قانون کے محافظ پہلے قانون پڑھیں

  • isma_alakhbar2اسمآ احمد تارڑ

ملک میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس، جس کی جہاں تھوڑی سی چلتی ہے وہ چلا رہا ہے۔ کوئی کسی کی بات نہ سننے کو تیار ہے اور نہ ہی ماننے کو۔ جس کی حالیہ مثال کل کی وکلاءگردی ہے۔
کل جو کچھ بھی ہوا، جس طرح سے کالے کوٹ والوں نے ہائیکورٹ پر حملہ کیا اس سے ایک بات واضح تھی کہ ان تمام حضرات میں تمیز، تہذیب ، شعور اور تربیت کا سخت فقدان تھا۔ تعلیم کالفظ اس واسطے استعمال نہیں کیا کہ عقل، شعور اور تہذیب کا تعلیم یافتہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
بہت سے اَن پڑھ، جاہل بہت عقل وشعور رکھتے ہیں۔ اور اگر تعلیم کا تعلق واقعی تمیز، تہذیب سے ہوتا تو پھر وکلاءسے زیادہ تعلیم یافتہ کون ہو گا جن کا تو واسطہ ہی 24گھنٹے کتابوں سے رہتا ہے۔
بہت سے لوگ کل کے واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو حمایت کر رہے ہیں۔ جن میں وکلاءاور صحافی دونوں شامل ہیں۔ کچھ وکلاءصاحبان کا موقف یہ ہے کہ ہم جو چاہے گالم گلوچ کرلیں کہ وہ ہمارا حق ہے مگر کسی جج کویہ جرا¿ت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ہمیں سزا دے یا ہمارا لائسنس معطل کرے اور دنیا کی کوئی عدالت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور نہ ہی ہم کسی عدالت میں پیش ہوں گے۔ رو¿ف کلاسرا مانا کہ ایک بہت قابل صحافی ہیں اور جنوبی پنجاب کے حقوق کے لیے گاہے بگاہے آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر ان سے گزارش ہے کہ ہر چیز کو جنوبی پنجاب کے ساتھ منسلک کردینا بھی صحیح نہیں۔
کل اپنے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ چونکہ جنوبی پنجاب کے لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں اور ان کو بات کرنے کی تمیز نہیں لہٰذا جج صاحب کو بھی تھوڑی نرمی برتنی چاہیے تھی اور چیف جسٹس صاحب کو بھی اتنی زیادتی نہیں کرنی چاہیے تھی کہ پورا کا پورا بینچ اٹھا کر لاہور لے آئے۔
ان کی دوسری بات سے میں مکمل اتفاق کرتی ہوں مگر پہلی بات جو انہوں نے کہی اس سے مجھے اختلاف ہے۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکی ہوں کہ تعلیم کا تہذیب سے تعلق نہیں۔
اورچونکہ میں خود ایک وکیل ہوں اس لیے میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ میں نے بڑے بڑے بدتمیز وکیل حضرات دیکھے ہیں۔ چاہے وہ لاہور کے ہوں یا کسی اور علاقے کے اور جج صاحبان سے بدسلوکی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماتحت عدلیہ میں آئے دن ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔جب بھی کوئی جج کسی وکیل کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا ایسا ہی کچھ ہوتا ہے۔ اوراب تو بات اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان تک پہنچ چکی ہے۔
کچھ وکلاءکا مو¿قف یہ ہے کہ چونکہ متعلقہ جج صاحب اور چیف جسٹس صاحب دونوں کا رویہ ہتک آمیز تھا اس لئے ہم نے یہ قدم اٹھایا۔ مگر بات جو بھی ہو،جج صاحب کا رویہ مانا ہتک آمیز ہوگا۔ مگر یہ کوئی جواز نہیں کہ آپ کو عدالت بلائے اور پھرآپ ڈنڈوں سے عدالت پر حملہ کر دیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ وکلاءگردی کو تھوڑی لگام ڈالنی پڑے گی اور ان کو عدالتوں کے تقدس کا خیال رکھنا پڑے گا۔ اور جس جس نے کل عدالت پر حملہ کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ان سب کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کوجیل میں ڈالا جائے۔
آخر میں یہاں چھوٹی سی بات عرض کرنا چاہوں گی کہ جہاں جس ملک کا سابقہ نااہل وزیر اعظم پچھلے ایک مہینے سے عدلیہ کے فیصلے ماننے سے انکار کر رہا ہو اور ان کے خلاف غلط زبان استعمال کر رہا ہو، دھمکا رہا ہوکہ چاہے جو کر لو میں نہ تو عدالت کا فیصلہ مانوں گا اور نہ ہی پیش ہوں گا تو وہاں کی عوام اور خاص طور پر وکلاءکا کیا حال ہو گا؟

Scroll To Top