روہنگیا مسلمان اور مسلم اشرافیہ کی بے حسی

zaheer-babar-logoدفتر خارجہ کی جانب سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور جبری نقل مکانی کی خبروں پر برملا اظہار تشویش کیا گیا ۔ پاکستان نے میانمار کی حکومت پر زور دیا کہ وہ رخائن کے علاقے میں ہونے والی قتل و غارت کی تفتیش کروائے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کے علاوہ روہنگیا مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے۔وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں مسلمان اقلیتیں کے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے اور وہ بین الا اقوامی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ساتھ مل کر روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کام کرتا رہے گا۔
ادھر مغربی میانمار کے رخائن صوبے میں حکام نے روہنگیا مسلمانوں سے اپیل کی ہکہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ انتہا پسندوں اور دہشت گروں کو پکڑنے میں تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے روہینگیاسکیورٹی فورسز کو ان کے گاں میں داخل ہونے پر چیلنج نہ کریں۔ ایک ہفتہ قبل جب میانمار کی فوج نے رخائن صوبے میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک تقریبا 73 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی جانب بھاگنے پر مجبور ہوچکے۔ ادارے کے مطابق مزید پناہ گزین ابھی بھی بنگلہ دیش پہنچ رہے ۔پناہ گزینوں کے بعقول فوجیوں نے ان کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور ان پر فائرنگ کی جبکہ حکومت ان الزامات کی تردید کی۔
برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کوختم کرنے کی اپیل کی۔گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ۔میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں 2600سے زائد مکانات کو جلا دیا گیا ۔اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق تقریبا ساٹھ ہزار روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے اور امدادی کارکنان کو صورتحال سنبھالنے میں دقت پیش آرہی ۔
دوسری جانب جان بچا کر بنگلہ دیش بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں نے کہا کہ ان کے گھروں کو جلانے اور قتل و غارت کے واقعات کے پیچھے میانمار کی فوج کا ہاتھ ہے جو ان کو میانمار میں رہنے نہیں دینا چاہتی۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق کہ آگ میانمار کی فوج نے لگائی ۔ سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزاروں کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔
واضح رہے کہ رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا تقریبا ناممکن ہے کیونکہ صرف چند ایک صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ۔ستم ظریفی یہ کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار میں شہریت ملنے کا حق نہیں ہے اور صدیوں سے وہاں رہائش پذیر ہونےکے باوجود انھیں وہاں غیر قانونی شہری تصور کیا جاتا ہے۔ادھر نوبیل انعام پانے والی آنگ سانگ سوچی کی ناک کے عین نیچے روہنگیا مسلمان مسلسل جل رہے ہیں ان کو قتل کیا جارہا مگر بین الاقوامی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
تاٰریخی طور پر برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے بنگلہ دیش، بھارت، تھائی لینڈ، لاس اور چین کی سرحدوں سے لگتا ہے۔ برما کی تاریخ بھی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے زیادہ فرق نہیں۔روہنگیا، سابق ارکان اور موجودہ رخائن میں موجود مسلمان گروہ ہے جو خود کو عرب جہاز رانوں کی نسل سے بتاتا ہے۔ ان کی تعداد اندازا 10 لاکھ سے زائد ہے۔ 1982 کے برمی شہریت کے قانون کے مطابق روہنگیا 1823 کے بعد برٹش انڈیا کے کسی علاقے سے یہاں آئے لہذا وہ برما کے شہری نہیں ۔ یعنی نہ تو سرکاری تعلیم کی سہولت مل سکتی ہے نہ ہی سرکاری نوکری اور نہ ہی وہ عام شہری کی طرح آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ ان کو بنگلہ دیشی مہاجر سمجھا جاتا ہے اس کے برعکس بعض حوالوں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شاید 15 ویں صدی سے یہاں آباد ہیں۔ یہ دس لاکھ لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہے، جو کسی ریاست کے رہائشی نہیں۔ میانمار میں 1962 سے 2010 تک مارشل لا لگا رہا اور اس دوران کئی بار روہنگیا کے خلاف کریک ڈان کیا گیا۔ نوے کی دہائی میں کیے جانے والے کریک ڈان کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ واجح رہے کہ بنگلہ دیش کے علاوہ یہ لوگ، پاکستان، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی پناہ گزین ہیں۔
میانمار کی حکومت 'روہنگیا'کی بجائے انھیں بنگالی کہتی ہے اور وہاں یہ مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق بدھ قوم پرستوں کے شدت پسند رویے کے ساتھ ساتھ انھیں برمی فوج کی طرف سے، قتل و غارت، قید، بدسلوکی اور دیگر مظالم کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی انجمنیں ان مظالم کو 'انسانیت کے خلاف مظالم' قرار دے رہیں۔ مستند اطلاعات ہیں روہنگیا خواتین کی گینگ ریپ، عورتوں بچوں اور مردوں کو قتل کرنا، مساجد، سکول اور گھروں کو جلانا، فوج اور فوج کی سر پرستی میں جاری ہے، شاید یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جب روہنگیا، یا تو مر نہیں جاتے یا کسی اور ملک فرار نہیں ہو جاتے۔ بادی النظر میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار عملا امت مسلمہ کے اس تصور کی نفی کررہی ہے جو مسلم دنیا کے بعض حلقوں میں رومانوی حد تک موجود ہے۔

Scroll To Top