چوتھا مذہب 31-01-2012

kal-ki-baatیہودیت عیسائیت اور اسلام ان تینوں کے جّدامجد حضرت ابراہیم ؑ تھے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کا دین ایک ہی ہے لیکن صدیوں کے سفر نے اس دین کے خدوخال مسخ کردیئے تو قادرِ مطلق نے دُنیا میں اپنا آخری نبی اپنا آخری پیغام دے کر بھیجا اور فرما دیا کہ یہی دین کامل ہے ` یہی تاقیامت قائم رہے گا اور اس کے بعد نہ تو کوئی دین آئے گا اور نہ ہی کوئی پیغمبر۔ جہاں تک دوسرے تمام مذاہب کا تعلق ہے وہ روایات اور داستانوں پر مبنی ہیںاور ہمارے عقیدے کے مطابق ان کا رشتہ کسی ایسے پیغمبر سے نہیںملتا جس کا ذکر الہامی کتابوں میں ہو۔
مگر میں یہاں ایک چوتھے مذہب کا ذکر کروں گا جو یہودیت عیسائیت اور اسلام کے تمام پیغمبروں کو مانتا ہے۔ یہ مذہب باقی تینوں ” ادیان“ کی صفوں میں تقریباً یکساں طورپر پایا جاتا ہے اور تینوں ” ادیان“ کو ماننے والوں میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اس چوتھے مذہب کو بھی مانتی ہے۔
اس مذہب کا کوئی باقاعدہ رسمی نام نہیں مگر میرے ذہن میں اس کا ایک نام خود بخود ابھرتا ہے۔ اور وہ ہے پاپائیت !
عیسائیت اور یہودیت میں پاپائیت دین کے ایک حصے کے طور پر موجود تھی اور ہے۔ آنحضرت نے جو دین بنی نوع انسان کو اسلام کے نام سے دیا اس میں اگرچہ پاپائیت کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن بعد میں دوسرے تمام ادیان کی طرح خدا کے اس حتمی دین میں بھی پاپائیت نہ صرف یہ کہ شامل ہوگئی بلکہ بری طرح سرایت کر گئی۔
اسلام میں پاپائیت کے ” دخول“ کے خلاف ہی علامہ اقبال ؒ نے اپنا احتجاج ان الفاظ میں ریکارڈ کرایا۔
کیوں خالق و مخلوق میںحائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھادو!
اگر آپ کو اسلام کے ان ”پیرانِ کلیسا“
کا چہرہ دیکھنا ہے تو مولانا فضل الرحمن کو دیکھیں۔ اسلام کو دو جماعتوں میں باٹنے والے پاپائیت کے علمبرداروں میں مولانا فضل الرحمن کو ایک کلیدی کردار حاصل ہے۔ وہ اپنی جماعت کی تعریف مذہبی جماعت کہہ کر کرتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں باقی تمام کروڑوں مسلمان صرف اس لئے ” غیر مذہبی “ ہیں کہ وہ ایک خاص حلیہ نہیں رکھتے اور مذہبی کہلانے کے لئے ایک خاص انداز کا لباس نہیں پہنتے۔
میںسمجھتا ہوں کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کی تحریک میں ہمارا مقابلہ ایک طرف اسلام دشمن قوتوں سے ہوگا اور دوسری طرف پاپائیت کے ان علمبرداروں سے جو دین کے پردے میں ایمان بیچتے ہیں!

Scroll To Top