سونگھنے کی حس؛ طویل سفر میں پرندوں کی اضافی رہنما

aاسکوپولی شیئر واٹر سونگھنے کی حس کی مدد سے اپنا راستہ تلاش کرتےہیں۔ فوٹو: فائل

 لندن: سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ پرندے سونگھنے کی حس کی مدد سے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔

پرندوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے دیکھا کہ جب اسکوپولی شیئرواٹر نامی پرندوں کی سونگھنے کی قوت سلب کی گئی تو انہیں بہت فاصلے پر اپنے گھر جانے میں مشکلات پیش آئیں۔ جرنل سائنٹفک رپورٹس کے مطابق  یہ تجربات اسپین کے جزیرے منارکو سے ان کے غذائی مقامات تک نوٹ کئے گئے ہیں۔ جن پرندوں کی سونگھنے کی حس سلب کی گئی انہوں نے اپنی غذا تک پہنچنے کے لیے 200 کلومیٹر تک درست پرواز کی لیکن واپسی میں وہ غلط زاویے پر مڑ گئے۔

اس پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اولیور پیگٹ نے تحقیق کی ہے اور انہوں نے بتایا کہ اس تجربے میں سونگھنے کی حس پرندے کے لیے گویا قطب نما کا کام کر رہی تھی اور جیسے ہی قوتِ شامہ کو بے اثر کیا گیا اس کا قطب نما کہیں غائب ہو گیا اور پرندہ بھٹک گیا۔

اس سے پہلے بھی ایسے کئی تجربات کیے گئے تھے لیکن اس تجربے میں پرندے کے نتھنے میں زنک سلفیٹ ڈال کر ان کے سونگھنے کی حس کو وقتی طور پر ختم کیا گیا تھا۔ تجربے میں 32 پرندوں کو 3 گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ یعنی زنک سلفیٹ سے پرندوں میں سونگھنے کی حس ختم کی گئی، دوسرے گروہ میں طاقتور مقناطیس لگایا گیا جب کہ باقی پرندوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان پرندوں کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی اور پرندوں میں چھوٹے جی پی ایس ٹریکر بھی لگائے گئے تھے۔ مقناطیس پہننے والے اور کسی تبدیلی سے نہ گزرنے والے پرندے آرام سے اپنے ٹھکانوں تک پہنچ گئے لیکن جن پرندوں کی سونگھنے کی حس روکی گئی تھی وہ اپنے راستے سے بھٹک گئے۔

لیکن ماہرین کے سامنے یہ سوال ہے کہ پرواز کے دوران پرندے آخر کس شے کو سونگھ کر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ اولیور پیگٹ کہتے ہیں کہ شاید یہ پرندے سمندر کی کھاری بو سونگھتے ہیں کیونکہ یہ سمندر کے قریب رہ کر پرواز کرتے ہیں لیکن حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ ایلباٹروس، پیٹرلس اور شیئرواٹر سمندر پر تیرنے والی الجی اور فائٹو پلانکٹن کی بدبو محسوس کرتے ہیں اور اس سے اپنی سمت متعین کرتے ہیں۔ شاید ہر سمندری راستے پر مختلف اقسام کی الجی ہوتی ہیں جن کی بو سونگھتے ہوئے پرندے اپنا راستہ تلاشتے ہیں اور اپنی سمت برقرار رکھتے ہیں۔

Scroll To Top