ہمارے ملک کے حکمرانوں کے نام اس فارمولے کے مطابق مسٹر کرپٹ ` مسٹرگوف اورمسٹر تھیف ہونے چاہئیں

aaj-ki-bat-logoجس قدر ڈھیٹ بے شرم اور بے اصول ہمارے ملک کا حکمران طبقہ ہے اس قدر ڈھیٹ بے شرم اور بے اصول لوگ چراغ لے کر ڈھونڈھنے سے بھی روئے زمین پر کسی اور جگہ نہیں ملیں گے۔

انگلینڈ کے ایک ڈرامہ نگار شیر یڈان کا ایک مشہور ڈرامہ ہے ۔
School For Scandal
یعنی سکینڈل کی درسگاہ ۔
اس ڈرامے کے تمام کرداروں کے نام ان کرداروں کی فطرت کے مطابق رکھے گئے ۔ مثلاً مسٹر سنیک یا مسٹر سکارپئین۔ جو مسٹر سنیک تھا وہ ناگ کی طرح کاٹتا ہے اور جو مسٹر سکارپئین تھا وہ بچھو کی طرح ڈنک مارتاتھا۔
ہمارے ملک کے حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا نام اس فارمولے کے مطابق مسٹر کرپٹ ` مسٹرگُوف یا مسٹر تھیف ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کچھ لوگ اس صلاحیت سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے۔ ضرور ہوں گے مگران کے ہاتھوں میں اختیارات کے قلمدان نہیں ہوں گے۔
مجھے یہ کالم لکھنے کی ضرورت خرم رسول نامی ایک فراڈیئے کے بارے میں۔۔۔یا پھر لاہورکے ایک سرکاری ہسپتال میں ہونے والی اموات کے متعلق شائع ہونے والی خبریں پڑھ کر محسوس ہوئی ہے۔
اگر میں اس ملک کا وزیراعظم ہوتا تو کم ازکم اتنی شرمندگی ضرورمحسوس کرتا کہ استعفیٰ دینے کی پیشکش کردیتا۔ اور اگر پنجاب کا وزیراعلیٰ ہوتا تو اگر خود استعفیٰ نہ بھی دیتا تو بھی کم ازکم محکمہ صحت کے کئی سربراہان کو اب تک برطرف کرچکا ہوتا۔
لیکن مجھ جیسے لوگ باہر بیٹھ کر میچ دیکھنے کے لئے پیدا ہوا کرتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر میں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ہوتا تو ویسا ہی ہوتا جیسے وہ ہیں!
( یہ کالم اس سے پہلے 26-01-2012کو بھی شائع ہوچکا ہے)

Scroll To Top