ناکام خارجہ پالیسی کا تازہ ثبوت

zaheer-babar-logoپاکستان نے دوٹوک انداز میں دنیا کی پانچ اہم معیشتوں کی تنظیم بریکس کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ملک میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں اور افغانستان میں حکومت کے زیرِ کنٹرول نہ رہنے والے علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا، چین، برازیل، جنوبی افریقہ اور روس پر مشتمل تنظیم بریکس نے پیر کو پہلی مرتبہ اپنے اعلامیے میں پاکستان میں موجود تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر کیا تھا۔
دراصل بریکس کے اعلامیہ نے بھارت سمیت ملک کے ان بدخواہوں کے اعتراضات کو عملا پذائری بخشی جو طویل عرصہ سے پاکستان پر دہشت گردوں کی اعانت کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ بریکس کا اعلامیہ صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے محض چند دن بعد آیا جس میں امریکی صدر نے کھل کر پاکستان پر دہشت گردوںکی درپردہ اعانت کرنے کا الزام عائد کیا۔
ادھر توقعات کے عین مطابق وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے بریکس کے الزمات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کر چکا ہے اور ان کی باقیات کے خلاف بھی کاروائی جاری ہے۔وزیر دفاع نے غیر مہبم الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں اس کے برعکس لمحہ فکریہ یہ ہے کہ افغانستان کے 40 فیصد علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ خرم دستگیر خان کا کہنا تھا افغانستان کے 407 اضلاع میں سے 60 فیصد پر افغان حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ باقی پر افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے تو اس طرح تو 40 فیصد افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔'
بریکس نے اپنے اعلامیے میں خطے میں بدامنی اور طالبان، دولتِ اسلامیہ، القاعدہ اور اس کے ساتھی گروہوں بشمول مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، حقانی نیٹ ورک، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، ٹی ٹی پی اور حزب التحریر کی وجہ سے ہونے والے فساد کی مذمت کی ۔تنظیم نے اپنے اعلامیہ میں دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث، ان کا انتظام کرنے یا حمایت کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔
اس میں شک نہیں کہ افغانستان سمیت اس خطے میں سرگرم کئی دہشت گرد گروہ مثلا تحریکِ طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار جیسے گروہ پاکستان میں پرتشدد کاروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔ دنیا گواہ ہے کہ افغانستان کے ان علاقوں میں جہاں کابل حکومت کی رٹ موجود نہیں، داعش، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ اور ازبکستان اسلامک موومنٹ جیسے گروہ موجود ہیں ۔ درحقیقت یہ گروہ خطے کے علاوہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔پاکستان کے لیے تشویش یہ ہے کہ بریکس کے پانچ ملکوں میں دوست ملک چین بھی شامل ہے جس نے عمل اب ا بھارتی موقف کی تائید کی ہے۔
ادھر چینی شہر شیامن میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس کے اختتام کے بعد چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے وفود کے ہمراہ ملاقات کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزیراعظم سے کہا کہ چین اور بھارت کے مضبوط اور مستحکم تعلقات ہونے چاہئیں جو دونوں ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہیں۔صدر شی جن پنگ کے بعقول 'چین، بھارت کے ساتھ امن کی ہم عہدی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر مل کر کام کرنا چاہتا ہے جو سیاسی اعتماد بحال کرنے، باہمی تعاون کے فروغ اور بھارت اور چین کے تعلقات کو صحیح سمت میں لانے کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے لائے گئے تھے'۔
بھارتی میڈیا ایک طرف بریکس اجلا س کے اعلامیہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا تو دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان ہونی والی سربراہی ملاقات کو بھی تعمیری کہنے میں ہرگز کنجوسی سے کام نہیں لےے رہا۔دونوں ملکوں میں حالیہ پیش رفت اس کے باوجود ہوئی کہ رواں سال 16 جون کو ڈوکلام میں بھارتی فوج کی جانب سے چینی سڑکوں پر کام رکوانے کے بعد سے چینی اور بھارتی افواج آمنے سامنے آگئی تھیں۔دونوں ملکوں کے درمیان کشدیگی اس حد تک بڑھی کہ تصادم کا سا خطرہ محسوس ہوا۔ بھارت نے اس علاقے میں سڑک کی تعمیر کو رکوانے کے لیے فوجی تعینات کیے گئے، جس کے بعد چینی اور بھارتی فورسز کے درمیان معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں۔بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے جسے بھارت اور چین کے درمیان گذشتہ دو دہائیوں میں سب سے ابتر صورتحال قرار دے دیا گیا۔چین نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے سے اپنی فوجیں واپس لے کر جائے جبکہ بھارت کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی فوجیں ایک ساتھ اس علاقے سے باہر جائیں گی۔گذشتہ ہفتے بھارت نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک سرحد پر موجود اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے مگر چین کے بعقول صرف بھارتی فوج ہی علاقے سے واپس جائے گی جو غیر قانونی طور پر چینی علاقوں میں موجود ہے۔
پاکستان ایک طرف اندرونی مسائل کا شکار ہے تو دوسری جانب ملکی خارجہ پالیسی تاحال متاثر کن کارکردگی پیش نہیں کرسکی۔ اس ضمن میں مسلم لیگ ن کی سرکار کی سنجیدگی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ چار سالوں تک مکمل طور پر وزیر خارجہ کا تقرر ہی نہیں کیا جاسکا۔ لازم ہے کہ پاکستان کو بدلے ہوئے ماحول میںمحض زبانی جمع خرچ کی بجائے حقیقی معنوں میں خارجہ امور کو بہتر بنانے کی ٹھوس کوشش کرناچاہے۔

Scroll To Top