تُو تب بھی جانتا تھا کہ آدمؑ تیری نافرمانی کریں گے

aaj-ki-bat-logoجب بھی حج کا دن آتا ہے تو مجھے مارچ1999ءکا آخری ہفتہ یاد آئے بغیر نہیں رہتا۔۔۔ مجھے حج کئے تقریباً ساڑھے اٹھارہ برس گزرچکے ہیں۔۔۔ میرے ساتھ حج پر میری اہلیہ شمیم ` میری بیٹی اسمیٰ ` میرے ماموں زاد اقبال نعیم اور اس کی اہلیہ اور میرے خالوزاد تنویر اور اس کی اہلیہ ایک گروپ کی صورت میں گئے تھے۔۔۔

جو بات مجھے یاد آئے بغیر نہیں رہتی اس کا تعلق منیٰ میں قیام کی پہلی رات سے ہے۔۔۔ میرے خالوزاد تنویر کو ایک عرصے کے بعد زمین پر سونا پڑا تھا۔۔۔ وہ میری اہلیہ کا بھائی بھی ہے اور کراچی میں بڑا کامیاب کاروبار کرتا ہے۔۔۔ ہمیں سونے کے لئے جو جگہ ملی وہ قدرے ناہموار تھی ۔۔۔ تنویر بالکل میرے ساتھ تھا۔۔۔ کچھ دیر تک وہ پہلو بدلتارہا۔۔۔ پھر بے چین ہو کر اٹھ بیٹھا۔۔۔
” کیا بات ہے تنویر ۔۔۔؟“ میں نے پوچھا۔۔۔
” نیند نہیں آرہی بھائی جان ۔۔۔ زمین بڑی ناہموار ہے اور جسم کو چبھ رہی ہے۔۔۔ “ اس نے جواب دیا۔۔۔
” سو جاﺅ۔۔۔ حج کا مقصد ہی یہی ہے ۔۔۔ “ میں نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” ایک بات کہوں بھائی جان ۔۔۔؟ گناہ تو نہیں ہوگا ؟“ اس نے کہا۔۔۔
” کون سی بات ؟“ میں نے پوچھا۔۔۔
” اللہ تعالیٰ نے آدمی کو کتابنانے کا یہ اچھا طریقہ نکالا ہے۔۔۔“ اس نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
میں ہنس پڑا۔۔۔ اور بولا۔۔۔ ” کچھ لوگ فائیو سٹار حج بھی کرتے ہیں۔۔۔ مگر اصل حج یہی ہے۔۔۔ انسان کا حقیقی رشتہ زمین سے ہی ہے۔۔۔“
تنویر کی اُس بات میں کس قدر معصومیت اور سچائی تھی۔۔۔!
آدمی اگر جان لے کہ اس نے بالآخر مٹی میں جاکر مٹی بن جانا ہے تو کسی پاناما کیس کی سماعت کے لئے پانچ رکنی بنچ قائم نہ ہو۔۔۔ اور سپریم کورٹ کو کوئی جے آئی ٹی بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔۔۔
جب میں نے حج کیا تھا تو ساٹھ برس کے لگ بھگ کا تھا۔۔۔ اس سے پہلے میں کبھی حجاز مقّدس نہیں گیا تھا۔۔۔ کیوں نہیں گیا تھا اس کی وجہ آج میری سمجھ میں یہی آتی ہے کہ جب تک بلاوانہ آئے دل میں تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔۔۔
اور جب تڑپ پیدا ہوئی تو ایسی ہوئی کہ میں نے 2002ءمیں پہلا عمرہ کیا۔۔۔ پھر 2004ءمیں عمرہ کیا۔۔۔ پھر 2005ءمیں عمرہ کیا۔۔۔ پھر2007ءمیں عمرہ کیا۔۔۔ پھر 2012میں عمرہ کیا۔۔۔اب پھر مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں گھومنے کو جی چاہ رہا ہے۔۔۔ میں بڑا گنہگار آدمی ہوں۔۔۔ مجھے عشقِ الٰہی کا کوئی دعویٰ نہیں۔۔۔ عشقِ الٰہی کے لئے نبوت یا ولایت کا مقام چاہئے۔۔۔ خدا سے میرا ایک ہی رشتہ ہے۔۔۔ بندگی کا۔۔۔ غلامی کا۔۔۔ خوف کا۔۔۔ اس خوف کا کہ کہیں میرا کوئی گناہ اس کے طیش کا موجب نہ بن جائے۔۔۔
حجاز جانا مجھے اس لئے اچھا لگتا ہے کہ وہاں جاکر مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہی وہ فضائیں ہیں جن میں میرے آقا ﷺ سانسیں لیا کرتے تھے۔۔۔ اور یہی وہ گلیاں ہیں جن میں آپ ﷺ گھوما کرتے تھے۔۔۔ مجھے وہاں خالد بن ولیدؓ کے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔۔۔ مجھے وہاں وہ صدائے حق بھی سنائی دیتی ہے جس ﷺ نے کہا تھا۔۔۔” آج سے سارے مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔۔۔“
یا رب۔۔۔ تُو پھر مجھے وہاں کب بلائے گا؟ آج کے روز ساڑھے اٹھارہ برس قبل میں عرفات میں ہاتھ اٹھائے اور منہ آسماں کی طرف کئے کھڑا کہہ رہا تھا۔۔۔” یا رب وہ سارے گناہ معاف کر دے جو میں نے کئے ہیں۔۔۔ اور وہ گناہ بھی معاف کردے جو آج کی توبہ کے بعد مجھ سے سرزد ہوں گے۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ میری توبہ میں کتنا دم خم ہے ۔۔۔ مگر تُو جانتا ہے۔۔۔ تُو تب بھی جانتا تھا کہ آدم ؑ تیری نافرمانی کریں گے۔۔۔!“

Scroll To Top