل بندرگاہ مےں موجود تھا جسکی مےجرری فٹ کی جا رہی تھی ۔پاک بحرےہ کے جہازوں کا آپرےشنل لحاظ سے بالکل فٹ ہونے کا سہرا پاک بحرےہ کی ٹےکےنکل سروسس برانچ کے آفیسرز و سیلرزکو جاتا ہے جن کی محنت اور لگن سے بھاپ سے چلنے والا پرانے جہازوں کے ذرےعے اےک تارےخی کارنامہ انجام دےا گےا جس کی مثال آج کے دور مےں ملنا مشکل ہے ۔ آپرےشنز برانچ سے کسی آفےسرکی بات کی جائے تو کموڈور سلےمی قابلِ ذکرہیںجو رن آف کچھ کی جھڑپ کے دوران پاک بحرےہ کے بےڑے کی کمانڈ کر چکے تھے۔ آپ نے دن رات کی محنت سے جہازوں کو آپرےشنل تےارےوں کے عروج پر پہنچاےا جس کی وجہ سے جہازوں نے انتہائی مہارت اور خفےہ انداز سے اپنے مشن کو مکمل کیا۔ تین دن قبل تین اور چار ستمبر کی رات پاکستان نیوی کی واحد آبدوز غازی جس کی کمانڈ کمانڈر کے آر نیازی کر رہے تھے کراچی سے روانہ ہو چکی تھی۔ غازی کو حکم ملا تھا کی وہ بمبئی سے 50میل کے فاصلے پر اپنی گشت جاری رکھے ۔ پاکستان نےوی پہلی فورس تھی جس نے 1965میں بحر ہند میں آبدوز اتاری تھی جس نے غیر متوقع طور پر میدان جنگ کی ترتیب کو بدل کر رکھ دیا ۔ بحر ہند مےں آبدوز غازی کی تعےناتی پاکستان کی نےول لےڈر شپ کا اےک دانشمندانہ فےصلہ تھا جس سے بہت سے مثبت جنگی اثرات مرتب ہوئے اور پوری جنگ کے دورن بھارتی بحرےہ اپنی ہی بندرگاہوںاور نےول بےسز تک مقےد رہی ۔
اگست1965 مےں ہی جنگ کے بادل چھانے شروع ہو گئے تھے ۔ انٹےلی جنس معلومات کے مطابق بھارتی بحرےہ کا بڑا کروز آئی اےن اےس مےسور، جنگی جہاز بےز (Beas)اور برھما پترا کلکتہ مےں موجود تھے۔ ان جہازوںکو جلد ہی احکامات جاری ہوئے کہ مغربی ساحل کی طرف جا کر دوسرے ڈسٹرائر اور فرےگٹس جہازوں کے ساتھ ملیں۔ کوچن (Cochin) جاتے ہوئے ان جہازوںکا کھوج پاکستان نےوی نے لگا لیا تھا۔ ائےر کرافٹ کےرئےر آئی اےن اےس و کرانت اور اےک بڑا کروز آئی اےن اےس دہلی کی ممبئی مےں ری فٹ کی جا رہی تھی جبکہ کےرئےر بورن ائےر کرافٹ 5 ستمبر کو ہی جام نگر منتقل ہو چکا تھا۔
7 ستمبرکوسمندر مےں موجود پاکستان نےوی کے تمام جہازوں کو رات کے وقت دوار کا پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا۔جہازوں کو سورج غروب ہو نے کے ساتھی ہی اےک جگہ جمع ہونے کا حکم دےا گےا جہاں سے دوارکا کی طرف سفر کرنا تھا اور بمباری کے بعد واپس کراچی روانہ ہونا تھا ۔پاک بحریہ کے جہازوں کو دشمنوں کے جنگی جہازوں کی موجودگی اور فضائی حملوں سے بھی خبردار کر دیا گیا تھا۔
اس فیصلے پر بحث ہوتی رہی کہ حملہ کے لیے دوارکا کاہی انتخاب کیوں کیا گیا۔ 1965کی جنگی صورت حال کے دوران اس حملے کی وجوہات اور مقاصددرج ذیل تھے۔
1 دشمن کے جہازوں کو بندرگاہ سے باہر نکالنا تاکہ وہ آبدوز غازی کی بنائی گئی رکاوٹوں کے حصار میں آ سکیں۔
2 بھارتی ایئر فورس کو کراچی پر حملے کے لیے ہدایا ت دینے والے راڈار اسٹیشن کو تباہ کرنا ۔
3 بھارتی فضائی حملوں کی توجہ زمینی آپریشن سے ہٹا کر بھارتی سمندری دفاع کی جناب مبذول کروانا۔
4 بھار ت کی توجہ زمینی جنگ سے سمندری جنگ کی طرف منتقل کروانا تاکہ وہ اپنی انفرادی قوت کو زمینی آپریشن کی بجائے سمندری دفاع کی طرف جھونک سکیں۔
5 بھارتی سمندری حدود میں دور تک جا کر حملہ کر کے اس کے نفسیاتی فوائد حاصل کرنا۔
یہ فیصلہ بہت منطقی اور دانشمندانہ تھا، کیوں کہ جنگ شروع ہونے کے 36 گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان نیوی نے بھارتی سمندری حدود کے اندر دور تک جا کر کاروائی میں پہل کر کے نہ صرف نفسیاتی فوائد حاصل کئے بلکہ دوارکا کے ریڈار اسٹیشن اور سگنل ریلیز کرنے والے سٹیشن کو تباہ کر کے کراچی پر مزید فضائی حملوں کو روک دیا۔
آپرےشن دوارکا کی کامےابی کے لےے لازمی تھا کہ اپنے آپریشن کو خفےہ رکھا جائے۔مختلف کمےونےکےشز سرکٹ اور ریڈار پر الےکٹرانک اےمےشن پالےسی (Electronic Emision Policy) کے تحت لگائی جانے والی پابندےوں اور اجازتوں کے امتزاج کو استعمال کرتے ہوئے پاک بحرےہ کے جہاز بہترین مناسب رفتار کےساتھ جنوب مشرق کی جانب اپنے ہدف کی طرف بڑھے۔ان دنوں گلوبل پوزےشنگ سسٹم (GPS) کی سہولت موجود نہ تھی اور جنگی ریکارڈگواہ ہےں کہ آسمان پر تےرتے ہوئے گھٹا گھپ بادل اس بات کو نا ممکن بنا دےتے ہیںکہ شام کے وقت روشنی چھوڑنی والی گولہ باری کی جائے۔ گھٹا ٹوپ اندھےرے مےں ڈوبے ہوئے جہاز پرموجود پےغام رسانی کی لائٹس کی بندش ،رےڈار کے ذرےعے رابطے پر پابندی جیسے عوامل کی وجہ سے جہازوں کو مقرر کردہ جگہ پر پہنچنے مےں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑا لےکن جہازوں کے عملے نے کمال پےشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائرنگ والی متعےن جگہ پر جہازوں کی موجودگی کو ےقےنی بناےا۔
بمباری کے احکامات جاری کرنے کےلئے ضروری تھا کہ تمام جہاز دوارکا سے چھ مےل کی دوری پر جنوبی مغرب کی سمت مےں ہوں اور ان کا سفر شمالی مغرب کی جانب ہو۔ کمےونےکےشن سرکٹ پر پابندی کی وجہ سے جہازوں کو بمباری کے احکامات Heaving Line ےا بصری اشاروں کے ذرےعے دےئے گے۔ تمام جہازوں کو اےک دوسرے سے مخصوص فاصلے پر رہنا تھا جس کو "Whisky 81" فارمیشن کہا جاتا ہے ۔ ےہ فارمےشن کموڈور سلےمی کے کارناموں میں سے اےک کارنامہ ہے جو کہ ناٹو کے جنگی تکنےکی کتابوں پر انحصار کرنے کے بجائے پاک بحرےہ کے لئے سمندر مےں آپرےشن کے لےے انتہائی موزوں تھی۔ اس طرح جہاز پر نصب فضائی دفاع کے ہتھےاروں اور گنز کے لےے بھی اےک فارمےشن تےار کی گئی تھی ۔
پاک بحرےہ کے جہاز آدھی رات سے چند منٹ بعد فائرنگ پوزےشن پر پہنچ چکے تھے اور داغے جانے والوں گولوں کے مار کرنے کے فاصلے کی آخری ےقےن دہانی کے بعد آپرےشن ©©”سومنات“ کا آغاز کر دےا گےاجسمےں ہر اےک جہاز نے خطرناک تباہ کن گولہ بارود کے پچاس پچاس راﺅنڈ فائر کرنے تھے ۔اس آپرےشن کو مکمل کرنے مےں صرف تےن منٹ لگے۔ساحل کی طرف کچھ شعلے دکھائی دےئے جن کے بارے مےں پہلے پہل گمان کےا گےا کہ ساحل پر موجود انڈےن بےٹری ےونٹ کی طرف سے آرہے ہےں لےکن بعد مےں پتا چلا کہ پاکستان نیوی کے جہازوں سے فائر کئے گئے گولوں کی فائرنگ کے شعلے ہےں ۔
بھارتی بحرےہ کے سرکاری بیان مےں اس حملے کے نتےجے مےں ہونے والے نقصان کو تسلےم کےا گےا۔رپوٹ مےں بتاےا گےا کہ 8 ستمبر کو آدھی رات کے قرےب نےول رےڈار اسٹےشن پر کچھ گولے براہ راست گرے جس سے انفراسٹرکچر تقریباًتباہ ہو گیا ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے مےں 50 اہلکار جا ن بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
دوارکا مےںقائم آئی اےن اےس وکرانت کی تربےتی پروازوں کے لےے استعمال ہونے والے نیول اےئراسٹےشن کے رن وے پر بھی گولے گرے جس سے وہ دو مہینے کے لیے غےرمو¿ثرہو گےا۔
جنگ کے بعد بھارت کی پارلےمنٹ مےں ےہ سوال اٹھائے گئے کہ بھارتی نےوی نے پاکستا ن کے اس جرا¿ت مندانہ حملے کا جواب کےوں نہےں دےا، خاص طور پر صدر اےوب کی تقرےر جس کے بعد پاکستان بھارت جنگ شروع ہونے میں کوئی شک نہ رہا تھا ۔ بھارت کی وزارت دفاع نے توجیہہ پےش کی کہ پاکستان نےوی سے سے زےادہ آندامان(Andaman) اور نےکوبار(Nicrbao) آئرلےنڈ پر انڈونیشےا ءکے حملے کا دفاع زےادہ اہم تھا۔
ےہ عجےب و غرےب منطق تھی ،اگر اےسا ہی تھا تو اگست کے اواخر تک بھارتی نےوی کی ےونٹس کو مغربی ساحل کی طرف کےوں منتقل کےا گےا۔ بھارتی بحرےہ کے سربراہ نے بھی انوکھی منطق بےان کی کہ بھارتی بحرےہ پر پور بندر (Porbandar) کے شمال مےں کاروائی کرنے پر پابندی تھی ۔یہ محدود اور مفلوج سوچ کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے۔
1965 کی جنگ مےں حصہ لےنے والے اکثر آفےسر اور سےلرز ہمارے درمےان موجود نہےں ہےں لےکن وہ پاکستان نےوی کے شاندار اور عظےم لمحوں کی ےادےں اور نئی نسل کی پےروی کے لئے اےک بہترےں مثال چھوڑ گئے ہیں۔آج ہم پاکستان کا 52 واں ےوم دفاع جانے والے ساتھےوں کے لئے دعاوں کے تحفے کے ساتھ منا رہے ہےں کہ اللہ تعالی کی ذات کرےمی ان کی روحوں کو چےن و سکون عطا فرمائے اور ان کے درجات کو مزید بلند فرمائے (آمےن)
٭٭٭

Scroll To Top