شام میں مہلک گیس کا حملہ حکومتی فورسزنے کیا، اقوام متحدہ

شام کے علاقے شیخون میں رواں سال4اپریل کو ہونے والے حملے میں 87افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فوٹو اے ایف پی

شام کے علاقے شیخون میں رواں سال4اپریل کو ہونے والے حملے میں 87افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فوٹو اے ایف پی


اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ رواں سال اپریل میں شام میں ہونے والے کیمیکل حملے میں حکومتی فورسز کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ جس میں شام کے لیے یواین کمیشن آف انکوائری (سی او آئی) کا کہنا ہے کہ انھوں نے 'وسیع معلومات' جمع کرلیے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 4 اپریل کو مہلک سارن گیس حملےکے پیچھے شامی ائرفورس تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'تمام دستیاب ثبوت کی بنیاد پر کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ شامی فورسز کی جانب سے خان شیخون میں کیمکل بم گرائے جانے کے قابل قدر ثبوت ہیں'۔

یاد رہے کہ شام کے شمالی صوبے ادلیب کےعلاقے خان شیخون میں ہونے والے اس کیمیکل حملے میں 83 افراد مارے گئے تھے جن میں ایک تہائی تعداد بچوں کی تھی اور 300 کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔

آزاد ذرائع نے اس حملے میں 87 افراد کی ہلاکت کی رپورٹ دی تھی۔

شامی حکومت نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 2013 میں ہونے والے معاہدے کے بعد ان کے پاس کوئی کیمیکل ہتھیار موجود نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک کمیشن (او پی سی ڈبلیو) نے رواں سال کے آغاز میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس حملے میں سارین گیس استعمال کی گئی تھی لیکن حکومتی فورسز کے ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا تھا۔

اقوام متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کا ایک مشترکہ پینل اس حملے میں شامی حکومت کےکردار کے حوالے سے تفتیش کررہا تھا۔

واضح ثبوت

اقوام متحدہ کی جانب سے شامی حکومت پر کیمکل حملے میں ملوث ہونے کے الزام پر مشتمل پہلی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مارچ 2013 سے اب تک اس خانہ جنگی کے دوران مزید 23 کیمکل حملے ہوئے جس کی ذمہ داری بھی شامی حکومت پر ہے۔

شام تک رسائی حاصل نہ کرپانے والے ان تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج کی بنیاد بمباری کے فوٹو، سٹیلائٹ تصاویر اور عینی شاہدین ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ایس یو-22 فائٹربمبار استعمال ہوئے جو صرف شامی ائرفورس کے پاس ہیں اور 4 اپریل کو خان شیخون پر چار حملے کیے گئے تھے۔

کمیشن نے کہا کہ 'تین بم او ایف اے بی-100-120 اور ایک کیمکل بم طرز کے تھے اور ہتھیاروں کی تصاویر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فضائی کیمکل بم سابق سوویت یونین کے طرز کا تھا'۔

تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ ثبوت شامی اور روسی حکام کے ان دعووں سے مطابقت نہیں رکھتے کہ یہ فضائی کارروائی مخالف اتحاد کی جانب سے کی گئی ہے۔

یکم مارچ سے7 جولائی کے دوران ہونے والی تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شامی فورسز نے مارچ کے بعد ادلیب، حما اور غوثا کے علاقوں میں تین کیمکل حملے کیے۔

خیال رہے کہ شام میں 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں 3 لاکھ 30 ہزار سےزائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور انھی جرائم کی تفصیلات کے لیے یہ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

Scroll To Top