تقدیر تبدیل کرنے کا عزم 29-1-2012

kal-ki-baatگزشتہ دنوں صدر زرداری نے ایک عجیب سابیان دیا ہے جس میں یا تو لگتا ہے کہ ” اسرارِ خودی “ سمونے کی کوشش کی گئی ہے ' یا پھر ” رموزِ بے خودی “ ۔(علامہ اقبال ؒ کی روح سے معذرت کے ساتھ)
صدر زرداری صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر انہیں پورے پانچ سال کی ” مدت ِحکومت “ مل جائے تو وہ ملک کی تقدیر تبدیل کرکے رکھ دیں گے ۔ ایک شرط بھی انہوں نے اس ضمن میں رکھی ہے اور وہ یہ کہ بیورو کریسی ان کے ساتھ تعاون کرے۔
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ چار برس کے لگ بھگ کا وقت زرداری صاحب کا سنہری دور ِحکومت گزار چکا۔ گویا 80فیصد تقدیر ملک و قوم کی تبدیل ہو چکی۔ اب انہیں باقی بیس فیصد کی فکر ہے۔باقی بیس فیصد کے لئے ان کی خواہش ہے کہ بیورو کریسی ان سے تعاون کرے۔ یہاں انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بیورو کریسی سے ان کی مراد خواجہ جنید ' راﺅ شکیل اور خرم رسول جیسے لوگ ہیں جنہیں اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع نہیں دیا گیا ' یا پھر وہ افسران جو حاکمان ِوقت کے ” شوقِ ترقی“ میں برابر کے حصہ دار بننے کی شہرت رکھا کرتے ہیں۔
میرا خیال نہیں کہ ملک میں کوئی بھی طاقت ایسی ہے جو صدر زرداری کو قوم کی تقدیر کو تبدیل کرتے رہنے کے عزم و عمل سے روکنے میں دلچسپی رکھتی ہو یا روک سکتی ہو۔ انہیں ملک و قوم کو شاہراہ ترقی پر ایسے مقام تک لے جانے کا پورا پورا موقع ملا ہوا ہے جیسا مقام صرف ایسی ہی قیادتیں اور حکومتیں حاصل کرسکتی ہیں جیسی ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔

Scroll To Top