خراجِ تحسین اور تجدیدِ عہد کا دن

  • آسیہ آصف

14


۶ ستمبر۵۶۹۱ءہماری عسکری تاریخ کا انتہائی اہم ترین دن ہے ۔ یہ دن ہمیں جنگ ستمبر کے اُن دنوں کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج اورپوری قوم نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اورقومی وقار کا دفاع کیا تھا۔ اس دن محب وطن پاکستانی شہریوں نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا اور یہ جنگ پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی مشترکہ جدوجہد تھی جوآنےوالی نسلوں کے لئے مشعلِ ر اہ کاکام کرتی رہے گی۔ اس تاریخی دن کے ساتھ ایسی انمٹ یادیں اورنقوش وابستہ ہوچکے ہیں جنہیں زمانے کی گرد بھی نہ دھندلاسکے گی۔ یہ دن جہاں ہماری پاکستانی قوم کے لئے بڑی آزمائش کا دن تھا وہاں پر نڈر اور بہادر افواج کے لئے بھی انتہائی کڑا وقت تھا۔ اس دن پوری قوم اورمسلح افوج کے افسروں ،جوانوں نے مل کر رفاقت کے سچے جذبے کے ساتھ بزدل ،مکار وعیار دشمن کے ناپاک اورگھناﺅنے عزائم کو خاک میں ملادیا تھا۔ ان فرزندانِ پاکستان کی بامثال اورلازوال قربانیوں کی بدولت آج ہمیں تاریخ میں ایک باوقار مقام حاصل ہے۔

13پاکستانی قوم کو مسلح افواج کے جانبازجوانوں کے جذبہ حب الوطنی اورپیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ہمیشہ سے فخر رہا ہے۔ جب کبھی ارض پاکستان پر کوئی ناگہانی آفت آئی یا کسی نے پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھایا للکارا تو پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ غیور عوام کے ساتھ مل کر سرحدوں کی پاسبانی اورنگرانی کے ایسے کارنامے انجام دیئے جوتاریخ کے اوراق میںہمیشہ سنہری حروف سے رقم ہیں۔
سترہ روز اس تاریخی جنگ میں سازوسامان اورعددی دونوں لحاظ سے دس گنا بڑی طاقت کو ذلت آمیز پسپائی اورشکست پر مجبور کرکے پوری دنیا میں اس کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا ۔ستمبر۵۶۹۱ءکی ایک اندھیری رات ، بھارت نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارض پاک پر اپنے ناپاک ارادوں سے حملہ کر دیا جو ملک اللہ تعالیٰ اورا ُس کے رسول کے نام پر حاصل کیا گیا ہو اس کو رہتی دنیا تک کوئی نہیں مٹا سکتا یہ بات ہمارادشمن سمجھنے سے قاصر تھا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قوم کے جذبہ ایمان، کردار،ہمت اور خلوص کا امتحان جنگ سے ہواکرتا ہے۔ ۶ستمبر۵۶۹۱ءکی جنگ اس کی زندہ مثال ہے ۔ جس میں پاکستانی قوم اورافواجِ پاکستان نے ثابت کردیا کہ ان کا دل اللہ کی یاد سے لبریز ،حبِ رسول سے مامور ، دین کی محبت سے آباد اوروطن کی آزادی و حرمت پر مر مٹنے کے جذبے سے سرشار ہے۔ یہی وہ سرمایہ تھا جس کے بل بوتے پر اس نے اپنے سے تعداد اور اسلحہ میں کئی گنا بڑی طاقت کے سارے خواب بکھیر دیئے اور سارے منصوبے اورغرور خاک میں ملا دیئے۔
انہی روشن چراغوں سے زمانے میں اجالا ہے
خداکا اورمحمد مصطفی کا بول بالا ہے
115لاہور داتا کی نگری اور میاں میر کا شہر ہے جس کو فتح کرنے کا مکرہ خواب ہندوستان نے دیکھا تھا ۔۶ستمبر ۵۶۹۱ءکو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین آزادی کی پے درپے فتوحات اورمتوقع کامیابیوں سے بوکھلا کر بے ضابطہ طورپر جنگ کرنے کی اخلاقی پابندی کو ملحوظ رکھے بغیر لاہور کے محاذ پر حملہ کردیا تھا۔ بھارت کے جنگی ناخداﺅں کو یہ حرکت کرتے ہوئے یہ خوش فہمی ہوگئی تھی کہ پاکستان شائد ترنوالہ ہے۔
افراد کے ہاتھوںمیںہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
۶ستمبر۵۶۹۱ءکو بھارتی فوج مختلف مقامات سے پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی۔ان حملوںکا مقصد پاکستان کو گھیر لیالینا اوراس کی شہ رگ کر کاٹ دینا تھا۔امن و آشنی اوردوستی کا نقاب چڑھا کر اپنی جارحیت سے کشمیر ،حیدرآباد ،جونا گڑھ ،مانا ،منگرول اورگواپرقبضہ کرنے والے پاکستان کو بھی تَرنوالہ سمجھ بیٹھے تھے لیکن حق و صداقت کی فتح کا اللہ کا وعدہ ہے اس نے مومنوں کو جو کافروں کے خلاف حالت جہاد میںتھے ایسی مدد و طاقت عطا فرمائی جس کی وجہ سے کئی گنا بڑے دشمن کے مکروہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔۶ ستمبر کو جوکچھ ہوا اُس نے بھارت کے حکمرانوں کو ان کے خواب سے جھنجوڑ کر جھگا دیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ کا آغاز کرنے والوں کو شام تک لاہور پر قبضہ کرنے کے بجائے اپنی مسلط کردہ جنگ کی باقی مدت لاہور سے دور دور اپنی سرزمین پر لڑنی پڑی جس میں ان کے قدم ایک انچ آگے نہ بڑھ سکے ۔
اس جنگ میں پاکستان نیوی نے بھی بھر پور کردار ادا کیا۔ بحری جنگی مشن میں پاک بحریہ کے سات جہاز بابر، ٹیپوسلطان،خیبر،بدر ،جہانگیر ،شاہجہاں اورعالمگیرشامل تھے۔سات کے سات جہازوں کی توپوں نے آگ اُگلی ۔یہ اسلامی لشکر کا سومنات پر دوسرا حملہ تھا جس نے دشمن کے راڈار اسٹیشن کو تباہ کر دیا جس سے دشمن کی بحری جنگی حکمت عملی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔پاک وطن کے فرزندوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کو نہ صرف خاک میں ملایا بلکہ ایسی مثالیں قائم کیں کہ عہد رفتہ کی یاد تازہ کردی اورثابت کردیا کہ ہم محمدبن قاسم اورطارق بن زیادکی عسکری تدبیروں کے جانشین ہیں۔
ان عظیم ماﺅں کو سلام پیش کرنے کےلئے جنہوںنے اپنے جگر گوشوں کو دفاع وطن کے لئے افواج پاکستان کے سپرد کیا اوراُن بہنوں کو سلام پیش کرنے کے لئے جنہوںنے اپنے پھول جیسے بھائیوں کی دائمی جدائی کا پتھر اپنے دلوں پر رکھا اورخاص طورپر دھرتی ماں کے ان بیٹوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے جنہوں نے خاک وطن کو اپنے خون جگر سے سینچا۔ عمومی طورپر قوم وطن اورباالخصوص افواج پاکستان ۶ستمبرکو یوم دفاع منانے کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں۔ شہداءکی تربت پرپھولوں کی چادریں چڑھائیں جاتی ہیں ۔
پاکستان نیوی بھی اپنے سرفروش بیٹوں کو یادکرتی ہے ۔شہداءکی قبور پر اوران کی یاد میں قائم کی گئی یادگاروں پرگُلوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں۔ اُن کی یاد کی شمعیںجلائی جاتی ہیں اور ان کی بہادری و سرفروشی کے کارناموں کو عام کیا جاتا ہے۔
اے وطن کے پاسبان بیٹو!
جس انداز سے تم نے اس دھرتی ماں کی بحری سرحدوں کا دفاع کیا جس ادا تم سے دشمن کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار بنے کہ ایک طرف ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی منہ زور لہریں تو دوسری طرف تکبر میںبدمست مکار دشمن کے ہوائی حملے مگر اے طارق بن زیاد کے جانشینوں ! جس انداز سے تم دشمن کے سامنے ڈٹ گئے اوردشمن کی ساری تدبیروں کو سمندر کی گہرائی میںدفن کردیا۔اس پر ساری قوم تم سب کی عظمتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
تمہاری سرفروشی کی بدولت آج ہمارا سبز ہلالی پرچم اپنی پوری شان سے نہ صرف فضاﺅں میں لہرا رہا ہے بلکہ اپنی پھڑپھڑاہٹ میں تم سب کی یاد کے نغمے گا رہا ہے۔
اے وطن کے جانثار بیٹو!
وطن عزیز کی بنیاد میں تمہارا خون شامل ہے اور جیسے جیسے وطن پاکستان ترقی وتعمیر کی منازل طے کرے گا ویسے ویسے تمہاری قربانیوں کے نغمے مزید بلند ہوتے رہیںگے ۔ اورتمہاری یادیں بہار کے تازہ پھولوںکی طرح مہکتی رہیں گے اورتمہاری یادوں کی بھینی بھینی خوشبو سے ہم بھی شہادت کی منزل کا راز پاسکیں گے ۔ جس شاندار مقام پر تم سب براجمان ہو، ہم بھی اُسی گزر گاہ کے راہی ہیں۔ آج تمہاری تربتوں پر محبت کے گل دستے رکھتے ہوئے راہ منزل پر چلنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہیں۔
اے ۶ستمبر کے غازیو اور شہیدو! اے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کردینے والو! وطن کے کھلیانوں سے لے کر میدانوں تک ،جنگل وبیابان سے ریگستان تک، یہ آبشاروں کی رم جھم، دریاﺅں کی روانی ،بپھری لہروں کا اچھلتا پانی ،وطن کے دامن میں پھیلی وادیاں ،گلاب و لالہ کی شہزادیاں ، یہ گلستانوں میں نغمے گاتی بلبلیں ،یہ کھلے پھولوںپر جھلملاتی تتلیاں ،یہ سمندر کی لہروں پر تیرتی کشتیاں اورارض پاک کے گلی کوچوں کی رونقیں ،سکولوں کے میدانوں میں گونجتے ترانوں کا ترنم ،یہ سیرگاہوں کی رنگینیاں ،یہ لہلہاتی گیت گاتی فصلیں اور تو اورموہنجودڑواورہڑپہ کی ویرانیاں تک گویا ہرا یک چیز تمہاری عظمتوں کو سلام پیش کررہی ہے۔
ہرسال ۶ستمبر کا دن دفاع پاکستان کی یاد دلاتا ہے اورہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنے شیردل مجاہدوں ،عالی ہمت غازیوں اورشہیدوں کے کارناموں اورقربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ انہوںنے اپنے مقدس خون سے جس زمین کی آبیاری کی ہے اس مقصد کو پیش نظر رکھیں ۔ پاکستان کی علاقائی اورنظریاتی سا لمیت کا دفاع کریں اور اتحاد ،بھائی چارے اورنظم وضبط کا قابل تقلید نقشہ پیش کریں اور دشمن کے مقابلے میںسیسہ پلائی دیوار بن جائیں ۔چاہے فوج ہویا عوام سب یک جان ہوکر ملک کی سا لمیت کے لئے ہروقت کوشاں رہیں اوراس کو دنیا میں اعلیٰ و ارفع مقام دلانے میں اپنی کوششیں کریں تاکہ ہمارا ملک اس دنیا کے نقشے پر ایک مستحکم ،فعال اورناقابل تسخیر قوت بن کر ابھرے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں جرا¿ت وہمت اورعزم واستقلال عطافرمائے ۔آمین ۔

Scroll To Top