حکیم صاحب کا علاج اور جمہوریت 05-01-2012

kal-ki-baatیہ قصہ مجھے برادرم منو بھائی نے سنایا تھا۔ ایک مریض کسی حکیم صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ میر ا پیٹ خراب ہوگیا ہے کوئی دوا دے دیں۔ حکیم صاحب نے ایک پُڑیا میں اسے دوا دیتے ہوئے کہاکہ کھالو پیٹ ٹھیک ہوجائے گا۔ دوسرے دن اس مریض نے آکر شکایت کی کہ پیٹ مزید خراب ہوگیا ہے۔ حکیم صاحب نے پھر اسے دوا کی پُڑیا دی اور کہا کہ پیٹ خراب نہیں ہورہا صاف ہورہا ہے جو صحتیابی کے لئے ضروری ہے۔ تیسرے دن پھر مریض بھاگا آیا اور پیٹ کے مزید خراب ہونے کی شکایت کی ۔ حکیم صاحب نے پھر وہی دوا دی اورو ہی بات کی۔ اگلے روز مریض خود تو نہ آیا اپنا بھائی بھیج دیا جس نے حکیم صاحب کو بتایا کہ مریض کی حالت غیر ہوتی جارہی ہے۔ کوئی اور دوا دیں۔ حکیم صاحب نے پھر یہی کہا کہ پیٹ کا صاف ہونا لازمی ہے۔ اور پھر وہی پُڑیا دے دی۔اگلے چند روز تک نہ تو مریض خود آیا اور نہ ہی اس کا بھائی ۔ پھر اتفاق سے حکیم صاحب کی ملاقات مریض کے بھائی سے ہوگئی۔
” کیا حال ہے تمہارے بھائی کا ؟ “ حکیم صاحب نے پوچھا۔
” وہ تو انتقال کرگئے۔ “بھائی نے بڑے افسردہ لہجے میں جواب دیا۔
” جو اللہ کی رضا۔“ حکیم صاحب نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔ ” مگر اس کا پیٹ تو صاف ہوگیا تھا ناں۔؟“
مجھے یہ قصہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے وہ بیانات پڑھ کر یاد آرہا ہے جو وہ ہر قیمت پر جمہوریت کو بچانے کے عہد کی تجدید کے لئے دے رہے ہیں۔
جمہوریت شاید بچ جائے مگر پاکستان ۔ !
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر رہے !

Scroll To Top