خطبہ حج میں مسائل کی نشاندہی

zaheer-babar-logoشیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتری نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور اسلامی تعلیمات دنیا بھر میں امن اور بھائی چارے کا حکم دیتی ہیں۔ میدان عرفات میں قائم مسجد نمرہ میں شیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتری کا کہنا تھا کہ اسلام نے برائی اور فحاشی کو حرام قرار دیا ہے، بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ کے احکامات کی پابندی کریں۔ خطبہ حج کے دوران شیخ ڈاکڑ سعد بن ناصر الشتری نے کہا کہ کسی کو رنگ و نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں جبکہ مسلمانوں کو اللہ کی عبادت ایسے کرنی چاہیے جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی۔“
ہر سال کی طرح اس بار بھی خطبہ حج میںمسلم دنیا کے مسائل کے تذکر کے علاوہ ان کا حل تجویز کرنے کی کوشش بھی کی گی۔ جج کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں دنیا کے کونے کونے سے مسلمان خانہ کعبہ میں جمع ہوکر ایک خدا ، ایک رسول ﷺ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے کا اقرار کرتے ہیں۔ اسے پیچاس سے زائد مسلمان ملکوں کی بدقسمتی سے تعبیر کرنا چاہے کہ وہ تاحال ایسا متفقہ لائحہ عمل ترتیب نہیں دے سکے جو ان کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی کرسکے۔
اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ مسلم اشرافیہ مسائل کی زمہ دار ہے۔ انفرادی اور گروہی مفادات کا اسیر یہ ٹولہ عام مسلمان کی حالت زار میں تبدیلی لانے کو تیار نہیں۔مسلمانوں کے مسائل کی بنیادی وجہ درجنوں ملکوں میں آمرانہ نظام کا ہونا ہے۔ نسل در نسل چلے آنے والے حکمران نہ تو غریب اور متوسط طبقات کے مسائل سے آگاہ ہیںاور نہ ہی انھیں حل کرنے کو تیار ۔ اس میں شک نہیں جابرانہ نظام نے درجنوں اسلامی ملکوں کو یوں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ اس سے آزاد ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
دین کہتا ہے کہ ہر حصول علم ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے مگر یہ حقیقت پوری طرح نمایاں ہے کہ مسلم ممالک میں بین الاقوامی معیار کی ایک بھی یونیورسٹی موجود نہیں۔ حکمران طبقہ ایسے اقدام اٹھانے کوکسی صورت تیار نہیں جس کو بنیاد بنا کر ہر مسلمان مرد وعورت حصول علم کی پیاس بجھا سکے۔ یاد رہے کہ عصر حاضر میںکوئی بھی ملک تعمیر وترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا جو جدید علوم وفنون کے حصول میں سنجیدہ نہ ہو۔
خطبے حج میں درست کہا گیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو امت کی ہدایت کیلئے دنیا میں بھیجا۔یقینا اللہ تعالی نے تمام امتوں کی رہنمائی کے لیے انبیا علیہ السلام بھیجے اور ہر نبی علیہ السلام نے اپنے امتیوں کو اللہ تعالی کی بندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی۔اب مسلمان چاہے کسی بھی ملک، رنگ اور نسل سے تعلق رکھتا ہو وہ پر امن رہے۔ دراصل باعمل مسلمان کسی کے ساتھ بھی ظلم و زیادتی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ تاریخ گواہ کہ اسلامی تعلیمات کی بدولت دنیا بھر کے انسانوں میں بھائی چارا پیدا ہوا۔
آج مسلم دنیا کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے۔ جہالت اور پسماندگی کے نتیجے میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مناظر جابجا ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطبہ حج کے دوران یہ کہا گیا کہ مسلم ریاستوں پر حملہ کرنیوالوں کا اسلام سے تعلق نہیں۔ مذید یہ کہ معصوم اور نہتے شہریوں کو قتل کرنے والے اس دین کی تعلیمات کو فراموش کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں جو خالصتا امن اور سلامتی کا دین ہے۔
خطبے حج کے دوران شیخ ڈاکر سعد نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نماز اور صبر سے مدد حاصل کریں۔بعقول ان کے وہ اللہ سے دعا گو ہیں کہ مسلمانوں کو ان کا پہلا قبلہ بیت المقدس واپس مل جائے۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتری نے فرمایا کہ تمام مسلم حکمران اللہ تعالی کا قرب حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں نصیحت کرتا ہوں کہ مسلمان تقوی اختیار کریں کیونکہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے متقی بندوں کو جنت میں داخل کرے گا۔“
بلاشبہ مسلم نشاط ثانیہ کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب مسلمان خود احتسابی کو اپنا شعار بنائیں ، ان کمزوریوں کا ادراک کیا جائے جو مسلم سماج کو مشکلات کے بھنور سے نکال سکے۔ اپنی ناکامیوں کا زمہ دار دوسروں کو قرار دینا ہرگزصحت مندانہ رجحان نہیں۔دراصل کسی میدان میںکامیاب نہ ہونا حیران کن نہیں ، افسوس اس پر کرنا چاہے جب جدوجہد کو ترک کردیا جائے،حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرکے آگے بڑھنے کا جذبہ ماند پڑنا ہی حقیقی شکست ہے۔
مسلم اہل فکر ونظر کو بہتری کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں جہاں محدود وسائل مدنظر رکھنے ہیںوہی عام مسلمانوں کی اس منزل کی جانب بھی رہنمائی کرنی ہے جس تک پہنچے بغیر مشکلات نہیں ختم ہونے والی۔ کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کی طرح مسلم سماج میں بھی کشمکش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف وہ جدید زھن ہے جو جدید ٹیکنالوجی کا زیر استمال لاکر مسلمانوں کو تعمیر وترقی کے نئے جہان سے روشناس کروانا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ جہالت پرست ہیں جو لکیر کے فقیر ہیں اور کسی صورت خود کو بہتر بنانے کو تیار نہیں۔ قوی امکان ہے کہ آنے والے ماہ وسال میں اسلامی ملکوں میں قابل زکر بہتری آئے جو ان کے محفوظ اور خوشحال مسقبل کے لیے معاون ثابت ہو۔

Scroll To Top