پاکستان کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں !

zaheer-babar-logoڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی میںپاکستان کو جس طرح ہدف بنایا گیا اس کی توقع ملک کے بیشتر باخبر حلقے پہلے سے کررہے تھے۔سی پیک کی شکل میں پاکستان اور چین کے درمیان جس تیزی سے تعلقات میں تیزی آئی وہ امریکہ کے علاوہ بھارت کو بھی کسی صورت قبول نہیں۔ بظاہر اس رائے کو کسی صورت مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے کردار بارے امریکہ اور بھارت کے موقف میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ ٹرمپ نے جس طرح انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوںکو نظر انداز کیا اس پر ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں نے ناگواری کا اظہار کیا ۔ عالمی سطح پر چین نے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ٹرمپ کے موقف کو عملی طور پر مسترد کیا ہے۔ مثلا پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر امریکہ کی تنبیہ کے جواب میں چین نے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برداری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں لہذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستانی اقدمات کو سراہا جائے۔ چین نے کا موقف ایسے موقعہ پر سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'
بعض سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ صدر نے پاکستان بارے جو لب ولہجہ اختیار کیا وہ کسی طور پر سفارتی آداب سے مطابقت نہیں رکھتا۔ گماں یہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اردگرد بھارت نواز لابی اس انداز میں متحرک ہے کہ پاکستان کی قربانیوں کو یکسر مسترد کردیا گیا۔
ادھر دفترِ خارجہ نے امریکی صدر کی تقریر پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ افغانستان میں صورت حالات میں ابتری کی بنیادی وجہ بھارت کا اثر رسوخ بھی ہے جو پاکستان کے علاوہ علاقائی امن وسلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
ملک میں اعلی ترین سطح پر صدر ٹرمپ کے اس بیان پر غور وخوص کا سلسلہ جاری ہے کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔صدر ٹرمپ کے بعقول امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔“
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکی صدر نے پاکستان بارے گاجر اور چھڑی کی پالیسی اختیار کی ہے ۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کرنے کا الزام عائد کرتے رہے تو دوسری جانب یہ بھی کہا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دیں اور مستقبل میں بھی وہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔“
اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا کہ امریکی صدر نے یہ بھی کہتے رہے کہ ”ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب وہ انھی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔“امریکہ صدر ٹرمپ کے سنگین الزامات کے جواب میں چین کا کہنا اہم ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔“یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر چین کی حمایت حاصل ہوئی ہے ۔ ماضی میں حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کے معاملے پر بھی چین پاکستان بارے ہر الزام مسترد کرتا چلا آرہا ہے۔
یقینا چین اقتصادی راہداری معاہدے کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے چین کے صوبے سنکیانگ کو راہداری کے ذریعے بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ سی پیک کے نتیجے میں نہ صرف جنوبی ایشیاءمیں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح تجارتی روابط بڑھیں گے۔ سی پیک کی اہمیت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چین کی جانب ایک سے زائد بار بھارت کو شمولیت کی دعوت دی گی مگر تاحال اس کی جانب سے انکار ہی کیا جارہا ہے۔
امریکہ ، بھارت اور اففانستان کو یہ سمجھ میں آجانا چاہے کہ پاکستان حقیقی معنوں میں افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ماضی کے اقدمات ایک طرف مگر اب دہشت گردی پاکستان کا نمبرایک مسلہ بن چکی۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دیں اور مستقبل میں بھی وہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے مگر اس کے لیے پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا جاناچاہے۔
افغانستان میں امریکی ناکامیون کی وجہ ہرگز وہ نہیں جو صدر ٹرمپ بیان کررہے ہیں۔ امریکہ کو سمجھ لینا چاہے کہ طالبان دراصل اپنے وطن کی آزادی کی جنگ لڑرہے جس میں انھیں افغان عوام کی بھی کسی نہ کسی شکل میں حمایت حاصل ہے۔ درپیش معاملہ اسی صورت حل ہوسکتا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کے جانے کا واضح طور پر ٹائم فریم دیا جائے۔

Scroll To Top